عالمی توانائی بحران، پاکستانی آئل کمپنیوں نے اربوں روپے کیسے کمائے؟

پاکستان میں صارفین مہنگے پیٹرول اور ڈیزل کے باعث بڑھتی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن دوسری جانب تیل صاف کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق، عالمی توانائی بحران اور آبنائے ہرمز میں رسد کی رکاوٹوں کے دوران پاکستان کی بعض آئل ریفائنریوں کے سہ ماہی خالص منافع میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 1000 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ تیل و گیس کی تلاش اور آئل مارکیٹنگ سے وابستہ کمپنیوں نے بھی نمایاں منافع کمایا۔

رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی توانائی منڈی کو متاثر کیا۔ عالمی توانائی تجارت کا تقریباً 20 فیصد اسی بحری گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس کے باعث خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور رسد پر دباؤ بڑھا۔ پاکستان میں جنگ سے پہلے پیٹرول تقریباً 276 روپے اور ڈیزل 287 روپے فی لیٹر دستیاب تھا، تاہم بعد میں قیمتیں بڑھ کر 400 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئیں۔ اسی دوران ملک میں مہنگائی کی شرح بھی فروری کے 7 فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد تک جا پہنچی۔

مالیاتی نتائج اس دوران تیل کی صنعت کے لیے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ اٹک ریفائنری کا سہ ماہی خالص منافع گزشتہ سال کے 1.45 ارب روپے سے بڑھ کر 18.65 ارب روپے ہوگیا، جو تقریباً 1184 فیصد اضافہ ہے۔ نیشنل ریفائنری کا منافع 1.03 ارب روپے سے بڑھ کر 11.57 ارب روپے، یعنی تقریباً 1029 فیصد ہوگیا، جبکہ پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کا خالص منافع 1.02 ارب روپے سے بڑھ کر 13.97 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو تقریباً 1274 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

دیگر کمپنیوں نے بھی منافع میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا۔ پاکستان آئل فیلڈز کا خالص منافع 5.43 ارب روپے سے بڑھ کر 8.19 ارب روپے ہوگیا، جو تقریباً 51 فیصد اضافہ ہے۔ اٹک پیٹرولیم کا سہ ماہی منافع 3.81 ارب روپے سے بڑھ کر 6.64 ارب روپے تک پہنچ گیا، یعنی تقریباً 74 فیصد اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق، اس غیر معمولی منافع کی بڑی وجہ خام تیل کے مقابلے میں پیٹرول اور ڈیزل کی عالمی قیمتوں میں زیادہ تیزی سے اضافہ تھا۔ خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں کے درمیان فرق کو ریفائنری مارجن یا ’’کریک اسپریڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ تیل و گیس کے شعبے سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والے زاہد میر کے مطابق، جنگ سے پہلے پیٹرول کا مارجن تقریباً 12 ڈالر فی بیرل تھا، جو بڑھ کر 26 سے 27 ڈالر ہوگیا، جبکہ ڈیزل کا مارجن 12 سے 15 ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ اس اضافے نے ریفائنریوں کی آمدن میں نمایاں بہتری پیدا کی۔

سرمایہ کاری اور اسٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار اسد علی کے مطابق، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ ہوا۔ نسبتاً کم قیمت پر خریدی گئی اور ذخیرہ کی گئی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے کمپنیوں کو اضافی منافع حاصل ہوا، جسے کاروباری اصطلاح میں ’’انوینٹری گین‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی رسد میں رکاوٹوں اور خام تیل کی درآمد و ترسیل کے بڑھتے اخراجات کے باوجود تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ اضافے نے کمپنیوں کے منافع کو سہارا دیا۔

اقتصادی امور کے تجزیہ کار خرم حسین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خطے میں کشیدگی نے ریفائنڈ مصنوعات، خصوصاً ڈیزل کی رسد کو متاثر کیا، جس سے اس کی قیمت خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی۔ ان کے مطابق پاکستانی ریفائنریوں کو اس لیے فائدہ ہوا کہ وہ درآمد شدہ خام تیل کو مقامی سطح پر صاف کرکے تیار شدہ مصنوعات فروخت کرتی ہیں۔ رپورٹ میں امریکی کمپنی ولیرو انرجی کی مثال بھی دی گئی ہے، جس کا سہ ماہی خالص منافع 1.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.8 ارب ڈالر ہوگیا، جبکہ اس کے ریفائننگ شعبے کا آپریٹنگ منافع 1.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

تاہم، کمپنیوں کے منافع میں اضافے کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ عالمی بحران کا کتنا بوجھ صارفین پر منتقل ہونا چاہیے۔ خرم حسین کے مطابق حکومت قیمتوں یا ریفائنری مارجن پر حد مقرر کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹی کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن کو صارفین کی سبسڈی کے لیے استعمال کرنے جیسے اقدامات کرسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت ڈیزل کے کریک اسپریڈ پر بالائی حد مقرر کرچکی ہے۔ اگست میں یہ حد 41.89 ڈالر فی بیرل تھی، جسے بعد میں پاکستانی ذرائع ابلاغ اور بروکریج اداروں کی رپورٹس کے مطابق 38 ڈالر فی بیرل کردیا گیا۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کی 20 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، اس حد کے باعث مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی میں ریفائنریوں کے مجموعی منافع کے مارجن پر دباؤ آسکتا ہے۔مجموعی طور پر اعداد و شمار توانائی کے عالمی بحران کے دو مختلف اثرات نمایاں کرتے ہیں: ایک طرف عام شہری مہنگے ایندھن اور بڑھتی مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف تیل کی صنعت کی متعدد کمپنیوں نے غیر معمولی منافع حاصل کیا ہے۔

Back to top button