عمران خان کو GHQ حملہ کیس میں سزا کا امکان روشن

اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جی ایچ کیو راولپنڈی حملہ کیس کی کارروائی کے بائیکاٹ کے باوجود انہیں سزا ملنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان نے اس کیس میں اپنی پیشی ویڈیو لنک کی بجائے واٹس ایپ لنک پر کروانے کے خلاف کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کام قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے عمران کو فائدے کی بجائے سراسر نقصان ہوگا اور استغاثہ کو کیس کی کارروائی جلد از جلد مکمل کرنے کا موقع مل جائے گا۔

23 ستمبر کو جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان نے اڈیالہ جیل سے واٹس ایپ ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری دی تاہم کمزور انٹرنیٹ کنکشن کی وجہ سے عدالت میں ان کی موجودگی متاثر ہوئی۔ اس سے پہلے انسدادِ دہشت گردی کی راولپنڈی عدالت نے عمران خان کے خلاف استغاثہ کے 8 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ تاہم اس دوران عمران خان کے وکیل نے سماعت مؤخر کرنے کی استدعا کی تاکہ وہ عدالت کے اس حکم کو چیلنج کرسکیں جس کے تحت عمران کی پیشی ویڈیو لنک کے ذریعے ہونی ہے۔ یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی اس ہدایت کے بعد کیا گیا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان کی پیشی ویڈیو لنک پر کی جائے۔ عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی تھی لہذا 23 ستمبر کو عمران کو واٹس ایپ ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش کیا گیا لیکن انہوں نے اس کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔

اس سے پہلے 19 ستمبر کو جج امجد علی شاہ نے حکم دیا تھا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کی کارروائی عدالت میں ہو گی جبکہ عمران کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے لگائی جائے گی۔

جب عمران خان کے وکیل نے اس پر اعتراض کیا تو استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وکیل دفاع نے نہ تو اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے کوئی حکم امتناعی لیا ہے اور نہ ہی کسی فورم پر اپیل دائر کی ہے۔ چنانچہ عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ دوسری جانب وکیل دفاع عدالت سے باہر نکل گئے اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں واٹس اپ ویڈیو لنک کمزور ہونے کی وجہ سے عدالتی کاروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

یاد رہے کہ استغاثہ کی جانب سے جن آٹھ گواہوں نے عمران کے خلاف بیان ریکارڈ کروائے ہیں ان میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی سائبر کرائم ونگ کے تین افسران بھی شامل تھے۔ ان افسران نے عمران خان کے ایما پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے فوج مخالف ٹویٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کی تصدیق کی۔ اسلام آباد کے دو مجسٹریٹس اویس بھٹی اور عبداللہ خان نے بھی بیان دیا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں صداقت علی عباسی، واثق قیوم اور عمر تنویر بٹ کے بیانات قلمبند کیے تھے، جنہوں نے عمران خان اور پارٹی قیادت کے خلاف الزامات کی تصدیق کی۔

جی ایچ کیو کیس میں استغاثہ کے سربراہ راجہ اکرم امین منہاس کے مطابق اب تک 41 گواہان کے بیانات مکمل ہوچکے ہیں جبکہ باقی 9 گواہ آئندہ سماعت پر پیش کیے جائیں گے۔ اس کے بعد جرح کا عمل شروع ہو گا۔ عدالت نے حملہ کیس کی سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلی پیشی پر عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوتے ہیں یا اپنے بائیکاٹ کے اعلان پر کھڑے رہتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں صورتوں میں عمران خان کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں سزا ہونے کا قوی امکان ہے لیکن اگر ان کے وکلا نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا تو یہ سزا اور بھی جلدی ہو جائے گی۔

کیا پرویز الہی دوبارہ اپنی سیاسی وفاداری بدلنے والے ہیں؟

یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف جی ایچ کیو کیس میں دسمبر 2024 میں فردِ جرم عائد ہوئی تھی جبکہ رواں سال جنوری میں راولپنڈی پولیس نے انہیں اس کیس میں جیل سے گرفتار کرنے کے بعد باقاعدہ کارروائی شروع کی تھی۔

 

Back to top button