کیا پاک سعودی دفاعی معاہدہ آپریشن سندور کا نتیجہ ہے ؟

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہونے والا حالیہ دفاعی معاہدہ بھارت کی جانب سے پاکستان اور اسرائیل کی جانب سے قطر پر ہونے والے حملوں کا ثمر ہے۔ آپریشن سیندور شروع کرنے والی بھارتی فضائیہ کو نیست و نابود کر کے پاکستان نے ایک مؤثر دفاعی طاقت کے طور پر خطے میں اپنی دھاک کیا بٹھائی، سعودی عرب بھی اپنے دفاع کے لیے اس کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کو ملنے والی اس عزت کو دوام دینے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کامیابی کے اثرات ان 25 کروڑ مسکین پاکستانیوں تک پہنچائے جائیں جنہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ کر یہ سب ممکن بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں، یہ فقرہ آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ’’ہر ادارے کو اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے‘‘۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ کہنے والے کیا کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں، دراصل طاقت ور اداروں کا نام لیے بغیر کہا یہ جا رہا ہوتا ہے کہ پارلیمینٹ اور سویلین اداروں میں فوجی مداخلت بند کی جائے۔ ہم ہمیشہ سے اسی نظریے کے قائل تھے اور آج بھی ہیں۔ بہرحال،ایک اقرار ضروری ہے۔ ہم بھی ان لوگوں کے ہم خیال رہے ہیں جو سمجھتےتھے کہ ہمارے فوجی طرح طرح کے کام کرتے ہیں مگر اپنا کام یکسوئی سے نہیں کرتے۔ لیکن اب ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں کہ ہماری سوچ باطل تھی۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنا کام بھرپور طریقے سے کیا، بلا شبہ کیا اور عالی شان کیا۔ جو کام ان کے ذمے قوم نے اور آئین پاکستان نے لگایا تھا انہوں نے مثالی طور پر سرانجام دیا۔ اپنے تفویض شدہ کام پر عمل کرنے کی برکت دیکھیے، ہر طرف سے داد کے ڈونگرے برس رہے ہیں۔ بھلا ہو نریندر مودی کا، جس نے انجانے میں آپریشن سیندور سے اس انقلاب کی بِنا رکھی۔ اب ہم ایک نئی دنیا طلوع ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ جس دنیا کے ہم عادی تھے وہ زیر و زبر ہو رہی ہے۔ مغرب کی طویل فوقیت گریزپاہے۔ پچھلی پانچ صدیاں مغرب کی برتری کا زمانہ سمجھا جاتا ہے، اور اگر صنعتی انقلاب سے بھی ناپا جائے تو مغرب کی دو سو سالہ معاشی، علمی و سائنسی اور فوجی سبقت مسلمہ ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد مغرب نے ایک ورلڈ آرڈر ترتیب دیا تھا، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے یو این او اور نیٹو تک درجنوں ادارے اس ورلڈ آرڈر کی نگہبانی کرنے کیلئے تخلیق کیے گئے۔ لیکن اب یہ تمام ادارے زوال پذیر ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہم ایک بائی پولر دنیا میں رہے، اور سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد سے ہم ایک یونی پولر دنیا میں رہتے رہے، اب دنیا تیزی سے ملٹی پولر ہوتی جا رہی ہے۔ جن عناصر سے نئی دنیا تخلیق پا رہی ہے، مشرق ان میں برتری حاصل کر رہا ہے، مشرق کا غلبہ واضح دکھائی دیتا ہے، معاشی طور پر چین یورپی یونین سے بڑی معیشت بن چکا ہے، بھارت برطانیہ سے آگے نکل چکا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا نے سکیورٹی کا جو نظام یورپ سے مشرقِ وسطیٰ تک ترتیب دیا تھا اس میں بھی شگاف پڑ رہے ہیں۔ یورپ نئے سکیورٹی بندوبست کی تلاش میں ہے، اور مشرق وسطیٰ کو بھی کچھ ایسی ہی صورت درپیش ہے۔ عربوں نے اپنی سکیورٹی کا جو انتظام کیا تھا اس میں ایک درجن سے زیادہ امریکی فوجی اڈے، تیس ہزار امریکی فوجی، اور اربوں ڈالر کی تجارت شامل تھے۔ عرب محسوس کر رہے ہیں کہ یہ انتظام ناکام ہو گیا ہے۔ بہت عرصے سے سنتے تھے کہ چین دفاعی طور پر امریکا کے تعاقب میں ہے، مگر ابھی دہائیوں کا فرق ہے۔ لیکن یہ دہائیاں سمٹتی نظر آ رہی ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جنگی ہتھیاروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں چین جس اہلیت کا مظاہرہ کر چکا ہے، مغرب کو ابھی کرنا ہے۔ یونی پولر ورلڈ کے ڈرامے کا آخری سین چل رہا ہے۔ تاریخ کا یہ ورق الٹنے کو ہے۔
حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ ہمارا یونی پولر ورلڈ کا تجربہ بہت برا رہا جس میں ایک سپر پاور کی رعونت غیر ضروری جنگ و جدل کا باعث بنی۔ ایسے میں سوال یہ یے کہ کیا ملٹی پولر ورلڈ امن کا پیغام لائے گی؟ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ملٹی پولر دنیا میں انتشار کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم ملٹی پولر ورلڈ میں وقوع پذیر ہوئی تھیں۔ اس میں علاقائی طاقتوں کا اپنے خطے میں چودھراہٹ چمکانے کا شوق بڑھ جاتا ہے۔ آپریشن سیندور اور ایران و قطر میں اسرائیلی کارروائیاں اسی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
نیب نے فراڈ متاثرین کو رقم کی آن لائن ادائیگی کا آغاز کردیا
لیکن حماد غزنوی کے بقول اچھی خبر یہ ہے کہ دنیا کے سٹیج کا نیا ہیرو چین مزاجاً ان سپر پاورز سے مختلف ہے جو ہم نے اب تک دیکھی ہیں۔ چین کا نہ تو دنیا میں کوئی فوجی اڈہ ہے، نہ اسے کسی ملک پر بمباری کا شوق ہے، اور نہ حکومتیں الٹنے کا۔ یہ ہے وہ پس منظر جس میں بھارت نے آپریشن سیندور کیا، منہ کی کھائی، اور پاکستانی فوجی قوت کی دھاک بٹھا دی۔ اس جنگ نے چین کی عظیم فوجی طاقت کا پردہ بھی ہلکا سا سرکا دیا۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جانا ہوگا کہ پاک سعودی معاہدہ قطر پر اسرائیلی میزائیل حملے اور انڈین آپریشن سیندور کا ثمر ہے۔
