تحریک عدم اعتماد سے پہلے کپتان کا اپنی حکومت پر عدم اعتماد

معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان نے ساڑھے تین برس حکومت کرنے کے بعد اب نہ صرف خود کو ایک ناکام وزیراعظم تسلیم کرلیا ہے بلکہ اپنی کچن کیبنٹ کے اراکین وزیر خارجہ قریشی، وزیر خزانہ ترین، وزیر اطلاعات فواد، وزیر قانون فروغ اور دیگر کئی وزرا پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا کرتے ہوئے انہیں فیل کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرفارمنس رپورٹ کے مطابق خود وزیر اعظم کی اپنی کارکردگی بھی ناقص ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن 18ویں نمبر پر آئی یے اور اس کے انچارج وزیر خود عمران ہیں۔ یوں یہ تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو خود اپنی ناقص کارکردگی کا اعتراف کررہی ہے۔

 اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ وزرا کی کارکردگی اور ایوارڈز کے معاملے میں مراد سعید کی کردار کشی قابل مذمت یے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کی عزتیں اچھالنے کے لیے جن لوگوں کو استعمال کیا، ان میں مراد سعید سر فہرست ہیں۔ اسی طرح عمران کی اہلیہ سے متعلق غلط خبریں پھیلائی گئیں، جو اگرچہ مکافاتِ عمل کا حصہ ہے تاہم انکا حکومت کو یہ فائدہ بھی پہنچا کہ وزارتوں کی کارکردگی کی اصل بحث پس منظر میں چلی گئی۔ مثلاً عمران خان ہر روز ریاست مدینہ کا کارڈ بری طرح استعمال کررہے ہیں.

لیکن خود عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جو فہرست جاری کی ہے، اس میں وزارتِ مذہبی امور کی کارکردگی اس قدر ابتر ہے کہ وہ دوسری کیٹیگری میں بھی نہیں آسکی۔ حالانکہ اگر وزیراعظم سنجیدہ ہوتے تو نمبرون کارکردگی تو وزارتِ مذہبی امور کی ہونی چاہیے تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست مدینہ کا نام صرف اور صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اسی طرح خود عمران خان صاحب نے ان ایوارڈز کے ذریعے یہ فتویٰ صادر کردیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر خزانہ شوکت ترین کی کارکردگی ناقص ہے۔ اب جب وزیراعظم خود یہ اعتراف کرے کہ وزارتوں کی کارکردگی ناقص ترین ہے تو پھر خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں کی کامیابی کے دعوے کیسے درست ہو سکتے ہیں؟

بقول صافی، یوں یہ تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو خود اپنی وزارتوں کی کارکردگی کے ناقص ہونے کا اعتراف کررہی ہے۔ اب جو خود اپنی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرے، اگر اس حکومت کے خلاف بھی اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرانے میں کامیاب نہ ہو تو پھر اس اپوزیشن کے رہنما خود کو سیاستدان کہنا چھوڑ دیں۔

پاکستانی میڈیا میں بدتمیزی کے کلچر پر تبصرہ کرتے ہوئے سلیم صافی کہتے ہیں کہ یہ سب کیا دھرا عمران خان کا ہے۔ عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے اور بعد میں صرف ایک ہی کام کیا اور وہ تھا میڈیا کو بدتمیزی، گالی اور فتویٰ بازی کے راستے پر لگانا، اسے بےوقعت بنانا اور تقسیم کرنا۔ اس طرح میڈیا کی کریڈیبیلٹی ختم کی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں ملک کے اندر اور بیرون ملک سوشل میڈیا سیل بنائے گئے، جن کا کام مخالف سیاسی لیڈروں اور عمران کے نقاد اینکروں کی کردار کشی کرنا تھا۔

عمران کے سابق دوست محسن بیگ کو گرفتار کرنے کی اصل وجہ کیا ہے؟

اُن کی دیکھا دیکھی مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے بھی جواب کے لیے اپنے اپنے سیل بنائے۔ پی ٹی آئی نے شہباز گل، فیاض الحسن چوہان، مراد سعید، شبلی فراز اور فواد چوہدری جیسے لوگوں کو آگے کیا اور اپنی صفوں میں موجود سنجیدہ سیاستدانوں کو پچھلی صفوں میں دھکیل دیا چنانچہ جواب میں مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں میں بھی بدتمیزی کی زبان بولنے والے اہمیت اختیار کر گئے۔ اقتدار ملنے کے بعد پی ٹی آئی کو سرکاری وسائل بھی ہاتھ آئے۔

چنانچہ وزارتِ اطلاعات میں باقاعدہ سوشل میڈیا سیل بنایا گیا اور مخالفین کی کردار کشی کے لیے سرکار کے وسائل استعمال ہونے لگے۔ سوشل میڈیا ٹرولز کے کرتا دھرتا اعلیٰ سرکاری عہدوں پر لگا دیے گئے۔ صوبوں میں بھی اس عمل کو دہرایا گیا۔ مثلاً خیبر پختونخوا میں قبائلی اضلاع میں عوامی شعور پیدا کرنے کے لیے ستر کروڑ روپے کے فنڈز سے پی ٹی آئی کے ٹرولرز بھرتی کرائے گئے۔

صافی کہتے ہیں کہ اس عمل کے دستاویزی ثبوت میرے پاس موجود ہیں۔ یہ فنڈ قبائلی اضلاع کے نام پر خرچ ہو رہا ہے لیکن ان میں قبائلی نوجوان آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناقدین کی کردار کشی اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے سرکاری وسائل کو استعمال کرکے پی ٹی آئی سوشل میڈیا کا استعمال کس بڑے پیمانے پر کررہی ہے۔

جہاں تک مین اسٹریم میڈیا کا تعلق ہے تو حکومت ملتے ہی عمران خان نے ہر اخبار اور ہر ٹی وی چینل کو اپنی پارٹی کے اخبار اور اپنی پارٹی کے چینل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی اور جو اس کے لیے تیار نہیں ہوا، اس اخبار اور اس چینل کا چلنا مشکل بنادیا گیا، جس کی وجہ سے ہزاروں صحافی بیروزگار ہو گئے۔ اب تو محسن بیگ جیسے رازدان بھی گواہی دے چکے ہیں کہ کس طرح عمران خان نے میر شکیل الرحمٰن اور ڈان گروپ کے حمید ہارون کو پھنسانے کے احکامات دیے۔

صافی کے بقول عمران خان چاہتے تھے کہ ہر تجزیہ کار شہباز گل بن جائے، ہر کالم نگار منصور آفاق بن جائے اور ہر اینکر فواد چوہدری فواد چوہدری بن جائے۔ جو ایسا بننے پر تیار ہوا، اسے نوازا گیا اور جو اپنے اصولوں پر ڈٹا رہا، اس کا جینا حرام کردیا گیا۔ یہ سونامی سرکار ہی ہے کہ جس میں حامد میر، طلعت حسین، نصرت جاوید، نجم سیٹھی، ثنا بُچہ، عنبر شمسی، مرتضیٰ سولنگی اور اسی نوع کے دیگر صحافیوں کو ٹی وی اسکرینوں سے آئوٹ کردیا گیا۔

جو چند ایک ناقد بچے ان کا گالم گلوچ اور سوشل میڈیا ٹرولنگ کے ذریعے جینا حرام کردیا گیا۔ مطیع اللہ جان، اسد طور، ابصار عالم اور دیگر کو دوسرے طریقوں سے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے، اس کے ذکر کی ضرورت نہیں کیونکہ میں تب سے یہ برداشت کررہا ہوں جب آج زیر عتاب بہت سارے صحافی عمران خان کے سحر میں مبتلا تھے۔

سلیم صافی کے بقول یہ ساری تفصیل میں نے اس لیے بیان کی ہے کہ میڈیا کو میڈیا رہنے نہیں دیا گیا اور اصل ایشو پر توجہ دینے کی بجائے اب میڈیا میں بھی صرف اس پہلو پر توجہ دی جاتی ہے جو پی ٹی آئی کا کلچر ہے یعنی بدتمیزی۔

Back to top button