حکومت میں آکر مولانافضل الرحمان کو بھولنے کی بات درست نہیں،سپیکر

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کاکہناہے کہ جےیوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھائیوں کی طرح ہیں، حکومت میں آکر بھولنے کی بات درست نہیں۔
اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہاکہ وہ مولانا فضل الرحمان کو عمرے کی مبارکباد دینے آئے تھے۔ ’مولانا فضل الرحمان بھائیوں کی طرح ہیں، حکومت میں آکر انہیں بھولنے کی بات درست نہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ امید پر دنیا قائم ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نیک نیت انسانوں کے لیے راستے بناتے ہیں، پاکستان کے لیے بہتری کی امید ہے اور انشااللہ بہتری کے لیے راستے بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے پہلے بھی بات ہوئی تھی، جب وہ تنظیم سازی اور جلسوں کے لیے سکھر گئے ہوئے تھے۔
سپیکر ایاز صادق نے کہاکہ ان کی خواہش تھی کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہو، تاہم ملاقات نہیں ہو سکی تھی، اسی لیے وہ عمرے کی مبارکباد دینے آئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں سپیکر ایاز صادق نے کہاکہ وہ مفاہمتی کوششوں کے حوالے سے پرامید ہیں۔گزشتہ دو تین سال میں بہتری کے راستے بنتے دیکھے ہیں اور انشااللہ اب بھی بہتری کے لیے راستے بنیں گے۔
سردار ایاز صادق نے کہاکہ کچھ مذاکرات وغیرہ چل رہے ہیں، بیک ڈور پر بھی کوئی بات ہوتی ہے، فون پر بھی بات چیت ہوتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے جو ساتھی ہیں، ان کے ساتھ بات ہوتی رہتی ہے اور ان کی سلامتی و رہنمائی کے لیے دعا ہے کہ اللہ کرے جو پاکستان کے لیے بہتر ہو، وہی ہو۔
ایک سوال پر کہ حکومت بنانے میں مولانا فضل الرحمان کا اہم کردار تھا لیکن ن لیگ حکومت میں آنے کے بعد مولانا کو بھول گئی، سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں، حکومت میں آکر بھولنے کی بات درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ صرف حکومت کی بات کر رہے ہیں، وہ میرے بھائی بھی ہیں، ان کے صاحبزادے میرے کولیگ بھی ہیں، میرے بھتیجے بھی ہیں۔
