عمران خان کا دماغ خراب، ڈپریشن کی ادویات لینے لگے

چیئرمین تحریک انصاف قریبی ساتھیوں کی بے وفائی اور تنہائی کے باعث ڈپریشن کاشکارہو گئے ہیں جس سے چھٹکارے کیلئے عمران خان نفسیاسی عوارض کی ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ ایک طرف عمران خان کو اپنی ہی پارٹی تحریک انصاف میں مائنس ون کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں جبکہ دوسری جانب عمران خان کو عدالتوں سے ریلیف نہ ملنے اور جلد گرفتاری کا خوف بھی ستارہاہے جبکہ شاہ محمود قریشی بھی چیئرمین پی ٹی آئی کے ان اندیشوں کو ہوادے چکےہیں۔ جس کے بعد عمران خان شدید پریشانی سے دوچار ہیں اور وہ مختلف ادویات کے استعمال سے خود کو پرسکون رکھنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ان دنوں شدید ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہیں۔ نومئی کےواقعات میں ممکنہ گرفتاری، اہم رہنماؤں کا ساتھ چھوڑ جانا اور کچھ اہم مقدمات نے انہیں ذہنی طورپر پریشان کیا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق زمان پارک جو ہر وقت کارکنان اور لیڈران کی آمد و رفت سے بھرا رہتا تھا، اب وہاں چند وکلا کے علاوہ کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ اسلام آبادمیں عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ ایک ویران حویلی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ وہاں موجود چند ایک ملازمین اور سیکورٹی کے عملے کے علاوہ کوئی موجودنہیں ہے ۔ عمران خان نے زمان پاک کی ویرانی کے پیش نظر بنی گالہ جانے کا بھی پروگرام بنایا تھا لیکن ان کے بعض قریبی حلقوں نے انہیں وہاں جانے سے منع کر دیا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے ہے کہ عمران خان کو کہیں ٹیلی فون پر بات کرنا بھی مشکل ہورہا ہے۔ اب وہ کسی کو پیغام بھجوانے کے لیےکسی تیسرے شخص کا سہارا لیتے ہیں۔ اس پر انہی یہ بھی باور کرا دیا گیاہے کہ مستقبل قریب میں انہیں عدالتوں سے جس طرح ریلیف مل رہا ہے وہ بھی نہیں ملے گا جس سے ان کی گرفتاری کے امکانات بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ عدالتوں سے ریلیف نہ ملنے کے بارے شاہ محمود قریشی نے بھی انہیں اپنی رہائی کے بعد دوسری ملاقات میں وضاحت کے ساتھ بتادیا تھا۔
تحریک انصاف کے معتبر ذرائع نے بتایا کہ چیئر مین عمران خان ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہیں۔ اور وہ ڈپریشن بھگانے والی گولیاں کھارہے ہیں ۔مضبوط اعصاب کے دعویدار عمران خان اس وقت ذہنی پراگندگی کاشکار ہیں کیونکہ ان کے قریب ایساکوئی قابل اعتماد ساتھی نہیں ہے جس سے وہ کسی حوالے سے مشاورت کر سکیں ۔ان کے بعض طاقتور سہولت کار بھی ان سے رابطے نہیں کررہے۔زمان پارک کی رونقیں ختم ہو چکی ہیں اور ان کی بیگم بشری بی بی بھی زمان پارک میں کم قیام کرتی ہیں، وہ زیادہ تر گلبرک میں ہی رہائش رکھتی ہیں۔ تنہائی نے عمران خان کے پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت عمران خان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق استوار کرنا اور آرمی چیف سے ملاقات کرنا ہے وہ ہر طریقہ استعمال کرچکےہیں کہ کس طرح اسٹیلشمنٹ انکے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے بعض ایسی شخصیات نے رابطے کیے ہیں جن کا اثر رسوخ فوج کے با اثر ترین حلقوں تک ہے لیکن ان کی شنوائی بھی نہیں ہورہی۔انہیں یہ جواب دیاجارہاہے کہ جو شخص پاک فوج کو تقسیم کرنے کے درپے ہو اس پر کیسے اعتماد کیاجا سکتا ہے ۔پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے اور ہرقسم کے سیاسی اور لسانی تعصب سے بالاتر ہو کر ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہے ۔لیکن چیئرمین تحریک انصاف نے اس ادارے پر بے بنیاد الزامات لگا کر نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر پاک فوج اور اس کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ کوئی ایک بار نہیں کیاگیا بلکہ بار بار یہ عمل دہرایاگیا۔پاک فوج مکمل طورپر نیوٹرل ہے اور ماضی میں ادارے سے اگر کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ ملی ہے وہ افراد سے متعلق تھی اس میں پوری فوج شامل نہیں تھی۔تحریک انصاف کے ذرائع کہتے ہیں کہ عمران خان تو مذاکرات چاہتے ہیں لیکن پی ڈی ایم سے مذاکرات ا س وجہ سے نہیں کرنا چاہتے کہ اس میں ان کی سبکی ہے وہ کسی ایسے راستے کی تلاش میں ہیں جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ تاہم اس میں انھیں کامیابی حاصل۔ہوتی نظر نہیں آتی۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ عمران خان کے سہولت کاروں کیلئے بھی اب مسائل شروع ہورہے ہیں اورعدالتوں سے انہیں جو ریلیف مل رہےہیں ۔مستقبل میں ان کےامکانات بھی کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں آج بھی انہیں انکے بعض ہمدرد یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے مزاج میں تبدیلی لائیں اور فی الحال پارٹی کمان چھوڑ کر خاموش ہو جائیں۔کیونکہ ان پرکچھ ایسے خطرناک مقدمات قائم ہوچکے ہیں جن سے وہ چاہئیں بھی تو نہیں بچ سکتے اس لئے فی الحال پارٹی کمان چھوڑ کر صرف خود کو مقدمات تک محدود رکھیں یا پھر کس طرح ملک سے باہر چلے جائیں ۔آخری بات پر عمران خان قدرے راضی ہیں لیکن اس کے لئے جو شرائط پیش کی جارہی ہیں اس پر وہ راضی نہیں ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ توشہ خانہ ،فارن فنڈنگ اورالقادر ٹرسٹ سمیت دیگر اہم مقدمات
کیا ’بلیک مارکیٹ‘ سے ویزا اپوائنٹمنٹس خریدی جا سکتی ہیں؟
ختم کرنے کی ضمانت دی جائے تو پارٹی کمان چھوڑنے پر تیار ہیں۔
