اسرائیلی آبادکاری منصوبہ غیر قانونی ہے، یورپی یونین اور جرمنی کا فوری روکنے کا مطالبہ

یورپی یونین، جرمنی اور ترک وزارتِ خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر فوری طور پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ روز اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرچ نے مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے سے الگ کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد "فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا” ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اسرائیلی فیصلے کے بعد یورپی یونین، جرمنی، ترکیہ اور دیگر کئی ممالک نے شدید ردعمل دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اس منصوبے کو فوراً ترک کرے۔
مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم اور قومی رہنماؤں کے پوسٹرز آویزاں
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاری کا منصوبہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ دو ریاستی حل کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
اسی تناظر میں، جرمن حکومت نے بھی اسرائیل سے مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اسرائیلی اقدام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرتا ہے، جبکہ خطے میں دیرپا امن کا واحد راستہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔
