کیا حکومت قلم کی تحریروالےکرنسی نوٹ منسوخ کرنے والی ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک خبر خوب وائرل ہورہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نے یکم جولائی سے ان کرنسی نوٹس کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن پر جن پر قلم سے کچھ لکھا یا نشان لگایا گیا ہو۔ تاہم اب سٹیٹ بنک نے ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے ایسے تمام دعوؤں کو مسترد کردیا جن کے مطابق ایسے کرنسی نوٹ جن پر قلم کے نشانات یا ہاتھ کی تحریریں ہوں گی وہ یکم جولائی 2025 کے بعد قابل استعمال نہیں رہیں گے۔

خیال  رہے کہ پاکستان میں کرنسی نوٹ نہ صرف کاروباری لین دین اور خرید و فروخت کا ذریعہ ہیں بلکہ بعض اوقات لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور روزمرہ عادات کا آئینہ بھی بن جاتے ہیں۔اکثر اوقات شہری نوٹوں پر لکھائی کر دیتے ہیں۔ دکاندار گنتی کے دوران حساب کتاب کے لیے نوٹ پر نمبر لکھتے ہیں جبکہ کچھ منچلے تو نوٹوں پر اشعار، پیغامات یا حتیٰ کہ اپنے نام تک لکھ دیتے ہیں۔آپ نے ایسے کئی نوٹ دیکھے ہوں گے جن پر کبھی کبھار شاعری، محبت کے پیغامات یا سیاسی نعرے لکھے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ رجحان عام ہے لیکن اس سے کرنسی نوٹوں کی خوبصورتی اور بعض اوقات ان کی قانونی حیثیت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

اسی خدشے کے پیش نظر گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایسی تحریروں سے آراستہ کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم تحقیق کرنے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ خبر جھوٹی اور من گھڑت ہے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل فیک نیوز میں لکھا گیا تھا کہ ’سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی 2025 سے پین سے لکھی گئی تحریر والے نوٹ قابل قبول نہیں ہوں گے۔‘دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایسی تحریر نوٹوں کی خوبصورتی کو متاثر کرتی ہے اس لئے یک جولائی سے ایسے نوٹوں کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وائرل جھوٹی کبر میں یہ بکی کہا گیا تھا کہ 30 جون 2025 تک ایسے نوٹ سٹیٹ بینک میں جمع کرائے جا سکتے ہیں ورنہ یک جولائی سے ایسے تمام نوٹ ناقابل استعمال ہو جائیں گے۔

تاہم اب سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس خبر کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرکزی ترجمان نور احمدنے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ایسی کوئی ہدایات یا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول ’سوشل میڈیا یا دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر اگر ایسی کوئی خبر گردش کر رہی ہے تو وہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ ہماری جانب سے کوئی نوٹیفکیشن یا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔‘

انہوں نے 2014 میں سٹیٹ بینک کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2014 میں سٹیٹ بینک نے کرنسی نوٹوں پر سیاسی نعرے لکھنے کے خلاف ہدایات جاری کی تھیں لیکن حالیہ دنوں میں پین سے لکھائی پر کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔حالیہ جھوٹی خبروں کے بعد ترجمان سٹیٹ بینک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کرنسی نوٹوں کو قومی اثاثہ سمجھیں اور انہیں احتیاط سے استعمال کریں تاکہ ان کی ساکھ اور حالت برقرار رہے۔

واضح رہے کہ ستمبر 2014 میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کرنسی نوٹوں پر ’گو نواز گو‘ لکھیں تاکہ نواز شریف کی حکومت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کیا جا سکے۔اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ ایسے نوٹ نہ تو بینک قبول کریں گے اور نہ ہی کاروباری برادری انہیں لین دین کے لیے استعمال کرے گی جبکہ سٹیٹ بینک نے واضح کیا تھا کہ کرنسی نوٹوں پر سیاسی نعرے یا تحریر لکھنا غیر قانونی ہے اور اس سے نوٹ کی قانونی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق کرنسی نوٹوں کو نقصان پہنچانے یا ان کی حالت خراب کرنے کے کچھ مخصوص طریقے ہیں جن سے وہ ناقابل قبول ہو سکتے ہیں۔ اگر کرنسی نوٹ کا بڑا حصہ جل جائے یا پھٹ جائے اور اس کی شناخت ممکن نہ ہو تو وہ ناقابل قبول ہوتے ہیں۔اسی طرح وہ نوٹ جن پر بڑا داغ، سیاہی، یا دیگر نشانات لگائے جائیں جو اس کی شناخت یا قانونی حیثیت کو متاثر کریں اس سے بھی نوٹ  استعمال کے قابل نہیں رہتے۔ اگر نوٹ کا آدھے سے زیادہ حصہ موجود نہ ہو تو وہ ناقابل قبول بن جاتا ہے۔سٹیٹ بینک اور کمرشل بینک ایسی صورت میں خراب نوٹوں کو تبدیل کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ عوام خراب یا ناقص نوٹوں کو کسی بھی کمرشل بینک یا سٹیٹ بینک کے دفاتر میں جمع کروا کر نئے نوٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

Back to top button