گنڈاپور نے دوبارہ وزیراعلی بننے کی کوششیں شروع کر دیں

خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی حکومت کے خاتمے کے بعد سابق وزیراعلیٰ گنڈاپور نے دوبارہ وزارتِ اعلیٰ کی امید باندھتے ہوئے وفاقی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے بحال کر لیے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، گنڈاپور اب یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ ان کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں انہوں نے تحریک انصاف کو بھی بچائے رکھا اور صوبائی حکومت بھی چلائی، لیکن سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد نہ صرف پارٹی کی مقبولیت میں کمی آئی بلکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی 13 سالہ حکومت کا بھی خاتمہ ہوگیا۔

ایسے میں ان کا یہ موقف ہے کہ اگر پارٹی کو سیاسی طور پر دوبارہ بحال کرنا ہے اور عمران خان کی رہائی کا راستہ نکالنا ہے تو ضروری ہے کہ انہیں دوبارہ وزارت اعلی کا منصب سونپ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ نہ صرف تحریک انصاف کے اندر ایک مضبوط لابی بنا رہے ہیں بلکہ انہوں نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی رابطے بحال کر لیے ہیں، لہذا اپ دیکھنا یہ ہے کہ ان کی کوششیں کیا رنگ لاتی ہیں۔

اسی حوالے سے تحریک انصاف کے ایک حالیہ اجلاس کی روداد سامنے آئی ہے۔ تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کا آن لائن اجلاس 20 اکتوبر کی رات 10 بجے شروع ہوا اور 21 اکتوبر کی رات 12 بج کر 48 منٹ تک جاری رہا۔ اجلاس میں شریک صوبائی اسمبلی کے 2 ارکان کے مطابق، تقریباً 67 ارکان نے شرکت کی، جن میں علی امین گنڈاپور، سابق صوبائی کابینہ کے ارکان اور دیگر ارکان اسمبلی شامل تھے۔ طویل اجلاس میں گورنر راج کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے آغاز پر کئی ارکان نے شکوہ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے انہیں پارٹی قیادت کی جانب سے کسی واضح حکمت عملی سے آگاہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث ارکان اسمبلی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ تاہم، شرکا نے ماضی کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر آئندہ کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں سامنے آنے والے یہ شکوے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبے میں حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت پر اپنے ارکان کو اعتماد میں لینے اور آئندہ کا راستہ واضح کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اجلاس کے دوران علی امین گنڈاپور نے تصدیق کی کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ان کے رابطے اب بھی برقرار ہیں۔ اس انکشاف کے بعد ارکان نے اتفاق کیا کہ گورنر راج کے خاتمے اور سہیل آفریدی حکومت کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کیے جائیں۔ پارلیمانی پارٹی نے اس مقصد کے لیے گنڈاپور کو مرکزی کردار سونپنے کا فیصلہ کیا، جس سے پارٹی کے اندر ان کی سیاسی اہمیت اور وفاقی حلقوں سے رابطوں کو استعمال کرنے کی حکمت عملی نمایاں ہوئی۔

پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کی ذمہ داری سونپتے ہوئے انہیں تمام ممکنہ سیاسی ذرائع استعمال کرنے کا اختیار دے دیا۔ ذرائع کے مطابق، گنڈاپور نے مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم اجلاس میں نہ تو مذاکرات کے باضابطہ آغاز کی کوئی تاریخ طے ہوئی اور نہ ہی ممکنہ شرائط یا وفاقی حکومت کی جانب سے کسی مثبت پیش رفت کی تفصیلات سامنے آئیں۔ اس طرح تحریک انصاف نے گورنر راج کے خلاف سیاسی مزاحمت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی کے اندرونی حلقوں میں علی امین گنڈاپور کے اس کردار کو ان کی اپنی سیاسی واپسی کی کوششوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ گنڈاپور کا مؤقف ہے کہ ان کے دور میں تحریک انصاف کو سیاسی دباؤ کے باوجود صوبائی حکومت کے ساتھ چلایا جاتا رہا، جبکہ سہیل آفریدی کے دور میں حالات اس نہج پر پہنچے کہ پارٹی اپنے آخری صوبائی اقتدار سے بھی محروم ہوگئی۔

تحریک انصاف کے لیے اب بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ گورنر راج کے خاتمے، صوبائی حکومت کی بحالی اور پارٹی کے اندر بڑھتی بے یقینی کے خاتمے کے لیے کوئی قابلِ عمل حکمت عملی سامنے لائے۔ محض رابطوں کی بحالی یا مذاکرات پر اتفاق سے سیاسی صورت حال تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں ملتی، بلکہ اس کے لیے وفاقی حکومت کی آمادگی اور کسی واضح سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہوگی۔ آئندہ دنوں میں یہ بھی اہم ہوگا کہ گنڈاپور کے رابطے باقاعدہ مذاکرات میں تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں اور ان کے نتیجے میں تحریک انصاف کو کوئی عملی سیاسی کامیابی حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔

Back to top button