تنخواہوں میں اضافے پر خواجہ آصف اور ایاز صادق آمنے سامنے

تنخواہوں کے معاملے پر مسلم لیگ نون میں پھوٹ پڑ گئی ، ماہانہ سیلری میں 600فیصد سے زائد اضافے پر سپیکر سردار ایاز صادق اور وزیر دفاع خواجہ آصف آمنے سامنے آ گئے۔ تنخواہوں میں اضافے پر مسلسل تابڑ توڑ حملوں کے بعد سردار ایاز صادق نے جوابی وار کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کو شکایتی خط ارسال کر دیا جبکہ اضافی تنخواہ لینے سے بھی صاف انکار کر دیا۔ سپیکر ایاز صادق کے شکایتی خط کے بعد نون لیگ دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے جہاں ایک دھڑا تنخواہوں میں اضافے کو منصفانہ قرار دے رہا ہے وہیں دوسری جانب خواجہ آصف کے ہمنوا لیگی رہنما تنخواہوں کو کئی گنا بڑھانے کے عمل کو "مالی فحاشی”قرار دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں 634 فیصد اضافہ کرتے ہوئے ماہانہ تنخواہ 13 لاکھ مقرر کی گئی تھی جبکہ اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ 5 ہزار روپے مقرر تھی۔ جس پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سپیکر، ڈپٹی سپیکر چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں اور مالی مراعات میں بے تحاشہ اضافہ مالی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد مواقع پر بھی خواجہ آصف نے تنخواہوں میں اضافے پر سپیکر ایاز صادق کو ہدف تنقید بنایا تھا۔  وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے حالیہ دنوں میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی تنخواہ میں کئی گنا اضافہ کر لیا اور پھر ذمہ داری کسی اور پر ڈال رہے ہیں کہ فلاں نے بڑھائی، سیاست دانوں کو شاہانہ طرز زندگی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

 

تاہم اب سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے درمیان تنخواہوں کے معاملے پر اختلاف شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خواجہ آصف کی مسلسل تنقید کے بعد سردار ایاز صادق نے اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کو باقاعدہ خط لکھ دیا ہے۔ایاز صادق نے اپنے خط میں کہا ہے کہ میرا تنخواہ کے معاملے سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی دلچسپی ۔ سپیکر قومی اسمبلی نے واضح کیا کہ تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کا اختیار ہے، میں نے کبھی اس حوالے سے کوئی سفارش یا مطالبہ نہیں کیا۔ سپیکر ایاز صادق نے مزید کہا کہ بے شک میری تنخواہ مت بڑھائیں، ان کا اس حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے خواجہ آصف کی شدید تنقید کے بعد تنخواہ میں اضافے کا معاملہ وزیراعظم پر چھوڑ دیا جبکہ دوسری جانب ترجمان قومی اسمبلی نے وضاحت کی ہے کہ سپیکر کی تنخواہ میں اضافے کی سمری وزارت پارلیمانی امور نے بھجوائی تھی۔وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دی، پھر نوٹیفکیشن بھی وزارت پارلیمانی امور نے ہی جاری کیا۔ ۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ میں اضافے سے متعلق سمری وزارت پارلیمانی امور تیار کرتی ہے ۔ اس کا تعلق نہ ہی سپیکر قومی اسمبلی کے آفس سے ہے اور نہ ہی  س میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا عمل دخل ہوتا ہے ۔

 

ذرائع کے مطابق سپیکر نے خواجہ آصف کے الزامات کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا تاہم اضافی تنخواہ کا معاملہ وزیراعظم پر چھوڑ دیا ہے اب تنخواہ کے معاملے پر حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے ۔تاہم مبصرین کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے ایشو پر وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے جانے والے مکتوب کے بعد اس حوالے سے گیند اب وزیراعظم شہباز شریف کی کورٹ میں ہے ۔دیکھنا ہوگا کہ سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں ہونے والے اضافہ بارے خود اپنی صدارت میں کابینہ اجلاس میں منظوری کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اس پر نظرثانی کر پائیں گے اور کیا اس حوالے سے آنے والا کوئی بھی نیا فیصلہ صرف سپیکر ایاز صادق پر ہی لاگو ہوگا یا فیصلہ میں شامل چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات پر بھی اثر انداز ہوگا سینئر صحافی سلمان غنی کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر ایوانوں کے اندر وہ لوگ بھی تنقید کر رہے ہیں جنکی اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ہوا ہے تاہم سپیکر ایاز صادق کیلئے یہ فیصلہ اس لئے پریشانی کا باعث بنا کہ انکی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ پر تنقید خود انکی جماعت کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور سابق وزیر خواجہ سعد رفیق نے کی تھی اور خواجہ آصف نے سپیکر کی تنخواہ ساڑھے اکیس لاکھ ہونے پر اسے مالی فحاشی قرار دیا تھا جس پر وزیراعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیا تھا اور اسکے باوجود اس پر کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی تھی ۔ بعد ازاں خود وزیراعظم کے نوٹس پر بھی سپیکر قومی اسمبلی نے چپ سادھ لی اور وہ نجی محفلوں میں یہ کہتے نظر آئے کہ کسی جگہ بھی اپنی تنخواہ یا مراعات میں اضافہ بارے میری کوئی تجویز ریکارڈ پر نہیں البتہ اس پر میرے تحفظات فنانس کمیٹی کے ارکان کو معلوم ہیں ۔

داعش کمانڈر کی امریکہ حوالگی کے بعد پاکستانی فورسز پر حملے تیز

 

لہذا اب دیکھنا ہوگا کہ اس بارے خود وزیراعظم شہباز شریف کیا احکامات صادر کرتے ہیں اور کیا وہ اپنی ہی کابینہ سے منظور شدہ تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے اس عمل کو ایگزیکٹو آرڈر سے کم یا ختم کر پائیں گے یا پھر دوبارہ یہ معاملہ فنانس کمیٹی میں جائے گا اور پھر سے اضافے کا یہ عمل کابینہ کی منظوری سے مشروط ہوگا سلمان غنی کے مطابق بعض قانونی حلقے تو اس پرخود وزیراعظم کے اختیارات بارے بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ خالصتاً پارلیمنٹ کا مسئلہ ہے اور پارلیمنٹ کے فیصلوں پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہوتا لیکن چونکہ سپیکر و چئیرمین سینٹ کی تنخواہوں میں اضافےکی منظوری کابینہ سے لی گئی لہذا اب کابینہ ہی فیصلہ پر نظرثانی کی مجازہوگی دلچسپ امر یہ ہے کہ تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ سپیکر ایاز صادق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی سپیکر، ڈپٹی چیئرمین چاروں کا ہوا مگر ایشو صرف سپیکر ایاز صادق کا بنا اور صرف ایاز صادق ہی اس پر وضاحتیں دیتے اور تنخواہوں میں اضافہ میں عدم دلچسپی ظاہر کرتے نظر آ رہے ہیں لیکن باقی تینوں حضرات نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ انکے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ فنانس کمیٹی کی سفارش پر اس اضافے کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وزیراعظم کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔

Back to top button