وزیرارعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

ق لیگ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پرویز الٰہی کی زیر صدارت تحریک انصاف اور ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران یہ طے پایا ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کے الیکشن کو گورنر اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب متنازع قرار دے چکے، ڈپٹی اسپیکر نے گیلری میں الیکشن کروایا جس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ آئینی مسئلہ ہے اور جب تک واضح صورتحال سامنے نہیں آتی اس وقت تک الیکشن کو تسلیم نہیں کر سکتے۔

معاملات طے، نئی وفاقی کابینہ کےآج حلف اٹھانے کا امکان

دوسری جانب ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری پر حملے میں ملوث ملزمان کی شناخت کرلی گئی، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں چوہدری پرویزالٰہی کے امیدوار ، ان کے پرائیویٹ سکیورٹی چیف، سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی سمیت 15 اراکین پنجاب اسمبلی شامل ہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا ہے کہ جس طرح جعلی الیکشن کروایا اسی طرح کوئی جعلی گورنر ڈھونڈ کر جعلی حلف بھی لے لیں، ہم نے آئینی ماہرین کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اس غیر آئینی الیکشن کو چیلنج کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button