عمران خان کا انقلاب لانے کا خواب چکنا چور کیسے ہوا؟

عمران خان کی تمام تر کوشش اور خواہش کے باوجود ان کا ملک دشمن سوشل میڈیا بریگیڈ پاکستان میں سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش جیسا انقلاب لانے میں ناکام ہو گیا ہے، سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ پاکستان تیزی سے ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ عمران خان کی تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہو گئی اور اب دور دور تک کسی انقلاب کی امید نظر نہیں آتی۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ایک پائیدار، مستحکم اور باثمر انقلاب ، سوشل میڈیا کے طفلانِ کوچہ وبازار کے بس کی بات نہیں۔ یہ عمل ریاضت اور وقت مانگتا ہے۔ ایک پودے کو تناور درخت بننے کیلئے برسوں درکار ہیں جبکہ ایک برقی آرا اُسے چند لمحوں میں چیر کر رکھ دیتا ہے۔ انقلاب سیاسی ہوں یا تہذیبی، ثقافتی ہوں یا نظریاتی، فکری ہوں یا اخلاقی، ان کے لیے صبر آزما تدریجی عمل ضروری ہوتا ہے۔ زندگی ایک ایک سانس کیساتھ نمُو پاتی اور پروان چڑھتی ہے جبکہ موت کو صرف ایک ہچکی چاہئے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ 15 برس قبل، سوشل میڈیا کے بے ہنگم اور بے سمت ہیجان سے جنم لینے والی عرب سپرنگ نے تیونس، مصر، لیبیا، یمن اور شام میں حکومتوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اسکے 14 برس بعد جنوبی ایشیا کے تین ممالک، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کو بھی عوامی مظاہروں نے ہلا کر رکھ دیا۔ سات دہائیوں سے مختلف النّوع مسائل کا شکار سری لنکا، مسلسل معاشی بحران کی گہری دلدل میں دھنستا ہی چلا گیا۔ 1983ءسے 2009ءتک جاری رہنے والی چھبیس سالہ سول وار نے اِسکی کمر توڑ کر رکھ دی۔ سری لنکا سنبھلنے نہ پایا تھا کہ کرونا نے آلیا جس کے بعد اسکی معیشت مزید ناتواں ہو گئی۔ چنانچہ اس نے اپریل 2022 رسمی طور پر دیوالیہ ہونے کا اعلان کردیا۔
اس اعلان کیساتھ ہی عوام کیلئے روزمرہ زندگی کے ایک ایسے عذاب ناک جہنم کے دروازے کھل گئے جس کی تفصیل لرزا کے رکھ دیتی ہے۔ نہ بجلی، نہ پانی ، نہ ادویات، نہ اشیائے خوردونوش، نہ نقل وحمل، نہ پٹرول، نہ روزگار، احتجاج کی شدید لہر کا رُخ صدر گوٹابایا کی طرف مڑا۔ وہ سنگاپور فرار ہوگیا۔ سری لنکا کا کمال یہ ہے کہ سول وار ہو یا کچھ اور، اُس نے کبھی انتخابی عمل میں خلل نہیں پڑنے دیا۔ پارلیمنٹ قائم رہی اور سول حکومت ہر بحران کا سامنا کرتی رہی۔ دوسرا قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ سری لنکن فوج نے، سول وار اور سیاسی بحرانوں کے باوجود کبھی اقتدار پر قبضہ نہیں کیا۔ نومبر 2024ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد سے نیشنل پیپلز پاور کی راہنما، ’ہرینی امرسوریہ‘ سری لنکا میں وزارت عظمی پر فائز ہیں۔ سری لنکا مارچ 2023ء میں، آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج حاصل کر چکا ہے اور اس کے سنبھلنے کا عمل جاری ہے۔
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے انقلاب کا خلاصہ حسینہ واجد کی پندرہ برس پر محیط ظالمانہ، منتقمانہ اور فرعونانہ حکمرانی ہے جس نے سیاسی مخالفین کو پھانسیوں سے لے کر طویل قیدوبند کی اذیتوں سے گزارا۔ شیخ حسینہ نے برسراقتدار آتے ہی1971 کی جنگِ آزادی‘‘ میں کردار ادا کرنے والے خاندانوں اور اُنکے بچوں کیلئے سرکاری ملازمتوں میں 30 فیصد کا بھاری کوٹہ مقرر کردیا۔ اُس کیخلاف احتجاج ہوتے رہے۔ 2018ء میں اس کوٹے کو جزوی طورپر محدود کیاگیا لیکن جولائی 2024ءمیں ہائی کورٹ نے 30فی صد کوٹہ مکمل طورپر بحال کردیا۔ اس پر بے روزگاری سے اُکتائے نوجوانوں بالخصوص طلبا نے شُعلہ بار احتجاجی تحریک اٹھائی جسکے اہداف کا دائرہ وسیع ہوتا چلاگیا۔ مجیب الرحمن کی بیٹی نے تمام تر حربے آزمائے۔ صرف ایک ماہ میں ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک ہوگئے۔ حسینہ واجد نے 5 اگست 2024 کو استعفیٰ دیا اور بھارت جا بیٹھی۔ فوج نے معاملات کو سنبھالا دیتے ہوئے طلبہ تحریک سے مشاورت کے بعد ایک طریقِ کار وضع کیا۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے 8 اگست کو ’چیف ایڈوائزر‘ کے ٹائٹل سے عبوری حکومت کی سربراہی سنبھال لی۔ ڈاکٹر یونس نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ 2026ءمیں، رمضان سے قبل، انتخابات کی منصوبہ بندی کرے۔
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ نیپال کا سرکاری نام تو ’وفاقی جمہوریہ نیپال‘ ہے لیکن اُس کی پوری تاریخ سیاسی کشمکش، آتی جاتی حکومتوں، شاہوں اور سیاستدانوں کی کشمکش اور اقتصادی ابتری سے عبارت رہی ہے۔ حالات سے تنگ عوام کے ایک طبقے نے اوائل ستمبر 2024 میں کٹھمنڈو کی سڑکوں پر جلوس نکالے، نعرے لگائے کہ ہمیں بادشاہت واپس چاہئے۔ ادھر سوشل میڈیا کے بے مہار پن اور نت نئے بحرانوں سے تنگ حکومت نے یکایک سوشل میڈیا کی 26 مقبول ایپس بشمول یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بُک، وٹس ایپ، ایکس وغیرہ پر پابندی لگا دی۔ چنانچہ نیپال کی جنریشن زی نے شدید رد عمل دکھایا اور سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین نے سرکاری دفاتر پر حملے کیے، وزرا کو گھسیٹا اور دیکھتے دیکھتے دو درجن افراد کی جانیں چلی گئیں۔ فوج طلب ہوئی، کرفیو لگے۔ لیکن جنریشن زی‘ کا دباؤ بڑھتا گیا چنانچہ وزیر اعظم کے پی شرما نے استعفیٰ دیدیا۔ اس کے بعد فوج نے سابق چیف جسٹس سوشیلا کماری کو عبوری وزیراعظم بنا دیا۔ نیپال کی پارلیمنٹ توڑ دی گئی ہے اور مارچ 2026 میں نئے انتخابات ہو رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کی اسٹیبلشمنٹ سے کیا ڈیل ہوئی ہے؟
سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کے انقلابات سے پاکستان میں انقلاب کی امید جوڑنے والوں کے لیے خبر ہے کہ جنوبی ایشیا کے ان تینوں ممالک میں اس وقت سکُون ہے۔ سری لنکا مضبوط انتخابی اور پارلیمانی نظم کی بدولت سنبھل چکا ہے جبکہ نیپال اور بنگلہ دیش، نئے انتخابات کے منتظر ہیں۔ اسے محض اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف کامیاب تحریکِ عدم اعتماد اور سری لنکا کے دیوالیہ ہونے کے واقعات لگ بھگ ایک ساتھ رونما ہوئے۔ سو محرومی و مایوسی کے زخم خوردہ عمران کیلئے، سری لنکا کا دیوالیہ ہوکر شدید سیاسی واقتصادی بحران سے دوچار ہونا اور عوام کا سیاستدانوں پر چڑھ دوڑنا، ایک بڑا ہی دل خوش کن منظر بن گیا۔
عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد عمران خان کا ہدف یہ ٹھہرا کہ اگر مجھے پاکستان کو سری لنکا بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے ہیں تو اسے کسی نہ کسی طورپر دیوالیہ پن کی کھائی میں پھینکنا ہو گا۔ اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پاکستان کے زرِمبادلہ کی تجوری خالی ہوجائے اور وہ ضروری بیرونی ادائیگیاں نہ کرسکے۔ اس کیلئے دو نکاتی فارمولا وضع ہوا۔ پہلا یہ کہ آئی ایم ایف پر شدید دباؤ ڈالا جائے کہ وہ پاکستان کو قرض نہ دے۔ اس مقصد کیلئے خطوط نویسی، بیرونی سرپرستوں کے ذریعے ہمہ پہلو دباؤ، پاکستان کی صورتحال کے بارے میں شدید پراپیگنڈے، بیان فروش ارکان پارلیمنٹ کے بیانات حتی کہ آئی ایم ایف ہیڈکوارٹر کے سامنے فتنہ پرور مظاہروں کے حربے استعمال کئے گئے۔
پاکستانی خزانہ خالی کرنے کی حکمتِ عملی کا دوسرا اہم نکتہ سمندر پار پاکستانیوں سے اپیل کرنا تھا کہ وہ اپنی رقوم پاکستان نہ بھیجیں۔ لیکن پاکستان کے ماتھے پر ’’دیوالیہ پن‘‘ کی کالک تھوپ کر اپنے ذاتی وسیاسی اہداف حاصل کرنے اور عوام کو ناقابلِ تصوّر مسائل سے دوچار کرنے کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کیساتھ سات ارب ڈالر کا تین سالہ پروگرام طے کرلیا۔سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بڑھتی ہی چلی گئیں۔ عمران خان کا حیا باختہ سوشل میڈیا، اُنکے کسی کام نہ آیا۔ اسکے باوجود عمران خان سوتے جاگتے پاکستان میں بھی سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش جیسے انقلابوں کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔۔۔۔
