گنڈاپور کی گیم بن گئی، 68 اسمبلی اراکین کی حمایت حاصل

تحریک انصاف میں خیبر پختون خوا کی سیاسی صورتحال، گورنر راج کے خاتمے اور آئندہ کی حکمت عملی پر اختلافات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے 68 ارکان اسمبلی پر نئے وزیر اعلیٰ اور صوبائی صدر کی تبدیلی کی کوششوں کا الزام عائد کیا، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ان الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ ارکان کے نام اور شواہد سامنے لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے وفاقی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا اختیار بھی علی امین گنڈا پور کو دے دیا ہے۔ جس نے پارٹی کی فیصلہ سازی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 68 ارکان اسمبلی کے ایک گروپ نے سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم سے آخری دنوں میں رابطے منقطع کرکے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے تحقیقات مکمل ہونے تک کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے جنید اکبر کو صوبائی صدر اور علی اصغر خان کو ان کی غیر موجودگی میں قائم مقام صدر قرار دیا تھا۔ ان کے بیان نے پارٹی کے اندرونی اختلافات سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی۔

علی امین گنڈا پور نے سلمان اکرم راجہ کے بیان کو افسوس ناک، غیر ذمہ دارانہ اور پارٹی اتحاد کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر منتخب نمائندوں پر سازش کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں تو ان کے نام اور شواہد بھی سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے پارٹی سیکریٹری جنرل سے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس معاملے پر پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ردعمل اور ممکنہ تحقیقات کی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی نے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں گورنر راج کے خاتمے اور صوبائی حکومت کی بحالی کے لیے ممکنہ سیاسی اور مذاکراتی راستے اختیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا اہم آن لائن اجلاس 20 اکتوبر کی رات 10 بجے شروع ہوا اور 21 اکتوبر کی رات دیر تک جاری رہا۔ اجلاس میں شریک صوبائی اسمبلی کے 2 ارکان نے دعویٰ کیا کہ 60 سے زائد ارکان نے اس میں شرکت کی۔

تاہم چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارٹی میں اختلافات کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جماعت میں مکمل اتفاق ہے اور بانی پی ٹی آئی کے احکامات کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی ہی پارٹی کے وزیر اعلیٰ تھے اور وہی وزیر اعلیٰ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ارکان اسمبلی پارٹی کے وفادار ہیں اور خیبر پختونخوا کے ارکان کی جانب سے پارٹی کے خلاف جانے کا کوئی تصور نہیں۔

ادھر دستیاب معلومات کے مطابق پی ٹی آئی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کے لیے آئندہ 10 دنوں میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رابطے شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کا اعلان برقرار ہے اور محمود اچکزئی بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نامزد کردہ قائد حزب اختلاف ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے مذاکرات کی ناکامی کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کو دانستہ طور پر ناکام بنایا گیا۔

پارٹی کے اندرونی معاملات سے واقف ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی حکمت عملی اور لانگ مارچ کے لائحہ عمل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ علی امین گنڈا پور کو مذاکرات کی ذمہ داری دیے جانے کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ گنڈا پور ماضی میں وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی سرگرمیوں اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی قیادت کر چکے ہیں، تاہم ان کوششوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تھے۔

اس کے برعکس سہیل آفریدی نے 27 ستمبر سے 11 اکتوبر تک خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں اور اضلاع کے دورے کیے تھے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ان سرگرمیوں کے دوران لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کن پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس پر بعض کارکنوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے۔ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بھی پارٹی کی جانب سے احتجاج یا لانگ مارچ کی نئی تاریخ سے متعلق واضح حکمت عملی سامنے نہ آنے پر کارکنوں میں مایوسی کی اطلاعات ہیں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مذاکرات کی ذمہ داری علی امین گنڈا پور کو سونپنے، آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد اور اندرونی اختلافات کے معاملے پر پارٹی قیادت کس سمت آگے بڑھتی ہے۔

 

Back to top button