وسیم نے شوگر کے باوجود صحت مند زندگی کا راز بتا دیا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، معروف کمنٹیٹر وسیم اکرم نے شوگر کے مرض کے ساتھ صحت مند زندگی گزارنے کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ بروقت صحت مند ناشتہ بہت ضروری ہے، فاسٹ بائولر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ان کو صحت مند ناشتہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔فاسٹ باولر کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ میری ناشتے کی روٹین کیا ہے تو میں صبح ساڑھے6 بجے اٹھتا ہوں، انسولین کے 6 یونٹس لیتا ہوں، کافی پیتا ہوں، اس کے بعد اپنی بیٹی عائلہ کو چھوڑ کر واک کرنے جاتا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج میں نے ساڑھے آٹھ کلو میٹر واک کی ہے اور اب میں ناشتہ کرنے لگا ہوں جو میری خوبصورت اہلیہ شنیرا اکرم نے بنایا ہے۔وسیم اکرم نے بتایا کہ وہ ناشتے میں دہی، کیلے، بلیو بیریز وغیرہ لیتے ہیں اور یہ سب کھانے کے بعد وہ جم بھی جائیں گے۔ سابق کپتان کا کہنا تھا کہ اب میرے پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور سری لنکن بھائی یہ مت پوچھنے لگ جائیں کہ 36 نان اور کلو نہاری کیسے کھانی ہے کیونکہ میں وہ سب ناشتے میں نہیں کھاتا۔سابق کپتان کی جانب سے ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد صارفین کی جانب سے اس پر دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں، ایک صارف کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے ذیابیطس ہونے کے باوجود وسیم اکرم اتنے فٹ کیوں ہیں اس کی وجہ آج سمجھ آ گئی، 8.5 کلومیٹر پیدل چلنا اور اتنا کم کھانا پھر اس کے بعد وہ جم بھی جاتے ہیں یہی ان کی فٹنس کا راز ہے۔اتنا کم کھانے پر ایک صارف نے وسیم اکرم سے سوال کیا کہ آپ زندہ کیسے ہیں؟ایک ایکس صارف کا کہنا تھا کہ آپ سب کے لیے اور خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک مثال ہیں۔واضح رہے کہ وسیم اکرم گزشتہ 25 سال سے شوگر کا شکار ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً عوام کے لیے لائف سٹائل کے حوالے سے ویڈیو شیئر کرتے رہتے ہیں۔گزشتہ روز بھی انہوں نے پاکستانیوں کے لیے اہم پیغام جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اعدادوشمار کے لحاظ سے پاکستان شوگر کے مریضوں میں پہلے نمبر پر ہے اور یہ شوگر ٹائپ 2 انسانی زندگی کے انداز سے منسلک ہوتی ہے جس میں دیر سے کھانا، سونا جاگنا اور ورزش نہ کرنا شامل ہے اگر آپ کی عمر 25 سال یازائد ہے تو آپ سے ایک ٹیسٹ کرانے کی درخواست ہے جس سے شوگر ہونے یا نہ ہونے کا پتہ چل جائے گا۔ شوگر کا مسئلہ یہ ہے کہ انسان کو درد نہیں ہوتا اور اگر ہو تو دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

Related Articles

Back to top button