عمران خان کی عید سے پہلے رہائی کی کوششیں بھی ناکامی کا شکار

وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈاپور کی جانب سے عمران خان کی ہدایت پر عید سے پہلے ان کی رہائی کے لیے شروع کی جانے والی کوشش نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو پائی چونکہ اسٹیبلشمنٹ کے فیصلہ سازوں نے اس مرتبہ گنڈاپور کو ہاتھ پکڑانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران جو ملک دشمن رویہ اپنایا اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ انکے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرنا چاہتی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود اپنا اور اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کا فوج مخالف بیانیہ بھی تبدیل نہیں کیا۔ لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ اب عمران خان کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے اور حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر پی ٹی آئی کا کوئی دباؤ بھی نہیں رہا جس کے زیر اثر عمران سے بات چیت کر کے انہیں ریلیف دی جا سکتی ہے۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، اگرچہ گنڈاپور اور ان جیسے پی ٹی آئی کے کچھ صلح جو رہنما پارٹی کیلئے معمول کی سیاست میں آنے کیلئے پس پردہ کوششیں کر رہے ہیں، لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان اور انکا سوشل میڈیا جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ عمران خان اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے فوج مخالف بیانیے سے اسٹیبلشمنٹ کو مذاکرات شروع کرنے کے لیے دباؤ میں لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ تاہم وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ اب پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو ان کے ساتھ مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تو فیصلہ سازوں نے عمران خان کی فوج مخالف ٹویٹس رکوانے کی کوششیں بھی ختم کر دی ہیں چونکہ ان کے خیال میں اب عمران کا بیانیہ غیر موثر ہو کر پٹ چکا ہے۔ ٹوئیٹر پر ایک حالیہ پوسٹ میں عمران خان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو براہ راست نشانہ بنایا۔ دوسری جانب، امریکا میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے بھی اپنی منفی مہم تیز کرتے ہوئے امریکا کے شہر نیویارک میں ٹائمز اسکوائر پر بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل بل بورڈز پر پیسہ خرچ کیا۔ پی ٹی آئی والے ان بل بورڈز کے ذریعے پاک فوج اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، وہ بھی ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کے ہاتھوں حالیہ جنگ میں شکست کھانے کے بعد بھارت عالمی سطح پر پاکستان کیخلاف سرگرم انداز سے مہم چلا رہا ہے۔

سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق یہ ایسے اقدامات ہیں جن سے پس پردہ اُن کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے جو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز اور تاجر حضرات عمران خان کو اور ریلیف فراہم کروانے کے لیے کر رہے ہیں۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین تنویر احمد کیخلاف بھی باتیں ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ وہ پاکستان کے بھلے کیلئے تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے ختم کرنے کی امید دل میں رکھے ماضی میں کئی مرتبہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر چکے ہیں۔

تنویر احمد نے حال ہی میں جیو نیوز کے نمائندہ مرتضیٰ علی شاہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انہوں نے عمران خان کو زہریلے سیاسی ماحول کے بارے میں کھل کر بتایا جس کے پیدا ہونے میں اُن کے بیانات نے بھی حصہ ڈالا ہے۔  انہوں نے سابق وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ پاکستانی قوم کے اتحاد کی خاطر پولرائزیشن کو کم کرنے میں مدد کریں۔ تنویر احمد کا کہنا تھا کہ دو ماہ پہلے اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات کے دوران عمران خان فکر مند نظر آئے کیونکہ انہیں جیل سے باہر ان کی جماعت کی جانب سے بنائے جانے والے فوج مخالف بیانیے کا علم ہی نہیں تھا۔  انہوں نے کہا کہ عمران خیساتھ بات چیت میں اتفاق ہوا تھا کہ مفاہمت اور قومی ہم آہنگی ضروری ہے اور دونوں فریقین کو اپنے سخت موقف سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔ تاہم انصار عباسی کے مطابق تنویر احمد کی عمران خان سے ملاقات کے بعد انہیں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے ٹرولنگ کر کے بدنام کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، جیل میں عمران خان کو گمراہ کیا گیا ہے کہ تنویر احمد نے ٹیلی ویژن چینلز پر اُن کیخلاف باتیں کی ہیں، پی ٹی آئی رہنماؤں نے جیل میں ملاقاتوں کے دوران عمران کے سامنے تنویر احمد کو دھوکے باز بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی، چنانچہ اب تنویر بھی عمران خان کو ریلیف دلوانے کی کوششیں ترک کر کے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

 عمران کو ریلیف دلوانے کی امریکی نژاد تاجروں اور ڈاکٹرز کی کوشش ناکام

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے اپنے فوج مخالف بیانیہ سے پیچھے نہ ہٹنے اور فیلڈ مارشل کیخلاف پارٹی کے بین الاقوامی چیپٹرز کی جانب سے چلائی جانے والی توہین آمیز مہم کے دوران پس پردہ کی جانے والی کوششوں کیلئے ماحول محدود ہوتا جا رہا ہے۔

حالیہ پیشرفت سے واقف ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ جب خلوص کیساتھ ہونے والی کوششوں کو بھی دھوکہ دہی بنا کر پیش کیا جائے اور پارٹی قیادت تحمل میں دلچسپی نہ رکھے تو بات چیت کی کیا گنجائش رہ جائے گی؟

رابطہ کرنے پر بیرسٹر سیف علی خان نے بتایا کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کسی حالیہ بات چیت کا علم نہیں، تاہم، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ، وہ خود اور پی ٹی آئی کے کچھ دیگر رہنما اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ اختلافات ختم کیے جا سکیں اور مسئلے کے پر امن سیاسی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔

Back to top button