ضیا ڈکٹیٹر شپ کے خلاف ڈٹ جانے والی نصرت بھٹو کی کہانی

پاکستانی سیاست میں بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان سے بھی پہلے اگر کسی شخصیت کو ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر ایک فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لیے اکٹھا کرنے کا اعزاز حاصل ہے تو وہ مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو تھیں۔
یہ ان کا بڑا سیاسی کارنامہ تھا کہ وہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف مختلف الخیال پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئیں اور تحریک بحالی جمہوریت کے نام سے اتحاد بنایا۔ انہیں اس مقصد کے لیے ان رہنماؤں کے ساتھ بھی بیٹھنا پڑا جنہوں نے ان کے شوہر کے خلاف ضیا کا ساتھ دیا۔ بہادری سے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف مزاحمت کرنے والی نڈر اور بے باک بیگم نصرت بھٹو کو سیاست اور عوام سے محبت کا جذبہ اپنے شوہر ذوالفقار علی بھٹو سے وراثت میں ملا جو عوام سے لافانی رومانس کو اپنی زندگی کا جزو لازم سمجھتے تھے اورکہا کرتے تھے کہ پھولوں بھرے معاشرے کو بنجر بنانا سیاست نہیں۔ سیاست زندگی کی روح ہے۔ یہ عوام سے میرا لافانی رومانس ہے۔ یہ لافانی بندھن عوام ہی توڑ سکتے ہیں۔ شاید یہ بات بیگم بھٹو نے بھی سن کر پلے باندھ لی تھی اسی لئے وہ بھی پاکستانی عوام سے لافانی رومانس پر آخر دم تک قائم رہیں اور اپنے بچوں کو بھی اسی محبت کو پروان چڑھانے کا درس دیا۔
بیگم نصرت بھٹو کا اصل نام نصرت خانم تھا ان کے والد کا تعلق ایرانی کرد خاندان سے تھا، وہ کاروباری شخصیت تھے اور برطانوی دور میں کراچی میں آ کر آباد ہوئے۔ پچاس کے عشرے کے اوائل میں ایرانی نسل کی خوب صورت خاتون نصرت خانم ذوالفقار علی بھٹو سے ملیں تو پہلی ہی نظر میں انھیں پیار ہو گیا۔ دونوں کی شادی ہوئی، اور یہ محبت بھٹو کی پھانسی تک اور خود نصرت کے جیتے جی قائم رہی۔ یہ بھٹو کی دوسری شادی تھی۔ اس شادی نے بھٹو کی زندگی کو نیا موڑ دیا۔ مصروف اور متحرک وزیر خارجہ کی بیگم نصرف بھٹو نے نہ صرف چار بچوں کی پرورش، تربیت اور تعلیم کی ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھائی بلکہ ہر محاذ پر شوہر کا سیاسی امور میں ساتھ بھی دیا۔
بھٹو نے جب معاہدہ تاشقند کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوب کابینہ سے استعفیٰ دیا اور پاکستان پیپلز پارٹی بنائی تو نصرت بھٹو کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو گیا لیکن نصرت بھٹو کا اصل امتحان تب شروع ہوا جب ضیاء الحق نے شب خون مارا، ان کے شوہر کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور ملک میں مارشل لا نافذ کرکے بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ بیگم بھٹو نے عوام کی قیادت اور جمہوری چراغ کو روشن رکھا۔ تاہم اس دوران انہیں جمہوریت کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی زندگی کے لیے بھی لڑائی لڑنا پڑی۔
ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ جنرل ضیاء نے اقتدار کو طول دینے کی ٹھان لی ہے۔ لہٰذا انہوں نے 13 ستمبر کو بیگم نصرت بھٹو کو آخری خط لکھا، اور انہیں کل مختار بناتے ہوئے پارٹی چلانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس ہدایت نامہ نما خط میں جنرل ضیاء کی جانب سے پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بیگم نصرت کو ہدایت کی کہ ‘پارٹی کی مجلس عاملہ میں کوئی مسئلہ ہو حل کریں، آپ کو میری طرف سے اختیار اور حمایت حاصل ہے اور آپ قائم مقام چیئرپرسن ہیں۔’
بیگم نصرت بھٹو سمجھتی تھیں کہ بھٹو نے جس سیاست کو عوام سے لافانی رشتہ اور رومانس کہا تھا وہ مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کا راستہ ہے۔ سانحے مسلسل ان کا پیچھا کرتے رہے۔ان کی اولاد میں سے صرف صنم بھٹو سیاست سے فرار حاصل کرنے کی وجہ سے زندہ ہیں۔ شوہر کو پھانسی دی گئی، دو بیٹے مارے گئے۔ بیٹی متعدد بار گرفتار ہوئیں۔ بیٹی کا قتل ہوا تو وہ اس حالت میں نہیں تھیں کہ کچھ سن سکیں۔
بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی میں پاکستانی ریاست کے ہر جبر کا جرات مندی سے مقابلہ کیا۔ شوہر کی حکومت سے برطرفی، ان کی گرفتاری، مقدمہ قتل، گھر ہوتے ہوئے بے گھر رہیں، جلاوطنی، شوہر کو سزائے موت اور رات کے اندھیرے میں ان کی تدفین تک سب کچھ برداشت کیا۔
بھٹو کی سزائے موت پر عمل کے بعد بیگم نصرت پارٹی کی چیئرپرسن نامزد ہو گئیں۔ مارشل لا کے خلاف علم بغاوت بلند رکھنے کی پاداش میں انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا، اور قذافی سٹیڈیم لاہور میں ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں، ان کے سر پر چوٹیں آئیں اور 12 ٹانکے لگے۔ بیگم بھٹو نے پارٹی کو کئی بحرانوں سے نکالا اور مختلف حلقوں سے گروہ بندی کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ اکتوبر 1979 کے بلدیاتی انتخابات میں ایوب خان کی تحریک میں پارٹی سے سیاسی وفاداریاں برقرار رکھنے والوں کو ٹکٹ دیے۔ وہ لوگوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو گئیں کہ بھٹو کی پارٹی دوبارہ اقتدار میں آ جائے گی۔جنرل ضیا کا خیال تھا کہ بھٹو کے بعد ان کی پارٹی ٹوٹ جائے گی۔ ضیا نے نہایت ہی پیچیدہ انتخابی قواعد بنائے تاکہ کسی طرح سے پیپلز پارٹی کو آؤٹ کیا جا سکے۔ پیپلزپارٹی نے ان انتخابات میں ‘عوام دوست’ نام سے امیدوار کھڑے کیے۔بلدیاتی انتخابات نے حکومت کو سمجھا دیا کہ پیپلز پارٹی عام انتخابات کی صورت میں جیت جائے گی، لہٰذا ضیاء نے غیر معینہ مدت تک عام انتخابات ملتوی کر دیے۔
ضیاء کو خفیہ رپورٹس ملی تھیں کہ صرف بھٹو خواتین ہی عوام کو سڑکوں پر لا سکتی ہیں، لہٰذا انہوں نے گرفتاریوں، سفری پابندیوں اور دیگر بندشوں کے ذریعے ماں بیٹی کو باز رکھنے کی کوشش کی لیکن بیگم نصرت بھٹو پارٹی کو متحرک رکھنے میں کامیاب رہیں۔ایک انٹرویو میں بیگم نصرت بھٹو نے بتایا تھا کہ ‘ساڑھے پانچ سال کے عرصے میں وہ چار سال جیل یا گھر میں نظربند رہیں۔مارچ 1981 میں انہیں سی کلاس میں اور عام خواتین قیدیوں کی طرح رکھا جاتا تھا۔گھر میں ان کی نظر بندی بھی قید تنہائی کی طرح تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ 70 کلفٹن پر بھی وہ اپنے جیل کے تالے استعمال کرتے تھے، اور ہم سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ ٹیلی فون ٹیپ کیے جاتے تھے اور ملنے والوں پر بھی نظر رکھی جاتی تھی۔’
بیگم بھٹو نہایت باہمت خاتون تھیں۔ بے نظیر بھٹو نے سہالہ گیسٹ ہاؤس راول پنڈی میں پانچ اپریل 1979 کا واقعہ لکھا ہے: امی نے سوپ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پنکی تمہیں کچھ کھانا چاہیے۔ تم کو پوری توانائی چاہیے، جب ہم یہاں سے رہا ہوں گے تو ہمیں الیکشنز کی تیاری کرنی ہے۔ اگر تمہیں اپنے والد کے اصولوں کے لیے لڑنا ہے تو اس طرح سے لڑو جس طرح وہ لڑتے تھے۔ پھر کچھ کھا لو، لازماً کچھ لو۔ یہ ان کا دوسرا بڑا سیاسی کارنامہ تھا کہ وہ ضیاء الحق کے خلاف مختلف الخیال پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئیں اور تحریک بحالی جمہوریت کے نام سے اتحاد بنایا۔ انہیں اس مقصد کے لیے ان رہنماؤں کے ساتھ بھی بیٹھنا پڑا جنہوں نے ان کے شوہر کے خلاف ضیا کا ساتھ دیا۔ ان کا اجتماعی جدوجہد پر یقین تھا۔ تمام جوڑ توڑ اور ساز باز کے باوجود پیپلز پارٹی نے سنہ 1988 کے انتخابات جیتے، مقتدر حلقے انہیں اقتدار دینے پر مجبور ہو گئے۔
نصرت بھٹو دو مرتبہ قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور ایک مرتبہ سینیئر وزیر رہیں، جب بے نظیر بھٹو زچگی کی چھٹیوں پر تھیں تو وہ قائم مقام وزیراعظم بھی رہیں۔
جب مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے درمیان اختلافات ہوئے تو بیگم بھٹو نے مرتضیٰ کا ساتھ دیا۔ بعد میں ان ہی کی کوششوں سے بہن بھائی کی ملاقات بھی ہوئی۔ بے درد سیاست کی دنیا میں نصرت نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ جواں سال بیٹے شاہنواز کی پراسرار حالات میں موت اور چند برس بعد بڑے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کی موت نے ان کی صحت پر تباہ کن اثرات چھوڑے۔ بیگم نصرت بھٹو کا 23 اکتوبر 2011 کو دبئی میں انتقال ہوا اور لاڑکانہ میں بھٹو صاحب کے پہلو میں تدفین ہوئی۔
