شام میں اسد خاندان کی پانچ دہائیوں پر محیط حکمرانی کا خاتمہ کیسے ہوا؟

شام میں اسد خاندان کی پانچ دہائیوں پر محیط دور حکمرانی کا تب خاتمہ ہوا جب اپوزیشن فورسز نے ایک بڑی کارروائی کےبعد دارالحکومت دمشق پر کنٹرول حاصل کرلیا۔

اتوار کی صبح شام کے دارالحکومت دمشق میں داخل ہونے کے بعد اپوزیشن فورسز حیات تحریر الشام نے صدر بشار الاسد کے اقتدار سے شام کو آزاد قرار دے دیا۔

رپورٹس کےمطابق باغیوں کے دمشق میں داخل ہونے کےبعد معزول شامی صدر بشار الاسد دمشق سے فرار ہوگئے،جس کےبعد افواہیں سامنے آئیں کہ ان کا جہاز کریش ہوگیا اور ممکنہ طور پر بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے۔

تاہم بعد میں ان افواہوں نے دم توڑدیا جب روسی ذرائع س یہ خبر سامنے آئی کہ بشار الاسد ماسکو میں ہیں اور روس نے انہیں اہل خانہ سمیت سیاسی پناہ دی ہے۔

شام میں الاسد خاندان کی 53 برس کی حکمرانی کے اختتام کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جارہا ہے اور اسے 14 سال قبل عوامی احتجاج سے شروع ہونےوالی ایک خونریز خانہ جنگی کا نتیجہ خیال کیا جا رہا ہے۔

شام میں اپوزیشن جنگجوؤں کے ایک اتحاد نے 27 نومبر کو بشار حکومت کی حامی فورسز کےخلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا،اس کارروائی کے حت پہلا حملہ ادلب اور حلب کے درمیان فرنٹ لائن پر کیاگیا،اپوزیشن فورسز تین دن کے اندر شام کےدوسرے بڑے شہر حلب پر بھی قبضہ کرنےمیں کامیاب ہو گئیں۔

اسد حکومت کےخلاف اس مہم کی قیادت حیات تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی کررہے تھےجس میں ان کےساتھ نیشنل فرنٹ فار لبریشن،احرار الشام،جیش العزہ اور نور الدین الزنکی تحریک سمیت اپوزیشن کے دیگر گروہ بھی شامل تھے جب کہ ترکیہ کی حمایت یافتہ شامی نیشنل آرمی کے گروپس بھی اس کارروائی کا حصہ رہے۔

عرب میڈیا کا کہنا ہےکہ شاید پورا شام اپوزیشن کے قبضےمیں آچکا ہے تاہم اپوزیشن فورسز ابھی تک الاسد کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والےعلاقوں لتاکیہ اور طرطوس میں داخل نہیں ہوئی ہیں لیکن وہ حماہ،حمص اور درعا جیسے اہم شہروں پر قابض ہوچکے ہیں جو 2011 کے انقلاب کا نقطہ آغاز تھا۔

شامی فوج قنیطرا اور سویدہ میں بھی پیچھے ہٹ چکی ہےلیکن ان کی کوئی مؤثر مزاحمت دیکھنےکو نہیں ملی۔

عرب میڈیا کےمطابق شام کی معیشت پہلےہی بد ترین حالت میں تھی اور عوام کےلیے زندگی گزارنا مشکل ہوچکا تھا،جس سے حکومت غیرمقبول ہوچکی تھی، فوج اور پولیس اہلکار اپنی پوسٹیں چھوڑ کر بھاگ رہےتھے اور الاسد حکومت کو فوجی اور عوامی حمایت دونوں کی کمی کا سامنا تھا۔

روسی افواج یوکرین کی جنگ میں الجھی ہوئی ہیں اور ایران و حزب اللہ اسرائیلی حملوں سے متاثر ہیں جس کےباعث شامی فوج کو مدد نہ مل سکی۔

عرب میڈیا کےمطابق بشار الاسد کے ملک سے فرار ہونے کےباوجود پوری حکومت فرار نہیں ہوئی ہے، شام کے وزیر اعظم محمد غازی الجلالی دمشق میں موجود ہیں اور انہوں نے کہا ہےکہ وہ حکومت کے امور جاری رکھنے کےلیے موجود رہیں گے۔

 

 

شامی عوام کا ردعمل کیسا رہا؟

باغیوں کے کنٹرول سنبھالنے اور بشار الاسد کے ملک سے فرار کےبعد دمشق،حمص اور دیگر شہروں میں جشن کا سماں تھا۔لوگوں نے انقلابی پرچم لہرائے،ٹینکوں پر چڑھ کر خوشی کا اظہار کیا اور حافظ الاسد کے مجسمے گرادیے۔مساجد میں دعائیں کی گئیں اور عوامی مقامات پر لوگ جشن مناتے اور نعرےلگاتے رہے۔

اپوزیشن جنگجوؤں نے حکومت کے زیر انتظام جیلوں کے دروازے کھول دیے اور ضمیر کے قیدیوں کو رہا کر دیا۔حیات تحریر الشام نے اعلان کیا کہ صدنایا جیل میں "ظلم کے دور کا خاتمہ” ہوگیا ہے۔

بشار الاسد کے 24 سالہ دور اقتدار کا تختہ الٹنے والے ابو محمد الجولانی کون ہیں؟

اب شام کا کیا مستقبل ہے ؟

شام میں بشار الاسد حکومت کا تو خاتمہ ہوگیا تاہم اب آگےکیا ہو گا یہ ابھی واضح نہیں ہے، شامی وزیر اعظم الجلالی کا کہنا ہے کہ ان کی کابینہ عبوری حکومت کے قیام کےلیے اپوزیشن کےساتھ تعاون کےلیے تیار ہے، حیات تحریر الشام کےسربراہ الجولانی نے کہاکہ عوامی ادارے عبوری مدت کےدوران وزیر اعظم کے زیر نگرانی رہیں گے۔

ماہرین کاکہنا ہےکہ اگر تمام فریق تعاون کریں تو شام کےلیے بہتر مستقبل ممکن ہے۔

Back to top button