اداکارہ عظمی خان مشکل میں، زنا اور منشیات کیس کا سامنا


ملک ریاض اور اداکارہ عظمی خان کے مابین 25 کروڑ روپے ہرجانے کے عوض تصفیہ کے بعد اب عثمان ملک، عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما خان کے خلاف زنا اور منشیات رکھنے کے الزامات پر مقدمہ درج کرنے کے لیے عدالت میں پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔
ایڈووکیٹ وقار احمد چیمہ اور اظہر محمود کھوکھر کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کو ایڈیشنل سیشن جج عمران جاوید گل نے منظور کرتے ہوئے مخالف پارٹیوں کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں جبکہ مقدمہ کی سماعت 10 جون 2020 کو ہوگی۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ آمنہ عثمان اپنے خاوند عثمان کے اداکارہ عظمیٰ خان کیساتھ ناجائز تعلقات ہونے کی گواہی دے رہی ہیں ، جس کے سچ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے لہذا موقع پر کوٹھی میں موجود تینوں افراد یعنی عظمی خان، اس کی بہن ہما خان اور عثمان ملک کے خلاف زنا کرنے اور منشیات رکھنے کے الزامات پر مقدمہ درج کیا جائے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مقدمہ ملک ریاض کے ایماء پر درج کیا جارہا ہے جن کے ساتھ عظمی خان نے 25 کروڑ روپے کے عوض معاہدہ کیا تھا اور ملک ریاض کی دونوں بیٹیوں اور آمنہ ملک کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لی تھی۔ ابتدائی طور پر ملک ریاض نے عظمی کو 5 کروڑ کی آفر کی تھی لیکن اسے منع کر دیا گیا تھا لیکن پھر قیمت بڑھنے اور قابل یقین لوگوں کے بطور گارنٹر سامنے آنے کے بعد 25 کروڑ میں ڈیل ہو گئی تھی۔ بعد ازاں مقدمہ کی ایف آئی آر واپس لینے کے لیے عدالت کو دی گئی درخواست میں عظمی خان نے موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے مقدمہ غلط فہمی کی بنیاد پر درج کروایا تھا۔ عدالت میں ہما خان نے اپنے بیان میں کہا کہ گلاس نیچے گر کر ٹوٹ گیا تھا اور اسکی وجہ سے انکے پاؤں میں چوٹ لگی۔ ، اس سے قبل دونوں بہنیں کہتی رہی تھیں کہ انہیں راڈ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن نئے موقف میں اداکارہ اور انکی بہن نے کہا کہ انہوں نے غلط فہمی کی بنیاد پر مقدمہ درج کروایا تھا۔
اس واقعہ کے بعد عظمی خان نے لاہور میں اپنے وکلاء کے ہمراہ ایک دھواں دھار پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ مقدمے کی پیروی کریں گی اور اس سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ 29 مئی 2020 کے روز انہوں نے ایسی افواہوں کی بھی تردید کی تھی کہ وہ ایف آئی آر واپس لے رہی ہیں۔ 30 مئی کے روز لاہور کی ایک مقامی عدالت نے ایف آئی آر میں نامزد تینوں خواتین کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے۔ تاہم 2 جون کے روز عظمی کی طرف سے مقدمہ واپس لینے کی درخواست لاہور کے متعلقہ تھانے میں جمع کروائی گئی۔ لہذا ایف آئی آر فوری طور پر منسوخ کر دی گئی۔
تاہم ایف آئی آر خارج ہونے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور دونوں کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے کیونکہ ان دونوں افسران نے نہ صرف مقدمہ درج کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا بلکہ انہوں نے ملک ریاض کی بیٹیوں کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی ایک چھاپامار پارٹی بھی آمنہ کے ڈیفنس والے گھر بھجوائی تھی۔
ایف آئی آر منسوخی کی درخواست دائر کرنے سے پہلے ایک ویڈیو پیغام میں عظمی خان کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ وہ اس وقت شدید دباؤ میں ہیں اور ان کو کہا جا رہا ہے کہ اگر انہوں نے کیس واپس نہ لیا تو ان کی جان کو بھی خطرہ ہے۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں، ورنہ کچھ مہینوں یا سالوں بعد بھی ان سے بدلہ لیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ عظمی خان نے ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف درج ایف آئی آر تو واپس لے لی لیکن انہوں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا اب وہ سچے ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف زنا اور منشیات کا کیس درج کروا کر وہ 25 کروڑ اب واپس لیے جائیں گے جو انہوں نے ملک ریاض سے ڈیل کرکے حاصل کیے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button