خیبرپختونخواسے4ماہ میں دہشت گردوں کاصفایاہوجائیگا،راناثنا

وزیراعظم کے مشیرراناثنااللہ کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں دہشتگردوں کی 201 تشکیلیں موجود ہیں، دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے زیادہ سے زیادہ 4 ماہ درکار ہوں گے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت نے دہشتگردی کے خلاف آپریشن کے حوالے سے کمیٹی کو اعتماد میں لیا اور بتایا کہ صوبے میں دہشتگردی کی صورت حال کیا ہے اور کس طریقے سے دہشتگردوں کا صفایا کرنا ہے۔

راناثنااللہ کاکہناہے کہ عسکری حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مہینوں اور سالوں کی بات نہیں کرتے بلکہ ہفتوں میں صوبے سے دہشتگردوں کا خاتمہ کردیں گے، اس کام میں زیادہ سے زیادہ 4 ماہ لگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عسکری حکام کے مطابق دہشتگردوں کی تشکیلوں میں کم سے کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 12 سے 15 افراد ہوسکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں دہشتگردوں کی 201 تشکیلیں موجود ہیں۔ یہ دہشتگرد الگ تھلگ مقامات پر نہیں بلکہ آبادیوں کے اندر موجود ہیں۔ ان آبادیوں میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ یا تو وہ دہشتگردوں کو اپنے علاقوں سے نکال دیں یا سیکیورٹی فورسز کو موقع دیں کہ وہ ان کا صفایا کرسکیں۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر انہیں دونوں صورتیں قبول نہیں تو وہ اپنے علاقوں سے باہر آجائیں اور سیکیورٹی فورسز کو دہشتگردوں کے خاتمے کا موقع دیں، کیونکہ دہشتگردوں کو پنپنے نہیں دیا جاسکتا۔ سیکیورٹی فورسز قربانیاں بھی دے رہی ہیں اور مقامی آبادی کو سمجھا بھی رہی ہیں۔ لوگ کسی حد تک تعاون بھی کرتے ہیں، تاہم سہیل آفریدی کی حکومت اس کے برعکس لوگوں کو اکساتی تھی کہ یہ کام نہیں کرنا اور آپریشن نہیں ہونے دینا۔

 

Back to top button