ٹرین ہائی جیکنگ حکومت کی ناکامی ہے یا سکیورٹی فورسز کی؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ وادی بولان کے بلند قامت پہاڑوں کے درمیان بچھی ریلوے لائن پر ایک سرنگ کے اندر چلتی ٹرین کو روک کر اسے ہائی جیک کرنا بہت سارے افراد کی کئی دنوں تک پلاننگ اور تربیت کے نتیجے میں ہی ممکن تھا جس پر عمل درآمد کیلئے بے تحاشہ سرمایہ درکار ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ دورِ حاضر کے جدید ترین آلات ہوتے ہوئے ریاست کو اس منصوبے بارے کوئی مخبری کیوں نہ ہوئی۔ یہ ناکامی حکومت کی ہے یا ریاست کی یا دونوں اداروں کی؟
اپنی تازہ تحریر میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ جعفر ایکسپریس پر قبضہ ہو گیا تو دہشت گردوں نے اپنے ’’کمانڈروں‘‘ سے بھی روابط استوار کئے جو کہ افغانستان میں موجود تھے۔ ایسے میں ان منصوبہ سازوں کی لوکیشن کا پتہ بھی چل گیا ہو گا۔ یہ سب جان لینے کے بعد ریاست کی اولین ذمہ داری ان کا تعاقب کرنا ہے جو دو درجن لوگوں بشمول فوجی جوانوں کو ٹرین میں ہی قتل کرنے کے بعد درجنوں افراد کو یرغمالی بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ یاد رہے کہ سکیورٹی ذرائع کے دعوے کے مطابق ٹرین کی ہائی جیکنگ میں ملوث تمام 33 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے فوجی آپریشن شروع ہونے سے پہلے 21 مسافروں کو قتل کر دیا تھا جبکہ ایف سی کے چار جوان بھی مقابلے کے دوران جام شہادت نوش کر گے۔
نصرت جاوید کے مطابق اہم ترین بات یہ ہے کہ ٹرین ہائی جیکنگ کا واقعہ پاکستان سے ایک مطلوب ترین داعش دہشت گرد کی امریکہ حوالگی کے فوری بعد پیش آیا۔ داعش کے مطلوب ترین دہشت گرد شریف اللہ جعفر کو 2001 میں کابل ایئرپورٹ پر خودکش دھماکے کی منصوبہ بندی پر گرفتار کیا گیا۔ اس حملے میں 13 امریکی فوجی اور 170 افغان شہری مارے گئے تھے۔ امریکی سی آئی اے شریف اللہ کا کئی مہینوں سے تعاقب کر رہی تھی۔ داعش کا یہ سرگرم رکن ایران کے شہر کرمان اور روس کے دارالحکومت میں تخریب کاری کی وارداتوں کے سرغنوں میں شامل تھا۔ ان وارداتوں میں بھی 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔
نصرت جاوید یاد دلاتے ہیں کہ شریف اللہ کی امریکہ حوالگی کے بعد صدر ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے اس کا خصوصی شکریہ ادا کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اس گرفتاری کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے کسی سنگین واقعہ کے لئے ذہنی طورپر تیار تھا۔ توقع باندھی کہ محض ایک میرا خیال تھا کہ ایک صحافی کے ذہن میں آنے والے خدشات کو ریاستی اداروں نے بھی محسوس کرتے ہوئے تیاری کر رکھی ہوگی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم اس واقعے کے لیے تیار نہیں تھے۔ شریف اللہ کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی کے بعد پاکستان کا حق بنتا ہے کہ امریکی جاسوس اداروں سے درخواست کرے کہ جعفر ایکسپریس کے اغواء کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے بارے میں معلومات ہمارے ادارے سے شیئر کریں۔
یاد رہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ جعفر ایکسپریس اغوا کرنے والے دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز افغانستان سے ان کے ساتھ سیٹلائٹ فون پر رابطے میں تھے۔ پاکستان مسلسل یہ الزام عائد کرتا آ رہا ہے کہ یہاں سے فرار ہو کر افغانستان میں پناہ لینے والے تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد مسلسل سرحد پار حملے کر رہے ہیں لیکن افغانستان کی طالبان حکومت انہیں روکنے کے لیے کوئی ایکشن نہیں لے رہی۔ پاکستان الزام عائد کرتا ہے کہ جنوبی افغانستان میں کئی مقامات دہشت گردوں کی تربیت گاہوں اور محفوظ ٹھکانوں کے طورپر استعمال ہورہے ہیں۔
دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا یے کہ ‘کسی کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کہ وہ پاکستان کے معصوم شہریوں کو سڑکوں پر، ٹرینوں میں بسوں میں یا بازاروں میں اپنے گمراہ کن نظریات اور اپنے بیرونی آقاؤں کی ایما پر اور سہولت کاری کے ذریعے معصوم لوگوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنائیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کا یہ واقعہ ’رولز آف دی گیم‘ کو تبدیل کر دے گا۔
انکا کہنا تھا کہ ’فورسز کے نشانہ بازوں نے پہلے خود کش بمباروں کو چن چن کر مارا اور پھر مرحلہ وار ٹرین کی ہر ایک بوگی کی کلیئرنس کرتے ہوئے وہاں موجود تمام دہشت گردوں کو مار دیا۔ فوج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ دہشت گردوں کی کل تعداد 33 تھی اور ان سب کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
