جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائی کورٹ کےچیف جسٹس بننے کو تیار

سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے عمراندار ججز کی جانب سے شدید مخالفت کے باوجود لاہور ہائی کورٹ سے ٹرانسفر ہو کر جانے والے جسٹس سرفراز ڈوگر کے جسٹس عامر فاروق کی جگہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بننے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ سابق چیف جسٹس عامر فاروق نے سپریم کورٹ میں ترقی سے پہلے اسلام اباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کا موقف مسترد کرتے ہوئے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
دوسری جانب صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5ججز کے موقف کی تائید کر دی ہے۔ سینیارٹی سے متعلق 5 ججوں کے موقف کی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی جانب سے توثیق کے بعد جسٹس سرفراز ڈوگر کی بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ تقرری بے یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5ججوں کے مطابق لاہور ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہو کر اسلام آباد آنے والے جسٹس سرفراز ڈوگر کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں بطور جج حلف برداری کے بعد ان کی سینیارٹی کا تعین حلف کی تاریخ کی بنیاد پر ہونا چاہیے، اس لیے وہ سینیارٹی میں پہلے حلف اٹھانے والے ججوں سے جونیئر ہوں گے۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی سے پہلے سپریم کورٹ کو4 یوتھیے جج جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ چیف جسٹس کے نام خط میں سینیارٹی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججوں کے موقف کی تائید کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ میڈیا سے گفتگو میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اصولی طور پر سنیارٹی سے متعلق سپریم کورٹ کے چاروں سینئر ججوں کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ تاہم سنیارٹی کا فیصلہ جوڈیشل فورم نے کرنا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی جانب سے سنیارٹی لسٹ میں ترمیم کے خلاف دائر درخواست مسترد کردی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تفصیلی فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 200 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صدر پاکستان کو ایک جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں تبادلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ تبادلہ جج کی رضامندی اور چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد کیا جائے۔ اس لئے ججز کا دیگر عدالتوں سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلہ آئینی طور پر درست ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نئی تقرری یا وصول کنندہ عدالت میں جج کی سنیارٹی میں تبدیلی کی جائے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت کسی جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں منتقلی پر نیا حلف لینے کی ضرورت نہیں ہے، ایک بار جب کوئی جج اپنی اصل ہائی کورٹ میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیتا ہے، تو اس حلف کا اطلاق تبادلے پر ہوتا رہتا ہے، لہٰذا، پچھلی ہائی کورٹ میں جج کے پاس جو سنیارٹی تھی، اسے سنیارٹی لسٹ میں اپنی پوزیشن کو تبدیل کیے بغیر نئے ہائی کورٹ میں لے جانا چاہیے۔
مزید برآں، چیف جسٹس نے ماضی کے فیصلوں کا حوالہ دیا، جس میں بھارتی سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ بھی شامل ہے، جس میں ججوں کے تبادلے اور تقرری کے درمیان فرق کیا گیا تھا، بھارتی کیس کے فیصلے سے اس خیال کو تقویت ملی کہ تبادلے سے نئی تقرری نہیں ہوتی، اور جج کی اصل سنیارٹی اس وقت بھی برقرار رہتی ہے، جب انہیں کسی دوسرے ہائی کورٹ میں دوبارہ تعینات کیا جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے فریم ورک بالخصوص آرٹیکل 194 اور 200 میں نئے حلف یا سنیارٹی کی تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر ارادہ تبادلہ شدہ ججوں کی سنیارٹی کو دوبارہ ترتیب دینے کا ہوتا تو آئین میں اس طرح کی شق کو واضح طور پر بیان کیا جاتا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک بار کسی جج کی تقرری اور حلف لینے کے بعد اس کی مدت ملازمت ریٹائرمنٹ کی عمر تک جاری رہتی ہے، یا جب تک کہ انہیں ہٹا کر سپریم کورٹ میں ترقی نہیں دی جاتی یا ان کا انتقال نہیں ہوجاتا۔فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا کہ تبادلہ ایک طریقہ کار کا معاملہ ہے، جو جج کی بنیادی حیثیت یا سنیارٹی کو تبدیل نہیں کرتا، اس طرح، نظر ثانی شدہ سنیارٹی لسٹ، جس میں ججوں کو کم رینک میں رکھا گیا تھا، کو آئینی دفعات کے مطابق جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سنیارٹی کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے موقف میں تضاد کی وجہ سے نئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی تقرری متنازع ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رواں ماہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں دو ارکان جسٹس جمال مندوخیل اور پاکستان بار کونسل کے رکن اختر حسین نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی سنیارٹی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا تھا، انہوں نے جسٹس عامر فاروق کی سپریم کورٹ میں تعیناتی سے بھی اختلاف کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق 15 رکنی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اگلے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کرے گا، جس کیلئے 8 ووٹ درکار ہوں گے، حکومت کے اب تک چھ ووٹ ہیں، حکومت کے ہر اقدام کی تائید کرنیوالے جسٹس امین الدین خان اگر نامزد حکومتی امیدوار کی توثیق بھی کردیتے ہیں تب بھی حکومت کو اپنی مرضی کا چیف جسٹس لانے کیلئے ایک مزید ووٹ کی ضرورت ہو گی۔اسلام آباد بار کونسل کے نمائندے ذوالفقار عباسی کا ووٹ جسٹس ڈوگر کو ملنے کا امکان نہیں۔ تاہم اس کے باوجود جسٹس ڈوگر کو اسلام آبادہائیکورٹ لانیوالی حکومت ہر قیمت پر ان کی بطور چیف جسٹس تقرری یقینی بنانے کی کوشش کرے گی
