کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا دوبارہ ملاپ ممکن ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے جلد گھر جانے کی افواہوں کے بعد دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ میں کم از کم قومی اسمبلی کی حد تک قربتوں میں تیزی سے آصافہ ہوتا نظر آتا ہے۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی مثالی قربت دیکھتے ہوئے اس امکان کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ شاید پیپزپارٹی دوبارہ پی ڈی ایم کا حصہ بن جائے، حالانکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے اس امکان کو رد کیا ہے۔ لیکن باخبر اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کونجیر باد کہنےبوالی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت کے مابین عمران حکومت کو گھر بھجوانے کے لیے پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی پارٹیوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات، لیگی رہنما شیخ روحیل اصغر کے روایتی عشائیے میں بلاول بھٹو زرداری کی اچانک آمد اور ن لیگی رہنماوں سے بے تکلفی اور سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے ن لیگ کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ رک جانے کے بعد اپوزیشن اتحاد میں یکسوئی کا عنصر واضح دکھائی دینے لگا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کی جانب سے پی ڈی ایم کا حصہ نہ بننے کا بیان دراصل نون لیگ اور مولانا فضل الرحمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے کہ اب وہ واپسی خے لیے انکی منت کریں کیونکہ انہوں نے خود پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو بے توقیر کر کے پی ڈی ایم سے نکلنے پر مجبور کیا تھا۔ پارلیمانی راہداریوں میں یہ چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ اپوزیشن اتحاد تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بھی ان ملاقاتوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پارلیمان کی حد تک یکساں جدوجہد پر اتفاق ہو چکا ہے اور قیادت مل کر ان ہاؤس تبدیلی کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
اردو نیوز کے مطابق اس بارے میں مسلم لیگ ن کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ’ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایوان میں حکومت کے خلاف یکساں موقف رکھتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر بھی باہمی بات چیت جاری ہے۔ عمران خان کو ہٹانے کے لیے ہم کسی سے بھی ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔
مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہا کہ ’اپوزیشن جماعتوں کے قائدین ان ہاؤس تبدیلی پر فیصلہ کریں گے۔ آئینی طریقہ یہی ہے کہ پارلیمنٹ قائم رہے اور ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے۔ حکومت اعتماد کھو چکی ہے پارلیمنٹ کے اندر ہی تبدیلی لائی جائے گی اور کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ان ہاؤس تبدیلی کا آپشن موجود ہے۔پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں مثالی اتحاد ہے۔ ان ہاؤس تبدیلی سے متعلق جلد متفقہ فیصلہ ہوگا۔
اپوزیشن کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اپوزیشن قیادت حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور جوں ہی حالات سازگار ہوں گے تحریک عدم اعتماد آ جائے گی اور کامیاب بھی ہوگی۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ سازگار حالات کیا ہوتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’صحافی کو تو پتہ ہوتا ہے کہ سازگار حالات کسے کہتے ہیں، یعنی جب گرین سگنل مل جائے تب حالات سازگار ہو جاتے ہیں۔‘ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا موقف بھی ن لیگ سے مختلف نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا کہ ’پی ڈی ایم سے نکلنے کے باوجود پیپلز پارٹی کا پارلیمنٹ کے فلور پر ن لیگ کے ساتھ رویہ ایک اتحادی کا ہی رہا ہے۔ دونوں جماعتوں کے پاس ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔ یقیناً سب کی خواہش ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے الگ کیا جائے کیونکہ ان کی موجودگی ملک کے لیے نقصان دہ ہے اور ان سے ملک چلایا بھی نہیں جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ہو یا پھر ان ہاؤس تبدیلی، یہ آپشنز موجود ہیں اور قیادت ہی فیصلہ کرے گی کہ ان آپشنز کا استعمال کب کرنا ہے۔ تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ ’دونوں بڑی جماعتیں اس معاملے پر غور و خوض میں مصروف ہیں۔
پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس 25 جنوری کو طلب
عمران خان کو اقتدار سے الگ کرنے کے سب سے بڑے حامی مولانا فضل الرحمان ہیں اور پارلیمان میں اپوزیشن جماعتوں کو دوبارہ متحد کرنے بھی مولانا کے کردار کا بار بار ذکر آ رہا ہے۔ اس حوالے سے جے یو آئی کا کہنا ہے کہ مولانا نے ہمیشہ اپوزیشن اتحاد کو جوڑنے میں کردار ادا کیا ہے اور اب بھی کہیں نہ کہیں ان کی رہنمائی موجود ضرور ہے۔ جے یو آئی کے رہنما حافظ حمد اللہ کے مطابق ’ناجائز حکومت کے خاتمے کے لیے ہر کوشش کا نہ صرف ساتھ دیں گے بلکہ اس میں قائدانہ کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
یاد رہے کہ اپوزیشن کی چھوٹی جماعتیں پہلے ہی پارلیمنٹ کے اندر قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے ہر متفقہ فیصلے کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ سال سینیٹ انتخابات کے دوران قومی اسمبلی میں اسلام آباد سے حفیظ شیخ کی شکست کے بعد وزیراعظم عمران کان نے رضا کارانہ طور پر قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ وہ قومی اسمبلی سے رضا کارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لینے والے دوسرے وزیراعظم ہیں۔ ان سے قبل نواز شریف نے 1993 میں سپریم کورٹ سے بحالی کے بعد ایوان سے رضاکارانہ اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔
پارلیمانی تاریخ میں دو وزرائے اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی جو ناکام ہوئی۔ یکم نومبر 1989 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد 12 ووٹوں سے ناکام ہوئی اور اگست 2006 میں شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی ناکام رہی تھی۔
