سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے والا عمران مکافات عمل کا شکار

معروف صحافی اور تجزیہ کار رووف کلاسرا نے کہا ہے کہ عمران خان کو اپنے دور اقتدار میں صرف ایک ہی فکر لاحق رہی کہ وہ اپنے مخالفین کو فکس کیسے کریں‘ وہ دن رات یہی منصوبے بناتے تھے کہ اپنے کس سیاسی مخالف کو جیل میں بند کریں اور کس کو سیاست سے نا اہل کروائیں‘ لہٰذا مکافات عمل کے قانون کے تحت آج وہ خود جیل میں بند ہیں۔
اپنی تازہ تحریر میں رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی ان حرکتوں کو یہ کہہ کر جسٹی فائی کرتے تھے کہ میں نے اقتدار میں انے سے پہلے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ تمام چوروں اور لٹیروں کو گریبان سے پکڑ کر جیلوں میں ڈالوں گا لہذا وعدہ پورا کرنا ضروری ہے۔ ملکی معیشت اور عوام کی حالت زار بہتر کرنے کی بجائے عمران خان کے لیے اپنے عدالتیں‘ جج‘ نیب اور ایف آئی اے‘ اہم تھے۔ خان صاحب کا زیادہ وقت انہی ایشوز پر صرف ہو رہا تھا لہازا وزارت عظمی میں ساڑھے تین برس گزارنے کے بعد ان کی حکومت اور گورننس ناکام ہو چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالا گیا گیا تو موصوف انٹرویوز اور جلسوں میں یہ کہتے پائے گئے کہ اللہ کا شکر ہے کہ پی ڈی ایم نے ہمیں ہٹا دیا اور ہم مقبول ہو گئے‘ ورنہ ہماری حالت تو بہت ہی پتلی تھی۔
رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ عمران خان کے اپنے وزیر کہتے تھے کہ وہ دوبارہ الیکشن نہیں جیت پاتے اگر وہ اپنے پانچ سال اقتدار میں پورے کر جاتے۔ گورننس اور ڈِلیوری سے زیادہ ان کی توجہ سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کرنے اور میڈیا پرسنز کو جکڑنے پر تھی۔ اس کام میں وہ یقینا کامیاب رہے لیکن دیگر شعبوں میں حالات بدتر ہو رہے تھے۔ خان صاحب اب اپنے مقامی مخالفین کو فکس کرنے کے بعد اپنی توپوں کا رُخ عالمی سطح پر پاکستان کے دوستوں کی طرف کر چکے تھے۔ عمران خان کی وجہ سے پاکستان کے چین‘ امریکہ‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ یورپی یونین اور برطانیہ سے تعلقات خراب ہورہے تھے جس کے بعد فوج کو متحرک ہونا پڑا۔ یوں خان کو ہٹانے کی سوچ پیدا ہوئی کیونکہ انکے وزیروں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ وہ 2028 تک اقتدار میں رہیں گے۔ کچھ کہتے تھے کہ وہ 2032 تک حکومت میں رہیں گے۔ کئی ایک نے تو جنرل فیض حمید کو مستقبل کا آرمی چیف اور پوتن قرار دے دیا تھا۔ حالانکہ ابھی فیض کی بطور آرمی چیف تعیناتی کا دُور تک کوئی امکان نہیں تھا لیکن وہ پہلے ہی آرمی چیف بن کر گھوم رہے تھے۔ جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی ہونے کے ناتے وزیراعظم سے روز ملتے تھے اور ان کا ہر اچھا برا کام کر رہے تھے جبکہ ان کے سیاسی اور میڈیا ناقدین کا ناطقہ بھی بند کیا ہوا تھا لہٰذا وہ انہیں پسند تھے۔
رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ خان نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مارا۔ جو چار فوجی افسران سنیارٹی لسٹ میں جنرل فیض سے اوپر تھے‘ وہ پریشان ہوئے کہ اگر عمران خان نیا آرمی چیف ڈیڑھ سال پہلے ہی چن چکے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دیا جائے گا۔ دوسری طرف جنرل باجوہ بھی ناخوش تھے کہ ان کی توسیع کی تین سالہ مدت پوری ہونے سے ڈیڑھ سال پہلے ہی غیراعلانیہ نیا چیف مقرر کرکے ان کو کمزور کر دیا گیا تھا۔ انہیں عمران خان کے عزائم اچھے نہیں لگ رہے تھے۔ یہ بات فوجی قیادت کو ڈرا رہی تھی کہ خان صاحب ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے پنے نوجوان ورکرز کی ٹائیگر فورس بھی تیار کرلی جس کو وہ پاورز دے رہے تھے کہ وہ عوامی پولیس کا کردار ادا کریں۔ خان کے ذہن میں ان نوجوانوں کا استعمال کچھ اور تھا کیونکہ یہ خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ ان کے خلاف ہلچل مچ رہی ہے۔ حکومت سے نکالے جانے کے بعد ایک انٹرویو میں انہوں نے خود کہا کہ انہیں جولائی 2021ء میں ہی پتا چل گیا تھا کہ انہیں ہٹانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے ‘اس لیے جب جنرل فیض کو ہٹایا گیا تو وہ سمجھ گئے کہ ان کے خلاف آپریشن شروع ہو گیا ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ عمران خان سوشل میڈیا سے بہت زیادہ متائثر تھے لہٰذا وہ وہاں اپنے یا اپنی تیسری اہلیہ کے خلاف نہ تو کوئی بات پڑھ سکتے تھے‘ اور نہ ہی سن سکتے تھے۔ اب اس کا ایک ہی حل تھا کہ ایف آئی اے کے ذریعے سب مخالفین کو سبق سکھایا جائے لیکن ایف آئی اے کے پاس وہ قانونی اختیارات نہیں تھے جو عمران کو مطمئن کر سکتے۔ خان اپنے سوشل میڈیا ناقدین کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات چلانا چاہتے تھے لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس کام کیلئے آپ کو قانون بدلنا پڑے گا۔ یوں عمران خان نے 2016ء پیکا قانون نکالا۔ اس قانون کے مطابق فیک نیوز کے نام پر کسی بھی بندے کو چھ ماہ جیل میں رکھا جا سکتا تھا جس کی ضمانت تک نہیں ہو سکتی تھی۔ جب تک اس ایشو کا فیصلہ ہوتا‘ وہ بندہ جیل میں ہی رہتا۔ چاہے چھ ماہ بعد وہ خبر درست نکل آتی‘ اس سے انہیں کوئی غرض نہ تھی۔
رووف کلاسرا کے بقول عمران خان نے سوشل میڈیا کو ٹائٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور ان قوانین کو عوام کے سامنے قابلِ قبول بنانے کیلئے خود ٹی وی پر خطاب کا فیصلہ کیا۔ اپ ے خطاب میں خان نے تفصیل سے بتایا کہ کیسے سوشل میڈیا ایک خطرناک فورم بن چکا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ہر حکمران‘ جس نے بھی یوٹیوب یا سوشل میڈیا پر پابندیاں لگانے کا منصوبہ پیش کیا‘ اس نے یہ دو تین جواز ضرور پیش کیے۔ ایک مذہبی جواز تھا کہ وہاں بہت گستاخانہ مواد موجود ہے اور دوسرا فیک نیوز کا جواز تھا۔ اب یہ دونوں جواز ایسے ہیں‘ جس پر بظاہر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا لیکن ان کی آڑ میں دیگر سخت سزائیں بھی سوشل میڈیا سے متعلق قوانین میں ڈال دی جاتی ہیں جس سے متعلقہ اداروں کو مزید اختیارات ملتے ہیں۔ خان کو تو یہاں تک محسوس ہوا کہ نواز شریف نے اپنے دور میں سوشل میڈیا کرائمز پر کم سزائیں رکھی تھیں‘ اور اب انہیں بڑھانے کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کو تب بریک لگانے کی ضرورت تھی لیکن وہ سب کے ساتھ بگاڑ چکے تھے۔ وہ قومی میڈیا کے خلاف بھی روز تقریریں کرتے تھے‘ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ پھر انہوں نے ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ قومی میڈیا کی اہمیت اور اثر کو مزید کم کیا جائے۔
ٹرمپ کاممبئی حملوں میں گرفتار پاکستانی شہری کو بھارت کے حوالے کرنے کا اعلان
خان نے ٹی وی شوز کا مذاق اڑایا کہ اب انہیں کون دیکھتا ہے۔ اب تو ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز کا دور ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز بلائے جانے لگے۔ دھیرے دھیرے پی ٹی آئی نے ان ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز کو اپنے جال میں پھنسایا اور ان کے وی لاگ اور ریلز اپنے وٹس ایپ گروپوں اور فیس بیک پیجز پر پھیلانا شروع کر دیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ ویوز اور ویوز کے بدلے ڈالر مل سکیں۔ یوں پی ٹی آئی نے صحافیوں اور اینکرز کو ڈالر اکانومی سے جوڑ دیا کہ جو عمران کو مہاتما بنا کر پیش کرے گا اور ان کے مخالفین پر تبریٰ پڑھے گا‘ اس کے ری ٹویٹس بھی زیادہ ہوں گے‘ ویوز بھی زیادہ ملیں گے اور ڈالروں کی بازش بھی ہو گی۔ یوں اکثر اینکرز اور یوٹیوبرز نے صحافت کو خیر باد کہہ دیا۔ وہ جو دن بھر ذاتی محفلوں میں خان کی برائیاں کرتے تھے‘ رات کو ٹی وی شوز اور وی لاگز میں انہیں مہاتما بنا کر پیش کرتے کیونکہ پی ٹی آئی کے گروپ اور پیجز ان کو بزنس لا کر دے رہے تھے۔ یہ طریقہ ڈالر کمانے کا بہت بڑا بزنس ماڈل بن چکا تھا۔ ملک اور ملکی مفاد اب بہت پیچھے چلے گئے تھے۔ اب ڈالر کا حصول ہی واحد مقصد تھا۔ لیکن بالآخر اس کا نتیجہ عمران خان کے اقتدار سے بے دخلی کی صورت میں سامنے آیا۔
