خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

کراچی میں خواتین کےخلاف تشدد کےخاتمےکےعالمی دن کی مناسبت سے ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کےتحت کراچی پریس کلب میں تقریب کا اہتمام کیاگیا۔

تقریب کےشرکا سےگفتگو کرتےہوئےٹریڈ یونین رہنما ناصر منصور کا کہنا تھاکہ 25 نومبر 1960 میں لاطینی امریکا کے ملک ڈومینک ریپبلک میں تین بہنوں کی اس وقت کےآمرکے خلاف جدوجہد اوراس کےنتیجےمیں ان کےقتل کو آج پوری دنیا ’بٹرفلائیز کی تحریک‘ کےطور پریاد کرتی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ڈومینک ریپبلک اورپاکستان کےحالات یکساں ہیں، یہاں بھی ایسی جدوجہد ناگزیرہے۔

 

احتجاج سے روزانہ 190 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے : وفاقی وزیر خزانہ

تقریب سےخطاب میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سب سےبڑی فیمینسٹ تحریک بلوچ تحریک ہے،جس کرب سےبلوچ عورت گزری ہےوہ ناقابل بیان ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی چیئرمین انسانی حقوق کمیشن اسد بٹ تھے جن کا کہنا تھا کہ ہم اپنی سوچ میں جاگیردار ہیں

دیگر مقررین میں انسانی حقوق کی رہنما سورٹھ لوہار، پروفیسر اصغر دشتی اور سول سوسائٹی رہنما مہناز رحمان شامل تھیں۔

Back to top button