پولیس مقابلے: ملزم ہمیشہ چھڑواتے ہوئے کیوں مرتا ہے؟

پنجاب میں مریم نواز کی حکومت سی سی ڈی کے ذریعے گزشتہ تین برس سے ریپ اور قتل کے واقعات میں ملوث ملزمان کو ماورائے عدالت سزائیں دیتے ہوئے جعلی پولیس مقابلوں میں فارغ کر رہی ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ہونے والے چند مقابلوں کے بعد پنجاب حکومت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ یہ معاملہ تب زیادہ بڑھ گیا جب مسلم لیگ نون کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ مریم نواز کے دورِ حکومت میں سنگین جرائم کرنے والوں کو فوری سزا ملتی ہے۔ ان کے اس بیان سے یہ تاثر ملا کہ انہوں نے ایک 15 سالہ لڑکے کو اپنی کار تلے کچل کر مارنے والے توقیر کی پولیس مقابلے میں موت کا کریڈٹ مریم نواز کو دے دیا ہے۔
جب اس ٹویٹ پر تنقید شروع ہوئی تو پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ کا دفاع کرنے کی کوشش کی، لیکن جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں انہیں اس معاملے پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کلین بولڈ ہو گئیں۔ ملتان کا واقعہ اس تنازع کا مرکزی نقطہ بن گیا ہے۔ 14 سالہ وسیم عباس کو ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے کے الزام میں توقیر نذیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں لڑکے کو گاڑی سے بچنے کے لیے بھاگتے اور گاڑی کو اس کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا، لیکن اگلے ہی روز سی سی ڈی نے دعویٰ کیا کہ وہ پولیس حراست سے فرار ہوگیا تھا اور بہاولپور بائی پاس پر پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
اس واقعے نے سوال اٹھایا کہ جب ملزم پولیس کی تحویل میں تھا اور اس کے خلاف مقدمہ زیر تفتیش تھا تو اسے عدالت کے ذریعے سزا دلوانے کا عمل کیوں مکمل نہ ہو سکا؟ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پنجاب میں تمام پولیس مقابلوں کا سکرپٹ ایک ہی ہوتا ہے اور جب بھی ملزمان کے ساتھی انہیں چھڑوانے کے لیے آتے ہیں تو وہ پولیس کی بجائے اپنے ہی ساتھیوں کو مار کر نکل جاتے ہیں؟
یہ تنازع بڑھ کر تب سیاسی رنگ اختیار کر گیا جب حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر ملزم کی موت کی خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے، جہاں فوری انصاف ہوتا ہے۔ ناقدین نے ان کے بیان کو ماورائے عدالت قتل کی تحسین اور اس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ کو دینے کے مترادف قرار دیا۔ شدید ردعمل کے بعد حنا نے اپنی پوسٹ حذف کردی اور وضاحت کی کہ ان کا ٹویٹ ذاتی رائے اور ایک عام شہری کے جذبات کا اظہار تھا، اس کا مقصد وزیراعلیٰ یا کسی ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں تھا۔ تاہم، اس وضاحت کے باوجود پنجاب حکومت کے طرزِ عمل اور سی سی ڈی کے اختیارات پر بحث جاری رہی۔
گوادر: سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن، فتنۃ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاک
وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مریم نواز کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے سی سی ڈی کو کسی ملزم کو پولیس مقابلے میں مارنے کا حکم نہیں دیا اور انہیں ایسے واقعات کی پیشگی اطلاع ہونے کا تصور بھی درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حنا پرویز بٹ کو بونگیاں مارنے کی عادت ہے تاہم، شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں ان سے سوال کیا گیا کہ اگر ملزم کے خلاف شواہد موجود تھے اور اسے عدالت سے سزا دلوانا ممکن تھا تو پھر اس کی موت کو فوری انصاف کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ عظمیٰ بخاری نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملزم پولیس حراست سے فرار ہوا تھا اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعے کی ذمہ داری حکومت پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ تاہم، ان کے جوابات اس بنیادی سوال کو ختم نہ کرسکے کہ زیر حراست ملزم کیسے فرار ہوا اور اس کی موت کے حالات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کیوں نہ کی جائیں۔
پنجاب میں پولیس مقابلوں پر تنقید کسی ایک واقعے تک محدود نہیں۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق، 2025 کے دوران سی سی ڈی کے 670 مبینہ پولیس مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد مارے گئے۔ کمیشن نے ان واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان اعداد و شمار نے پولیس کارروائیوں کی قانونی حیثیت، ملزمان کے منصفانہ ٹرائل کے حق اور ریاستی اداروں کی جواب دہی سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں مشتبہ افراد پولیس مقابلوں میں مر رہے ہیں تو ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق، قتل، ریپ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث کسی شخص کو بھی عدالت سے سزا دلوانے کے لیے شواہد، گواہوں اور مؤثر استغاثے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پولیس کے پاس ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہوں تو اسے عدالت میں پیش کرکے جرم ثابت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ناقص تفتیش، کمزور چالان، گواہوں کو تحفظ نہ ملنا اور سائنسی شواہد اکٹھے کرنے میں کوتاہی مقدمات کو کمزور کرسکتی ہے، لیکن ان خامیوں کا حل ملزمان کو پولیس مقابلوں میں مارنا نہیں بلکہ تفتیشی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اسی طرح کسی ملزم کی بریت کو بھی لازماً عدالتی ناکامی قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ عدالتوں کا کام شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔
