10اداروں کےقوانین میں ترامیم نہ کرنےپرآئی ایم ایف کے تحفظات

آئی ایم ایف نے 10 اداروں کے قوانین میں مطلوبہ ترامیم نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کرلی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے لیے دوسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں۔ حکومت نے اب تک کے مذاکرات پر اطمینان ظاہر کیا ہے تاہم فنڈ نے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کے کچھ اہم اہداف پورے نہ ہونے پر اعتراض اٹھایا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت آئی ٹی، تجارت، میری ٹائم افیئرز، ریلوے اور آبی وسائل سمیت 10 اداروں کے قوانین میں رواں سال جون تک ترامیم درکار تھیں، جو تاحال نہیں ہو سکیں۔ ان اداروں میں پورٹ قاسم اتھارٹی ایکٹ، گوادر پورٹ آرڈیننس اور کے پی ٹی ایکٹ 1980 شامل ہیں۔ پاکستان ٹیلی کام ری آرگنائزیشن ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ بھی اب تک شیئر نہیں کیا گیا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس نیشنلائزیشن آرڈر زیر غور ہے، واپڈا ایکٹ میں تبدیلیاں مؤخر کردی گئی ہیں، پاکستان ریلوے ایکٹ 1890 پر مشاورت جاری ہے، ایگزم بینک ایکٹ کا مسودہ تیار ہے مگر منظور نہیں ہوا جبکہ نیشنل بینک ایکٹ میں ترمیم کو ایس ڈبلیو ایف ایکٹ سے مشروط کیا گیا ہے۔
