کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی بجائے کمیلا ہیرس امریکی صدر بننے جا رہی ہیں؟

امریکا میں 5 نومبر کو ہونے والے صدارتی الیکشن جیت جانے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو اب یہ خدشات لاحق ہو گئے ہیں کہ ان سے الیکشن ہارنے والی کمیلا ہیرس ان سے پہلے امریکی صدر بن جائیں گی۔

یاد رہے کہ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ موجودہ نائب امریکی صدر اور ڈیموکریٹک امیدوار  کملا ہیرس کو شکست دے چکے ہیں۔

امریکا کے انتخابی قوانین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کو امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ لیکن امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 47 ویں صدر کی بجائے 48 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں کیونکہ کمیلا ہیرس ان سے پہلے صدر بن سکتی ہیں۔

لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے سابق کمیونی کیشن ڈائریکٹر جمال سائمنز نے کہا ہے کہ موجودہ صدر جوبائیڈن قبل از وقت مستعفی ہوکر کملا ہیرس کو امریکا کا 47 واں صدر بننے کا موقع دے سکتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ وہ ٹرمپ کو نئے امریکی صدر کے عہدے کا چارج سونپیں۔ یوں کملا ہیرس کچھ ہفتے کے لیے ہی سہی لیکن امریکا کی صدر بن جائیں گی اور جو بائیڈن کو 6 جنوری 2025 کو اپنی شکست کے بعد ہونے والے انتقال اقتدار کی نگرانی نہیں کرنی پڑے گی۔

جو بائیڈن کی نو منتخب صدر ٹرمپ کو مبارک باد، وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی دعوت

خیال رہے کہ امریکا میں 6 جنوری کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹورل کالج ووٹوں کی گنتی ہونی ہے جس کی نگرانی نائب صدر کرتا ہے۔ امریکی صدر کے مستعفی ہونے کی صورت میں آئین کے تحت نائب صدر ملک کا صدر بن جاتا ہے، یوں جوبائیڈن کی مستعفی ہونے کی صورت میں کملا ہیرس باقی مدت کے لیے ملک کی 47 ویں صدر  بن جائیں گی اور اس طرح انہیں الیکٹورل کالج ووٹوں کی گنتی کے لیے ہونے والے اجلاس کی صدارت بھی نہیں کرنی پڑے گی۔

یوں اگر کملا ہیرس امریکا کی 47 ویں صدر بن جاتی ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 47 ویں نہیں بلکہ 48 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ تاہم ابھی دیکھنا ہو گا کہ جو بائیڈن وقت سے پہلے اپنے عہدے سے استعفی دیتے ہیں یا نہیں؟

Back to top button