جنگ میں خاموش رہنے والے عمران کی رہائی کے امکانات ختم کیوں ہو گئے؟

بھارت کے ساتھ پاکستان کی حالیہ جنگ کے دوران مسلسل خاموشی اختیار کرتے ہوئے بالواسطہ مودی سرکار کا ساتھ دینے والے عمران خان نے بظاہر سیاسی خودکشی کر لی ہے۔ عمران خان نے جس صدر ٹرمپ سے اپنی رہائی کی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں انہوں نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے بھارت کو جنگ بندی معاہدے پر مجبور کر دیا ہے۔ لہٰذا عمران خان اور ان کی جماعت نہ گھر کے رہے ہیں نہ گھاٹ کے۔
یاد رہے کہ پاک فوج کی دشمنی میں عمران خان اور انکے ساتھیوں نے بھارت سے جنگ کے دوران مسلسل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس دوران تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ اور عمران خان کے حمایتی یوٹیوبرز انڈیا کی بجائے پاکستانی فوج کا رگڑا نکالتے ہوئے اسے بزدلی کے طعنے دیتے رہے۔ خان کے حمایتیوں نے سوشل میڈیا پر یہ مہم چلانے کی کوشش کی کہ بھارتی حملوں کے بعد سے پاکستانی فوج بکری ہو گئی ہے۔ تاہم پھر پاک فوج کی جانب سے دشمن کو اتنا خوفناک جواب دیا گیا کہ اسے مزید تباہی سے بچنے کے لیے صدر ٹرمپ کی مدد حاصل کرنا پڑی۔ یہ حقیقت اب کھل کر سامنے آچکی ہے کہ جب پاکستان نے اپنی ایئر بیسز پر بھارتی حملوں کے بعد انڈیا کو جواب دینا شروع کیا تو مودی سرکار نے بچنے کے لیے ٹرمپ سے جنگ بندی کی ریکویسٹ کر ڈالی۔ لہذا امریکہ کی جانب سے فوری طور پر سیز فائر کروا دیا گیا۔
تاہم جیسے ہی جنگ بندی کا اعلان ہوا اور یہ تاثر قائم ہوا کہ پاکستان نے بھارت کو جوابی حملوں میں ناکوں چنے چبوا دیے ہیں، تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے پاک فوج کو مبارک بادیں پیش کرنا شروع کر دیں۔ لیکن تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ اس فتح پر خاموش ہے۔ پاک فوج کی جانب سے بھارت کا منہ توڑے جانے کے باوجود اڈیالہ جیل میں بند عمران خان بدستور خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔ نہ تو انہوں نے جنگ کے دوران پاکستان اور اس کی فوج کے حق میں کوئی ٹویٹ کی اور نہ ہی بھارت کی شکست کے بعد کوئی ٹوئیٹ ڈالی ہے۔
جنگ میں پاکستان مخالف مہم چلانے والے 500 اکاؤنٹسPTIکے نکلے
ویسے بھی پاک بھارت جنگ بندی معاہدے کے بعد عمران خان کی پیرول پر رہائی کے امکانات اور بھی تاریک ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعلی گنڈاپور نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ بھارتی ڈرون حملوں کے باعث اڈیالہ جیل میں قید عمران خان اور انکی اہلیہ کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں لہذا انہیں فوری طور پر پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ کسی محفوظ جگہ پر منتقل ہو سکیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی ہوگئی ہے تو اڈیالہ جیل پر ڈرون گرنے کا خطرہ ہی ختم ہو گیا ہے لہٰذا گنڈاپور کی درخواست کی بنیاد ہی منہدم ہوگئی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھارتی جارحیت کی آڑ میں قومی اسمبلی میں بحث کے دوران بار بار مطالبہ کیا تھا کہ عمران خا کو رہا کیا جائے۔ حالانکہ عمران خان نے بھارت کی مذمت میں کسی قسم کا کوئی بیان نہیں دیا تھا لیکن پھر بھی ان کے ساتھی اراکین اسمبلی کا مطالبہ تھا کہ انکے قائد کو رہا کرنے کے بعد آصف زرداری، شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے ساتھ بٹھایا جائے تاکہ پاکستان کے دشمنوں کو یکجہتی کا پیغام جائے۔ لیکن حکومت نے اس مطالبے کو نظر انداز کر دیا کیونکہ ایک تو قانونی طور پر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا اور دوسرا عمران خان مسلسل خاموشی اختیار کر کے براہ راست بھارت کا ساتھ دے رہے تھے۔ ایسے میں پاک فوج کے ہاتھوں بھارت کو شکست فاش ایک طرح سے عمران خان کی بھی شکست ہے اور اب ان کی جیل سے رہائی کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
