پنجاب حکومت بلدیاتی الیکشن سے کیوں بھاگ رہی ہے؟

الیکشن کمیشن کی بار بار کی ہدایت کے باوجود مریم نواز کی پنجاب حکومت بلدیاتی الیکشن کروانے کی بجائے اسے لٹکانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جس کی بڑی وجہ تحریک انصاف کی مقبولیت ہے۔ الیکشن کمیشن نے صوبے میں 14 دسمبر 2026 کو پولنگ کروانے کی تجویز دی تھی، لیکن پنجاب حکومت نے انتخابات اپریل 2027ء تک مؤخر کرنے اور تین مرحلوں میں کرانے کی درخواست کر دی یے جسے کمیشن نے مسترد کرتے ہوئے انتخابی شیڈول فوری جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پنجاب حکومت کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی ممکنہ کامیابی مسلم لیگ (ن) کی سیاسی پوزیشن، انتخابی مینڈیٹ اور مقامی سطح پر اس کے اثرورسوخ کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتی ہے۔ چنانچہ پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ دسمبر اور جنوری میں سموگ، شدید دھند اور سرد موسم کے باعث انتخابی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ فروری میں رمضان المبارک شروع ہونے کی وجہ سے بھی پولنگ کے انتظامات میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ حکومت کے مطابق اپریل میں چار، گیارہ اور اٹھارہ تاریخ کو تین مرحلوں میں انتخابات کرانے سے انتخابی عملے اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، پولنگ کا سامان پہنچانے اور انتظامی نگرانی میں آسانی ہوگی۔ تاہم الیکشن کمیشن نے ان وجوہات کو انتخابات مزید مؤخر کرنے کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب حکومت کے ساتھ 20 اگست کو ہونے والی مشاورت میں یہ طے پایا تھا کہ بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر 2026ء سے 15 جنوری 2027ء کے درمیان کرائے جائیں گے۔ اسی سلسلے میں کمیشن نے اکتوبر کے آغاز میں 14 دسمبر کو پولنگ کے لیے مجوزہ شیڈول صوبائی حکومت کو بھجوایا تھا، لیکن پنجاب حکومت نے بعد میں اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے اپریل میں تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کی تجویز دے دی۔ کمیشن نے حکومت کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور انتخابی عمل آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے پنجاب حکومت کو ضلعی ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کے لیے ناموں کی فہرستیں ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
تاہم پولنگ کی حتمی تاریخوں کا تعین باضابطہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد ہوگا۔ بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کے معاملے کو سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو مریم نواز حکومت کے لیے اصل تشویش یہ ہے کہ عمران خان کے حق میں پائی جانے والی ہمدردی اور تحریک انصاف کی حمایت کہیں انتخابی نتائج میں بھی ظاہر نہ ہو جائے۔
حکومتی حلقوں کو یہ ڈر ہے کہ اگر تحریک انصاف یا اس کے حمایت یافتہ امیدوار مختلف اضلاع میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو عمران کی جماعت اسے اپنی عوامی مقبولیت کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت کی سیاسی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ حکومتی خدشات کے مطابق الیکشن نتائج کا اثر صرف سیاسی مقبولیت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ صوبے میں ترقیاتی وسائل اور مقامی اقتدار کی تقسیم بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ منتخب بلدیاتی نمائندے سڑکوں، گلیوں، نکاسی آب، صفائی، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کے لیے فنڈز اور اختیارات کا مطالبہ کریں گے۔ اگر اپوزیشن کے امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہوتے ہیں تو صوبائی حکومت کو ایسے مقامی نمائندوں کے ساتھ کام کرنا پڑ سکتا ہے جو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنے علاقوں کے لیے وسائل بھی طلب کریں۔ اس صورت میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی اور مقامی رہنماؤں کے سیاسی اثرورسوخ میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کا کریڈٹ بھی منتخب بلدیاتی نمائندوں کے حصے میں جا سکتا ہے۔ اس ممکنہ اثر کی شدت کا انحصار بلدیاتی اداروں کو دیے جانے والے قانونی اور مالی اختیارات پر ہوگا۔
حکومتی حلقوں میں یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے لیے بلدیاتی انتخابات مقامی سطح پر کارکنوں کو متحرک کرنے، سیاسی تنظیم مضبوط بنانے اور عوامی رابطے بحال رکھنے کا موقع بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ ایسے میں اگر پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں اپنے علاقوں میں عوامی مسائل اٹھانے اور آئندہ عام انتخابات کے لیے سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کو بلدیاتی سطح پر ایسے سیاسی حریف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کی کارکردگی پر مسلسل سوالات اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج صوبائی سیاست پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگرچہ ان نتائج کو براہ راست قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی مینڈیٹ کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کی تجویز پر بھی سیاسی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے کے نتائج کو بعد کے مراحل میں سیاسی فضا بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ ابتدائی نتائج کی روشنی میں امیدواروں اور جماعتوں کو اپنی انتخابی حکمت عملی تبدیل کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس تجویز کے لیے پیش کردہ وجوہات میں اسموگ، دھند، رمضان المبارک، سکیورٹی اور انتخابی عملے کی دستیابی شامل ہیں، نہ کہ کسی سیاسی فائدے کا اعتراف۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل کو مزید مؤخر کرنے کے بجائے آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
