مولانا عمران کی رہائی کیوں مانگنے لگے، حامد میر حیران

جیو نیوز سے وابستہ اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مولانا فضل الرحمان ایک دن خود کو مولانا ڈیزل قرار دینے والے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ حامد میر کے مطابق عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان شدید سیاسی مخالفت اور بداعتمادی کے باوجود شہباز شریف حکومت کے بعض فیصلوں، خیبر پختون خوا میں گورنر راج کے نفاذ اور عمران خان کے خاندان کی خواتین کی گرفتاریوں نے دونوں رہنماؤں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی طرح ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی مولانا کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔
حامد میر نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ وہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان دونوں کو 1988ء سے جانتے ہیں، جب فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے اپنے ہی مقرر کردہ وزیراعظم جونیجو کو کرپشن کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا تھا۔ تب نواز شریف نے جونیجو کا ساتھ دینے کے بجائے جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی تھی۔ حامد میر کے مطابق جنرل ضیاء الحق چاہتے تھے کہ عمران خان نئی حکومت کا حصہ بن جائیں تاکہ ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا مل سکے۔ عمران اس سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے تھے، تاہم جنرل ضیاء کی درخواست پر انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے لی تھی۔
حامد میر کے بقول وہ اس وقت صحافت میں نئے نئے آئے تھے جب انہیں خبر ملی کہ عمران خان کو نئی حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کی گئی ہے۔ انہوں نے تصدیق کے لیے عمران سے رابطہ کیا تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ حامد میر نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پیشکش مسترد کر دیں۔ عمران خان نے انکار کرنے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم ساتھ ہی کہا کہ اس انکار کی خبر شائع نہ کی جائے، ورنہ مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ وہ زیادہ عرصے تک خبر روک نہ سکے اور بالآخر اسے شائع کر دیا، جس پر عمران ناراض ہو گئے۔ ان کے خیال میں اگر عمران خان 1988ء میں حکومت کا حصہ بن جاتے تو ممکن ہے کہ 1992ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کی تاریخی کامیابی حاصل نہ کر پاتی۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے ابتدائی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے حامد میر بتاتے ہیں کہ تحریک ریشمی رومال کے موضوع پر ایک جرمن سکالر کا انٹرویو شائع کرنے کے بعد مولانا نے ان سے رابطہ کیا اور اس تحریر کو سراہا۔ اس انٹرویو میں پہلی جنگ عظیم کے دوران برصغیر کے علماء کی جانب سے افغانستان، ترکی اور جرمنی کی مدد سے برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار کیے گئے ’’برلن پلان‘‘ کا ذکر تھا، جسے ریشمی رومال تحریک کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ اسی واقعے سے مولانا کے ساتھ ان کی نیاز مندی کا آغاز ہوا۔
حامد میر کے مطابق 1990ء میں عراق کے صدر صدام حسین کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد پاکستان میں صدام کی حمایت میں مظاہرے شروع ہوئے تو عمران خان کا ایک بیان سامنے آیا کہ ’’جو صدام کے ساتھ نہیں وہ مسلمان نہیں۔‘‘ اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی، کیونکہ اس وقت پاکستانی حکومت صدام حسین کے بجائے سعودی عرب کے ساتھ کھڑی تھی۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اسی زمانے میں انہوں نے پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمان کی زبان سے عمران خان کی تعریف سنی۔ اس واقعے سے انہیں اندازہ ہوا کہ دونوں رہنما امریکہ کے ناقدین میں شامل ہیں، تاہم خارجہ پالیسی کے بعض معاملات پر مماثلت کے باوجود ان کے درمیان سیاسی قربت پیدا نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ 2002ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے انتخابات کے بعد عمران خان قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کے واحد رکن تھے، جبکہ آصف علی زرداری نے جیل میں رہتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو وزیراعظم بنوانے کی کوشش کی۔ بے نظیر بھٹو نے مولانا کی حمایت سے انکار کیا، لیکن نواز شریف نے انہیں وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا۔ حامد میر کے مطابق اس انتخاب میں مولانا کو ووٹ دینے والوں میں عمران خان بھی شامل تھے۔
تب عمران خان مولانا کے لیے توہین آمیز خطاب استعمال کرنے والوں سے الجھ پڑتے تھے، لیکن 2018ء میں وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے خود سیاسی جلسوں میں مولانا کو ’’مولانا ڈیزل‘‘ کہنا شروع کر دیا۔ جواباً مولانا نے عمران خان کو ’’صیہونی ایجنٹ‘‘ قرار دیا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی نفرت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ حامد میر کے مطابق 2019ء میں مولانا فضل الرحمان نے عمران حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صحافیوں کو بتاتے تھے کہ مولانا برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے لیے کام کرتے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ انہوں نے جنرل باجوہ سے پوچھا کہ اگر ان کے پاس اس الزام کے ٹھوس ثبوت ہیں تو مولانا کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی، لیکن جنرل باجوہ نے اس سوال کا جواب دینے کے بجائے موضوع بدل دیا۔ بعدازاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مولانا کی سربراہی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ قائم کی اور عمران خان حکومت کے خلاف تحریک شروع کر دی۔ حامد میر کے مطابق اس دوران عمران خان نے خفیہ اداروں اور نیب کو مولانا کے خلاف کرپشن کے الزامات تلاش کرنے پر لگا دیا، جبکہ جنرل فیض حمید پر بھی مولانا کے خلاف منفی خبریں پھیلانے کی کوششوں کا الزام عائد کیا گیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ عمران حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں مولانا فضل الرحمان کی سیاسی اہمیت کا احساس ہوا اور انہوں نے ان سے اتحاد بنانے کی کوشش کی، لیکن دونوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کے باعث یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ دوسری طرف آئی ایس آئی کے نئے سربراہ جنرل ندیم انجم کے دور میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی مولانا سے دور ہو گئیں۔ انہوں نے مولانا کے اس کردار کا بھی ذکر کیا جس کے تحت 2010ء میں جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملک بھر کے علماء کو دہشت گردی کے خلاف متفقہ اعلامیے پر آمادہ کیا گیا تھا۔ اس موقف کے باوجود مولانا پر صوابی، چارسدہ اور کوئٹہ میں خودکش حملے ہوئے، لیکن انہوں نے سیاست میں عسکریت پسندی کی مخالفت ترک نہیں کی۔
سہیل آفریدی شاہی مہمان ہیں یا خفیہ ایجنسی کے پاس؟
حامد میر کے مطابق عمران خان اور مولانا فضل الرحمان افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حامی رہے، تاہم یہ اتفاق دونوں کو سیاسی اتحاد میں نہیں بدل سکا۔ اب شہباز شریف حکومت کے بعض فیصلوں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور عمران خان کے خاندان کی خواتین کو جیل میں رکھنے سے متعلق مولانا کے بیانات نے دونوں رہنماؤں کو قریب کر دیا ہے۔ مولانا کا مؤقف ہے کہ ان حالات میں ظلم کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ حامد میر کے بقول ان دنوں مولانا کے خلاف سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں اور انہیں گرفتاری کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم ان کے مطابق عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کو قریب لانے میں شہباز شریف حکومت کے فیصلوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو مولانا کی سیاسی اہمیت کا احساس شاید حکومت سے محرومی کے بعد ہی ہو، تاہم اس وقت تک ممکن ہے کہ مولانا دوبارہ ان جماعتوں کے سیاسی جال میں پھنسنے کے لیے تیار نہ ہوں۔

One Comment