دنیا کا عجیب ترین قصبہ جہاں بیشتر گھر 2 ممالک میں واقع ہیں

دنیا کا عجیب ترین قصبہ جہاں جانے والے سیاحوں کو اکثر سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس ملک کی سرزمین پر موجود ہیں۔جی ہاں واقعی اس قصبے کے رہائشی جب بھی کسی کام کے لیے گھر سے نکلتے ہیں تو متعدد بار ایک سے دوسرے ملک کی سرحد کو عبور کرتے ہیں۔یہ ہے Baarle-Hertog جو نیدرلینڈز کی سرحد میں موجود بیلجیئم کا ایک قصبہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بیلجیئم کے علاقے میں ایک ڈچ قصبہ بھی ہے۔

اس چھوٹے سے قصبے میں سیر کرنا تو دنیا کے دیگر مقامات کی طرح کا ہی تجربہ ہوتا ہے، مگر جب آپ زمین کو دیکھتے ہیں تو پھر ذہن گھوم کر رہ جاتا ہے کیونکہ جگہ جگہ نیدرلینڈز اور بیلجیئم کی سرحدی لکیریں نظر آتی ہیں۔

درحقیقت ایسی 24 جگہیں ہیں جو دونوں ممالک کی سرحد کی حیثیت رکھتی ہیں۔

کئی مقامات پر تو سرحدی لکیر گھروں کے درمیان سے بھی گزرتی ہے، یعنی وہاں رہنے والے کھانا ایک ملک کے اندر بناتے ہیں اور اسے دوسرے ملک کے اندر کھاتے ہیں۔

اس قصبے میں ایک فرنٹ ڈور پالیسی کو اپنایا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا ملک وہ ہوگا جس جانب گھر کا باہری دروازہ کھلتا ہوگا۔

مگر کچھ جگہوں پر تو دروازوں کے درمیان بھی سرحدی لکیر موجود ہے تو

ایف آئی اے کیسے پرائیویٹ بزنس میں نام استعمال کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

وہاں اس پالیسی کا اطلاق کیسے ہوتا ہے، یہ سوال ذہن کو الجھا دیتا ہے۔

Back to top button