مولانا کے سیکیورٹی فورسز پر معدنیات پر قبضے کے الزامات حقائق کے منافی کیوں؟

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنے بارے مولانا فضل الرحمان کا بیان شدید تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دہشتگردی جیسے سنگین قومی مسئلے اور قدرتی وسائل کے استعمال کو سیاسی الزامات کے بجائے ٹھوس شواہد، مالی ریکارڈ اور زمینی حقائق کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، خیبر پختونخوا کو معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن کے مقابلے میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے کہیں زیادہ مالی وسائل فراہم کیے گئے، تاہم معدنیات کے ٹھیکوں اور آمدن کی تقسیم پر شفافیت کے سوالات اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان کے نزدیک اصل ضرورت یہ ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل تجاویز دی جائیں اور قدرتی وسائل سے متعلق اعتراضات کو مستند دستاویزات کے ذریعے واضح کیا جائے۔
سینئر تجزیہ کار عمر چیمہ کے مطابق، مولانا فضل الرحمان خود بھی مختلف مواقع پر خیبر پختونخوا میں عدم تحفظ کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایمرجنسی یا گورنر راج کے ذریعے دہشتگردی پر قابو پانے اور امن و امان بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے تو اس کا فائدہ مولانا اور ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو بھی پہنچ سکتا ہے۔ عمر چیمہ کے مطابق، مولانا جیسے سینئر سیاسی رہنما کو حکومتی اقدامات پر تنقید کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کرنی چاہییں۔ ان کے نزدیک امن و امان کا قیام کسی ایک جماعت کے بجائے پورے ملک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ عمر چیمہ نے یہ بھی کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو گورنر راج یا ایمرجنسی کے طریقۂ کار پر اعتراض ہے تو انہیں متبادل حکمت عملی بھی واضح کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، سیاسی اختلافات کے باوجود دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر گفتگو شواہد اور قابلِ عمل تجاویز کی بنیاد پر ہونی چاہیے، جبکہ معدنیات پر قبضے کے دعوؤں کے لیے بھی قابلِ تصدیق ثبوت ضروری ہیں۔
سینئر تجزیہ کار منیب فاروق کا کہنا ہے کہ معدنیات کے ٹھیکوں، قدرتی وسائل کے استعمال اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کی تقسیم پر سوال اٹھانا جائز ہے، لیکن ان معاملات کو کسی ادارے کی جانب سے وسائل پر قبضے کے الزام سے جوڑنے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہیں۔ ان کے مطابق، 2013 سے 2026 تک جاری ہونے والے معدنیاتی ٹھیکوں کا ریکارڈ سامنے آنا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ٹھیکے کس حکومت یا ادارے نے جاری کیے، کن شرائط کے تحت دیے گئے اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کہاں خرچ ہوئی۔منیب فاروق کے مطابق، اگر کسی ادارے کے کردار یا معدنیات کے معاہدوں پر اعتراضات موجود ہیں تو متعلقہ دستاویزات، قانونی طریقۂ کار اور مالی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہییں۔ ان کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل صوبے اور ملک کی مشترکہ معاشی بحث کا اہم حصہ ہیں، اس لیے ان سے حاصل ہونے والی آمدن کی تقسیم اور عوامی فائدے کا شفاف حساب ضروری ہے۔ تاہم، شواہد کے بغیر قبضے کے الزامات لگانے سے اصل مالی اور انتظامی سوالات پس منظر میں جا سکتے ہیں۔
سینئر تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق، وفاق کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے لیے خیبر پختونخوا کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ صوبے کو معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن تقریباً 18 ارب روپے بتائی جاتی ہے۔ ان اعدادوشمار کی بنیاد پر ان کا مؤقف ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو معدنیات پر قبضے کی کوشش قرار دینے کے دعوے کا جائزہ مالی حقائق اور مستند ریکارڈ کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ تاہم، ان رقوم کے متعلقہ ادوار، حسابی بنیاد اور اخراجات کی تفصیلات کی تصدیق بھی ضروری ہے تاکہ دونوں اعدادوشمار کا درست تقابل کیا جا سکے۔ضیغم خان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی وجوہات کو معدنی وسائل پر قبضے کے بیانیے تک محدود کرنے سے اصل مسئلے کی نوعیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اگر معدنیاتی معاہدوں یا وسائل کے استعمال پر اعتراضات ہیں تو ان کی جانچ پڑتال معاہدوں، مالی تفصیلات اور قانونی ریکارڈ کے ذریعے ہونی چاہیے۔ دہشتگردی کے خاتمے اور قدرتی وسائل کے شفاف استعمال کو الگ مگر اہم معاملات کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
ضیغم خان نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کو موجودہ سیاسی حالات میں اپنے ووٹ بینک اور پارلیمانی حیثیت کو برقرار رکھنے کے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی عروج کے بعد مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیے اپنا سیاسی اثرورسوخ برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہوا ہے۔ تاہم، یہ تجزیہ کار کی رائے ہے اور اسے مولانا کے حالیہ مؤقف کی ثابت شدہ وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ضیغم خان کے مطابق، مولانا فضل الرحمان اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات کے باوجود سیاسی رابطے بھی جاری رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے مولانا سے ملاقات کرکے پی ٹی آئی کے ساتھ معاملات بہتر بنانے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ ضیغم خان کی رائے میں، گورنر راج کے معاملے پر الگ مؤقف اختیار کرنا مولانا کے لیے اپنی سیاسی حیثیت نمایاں کرنے کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے، تاہم اس تشریح کی تصدیق کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔مجموعی طور پر، اس بحث میں دو بنیادی سوال اہم ہیں: دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کون سے اقدامات مؤثر اور آئینی ہیں، اور خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کس طرح خرچ اور تقسیم ہو رہی ہے؟
