آفریدی کی گمشدگی پر PTI خاموش، بھائی مدد کو آ گیا

ایک برس تک خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ رہنے والے سہیل آفریدی کی گمشدگی کو ایک ہفتے سے زیادہ گزر گیا، لیکن تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے کوئی عدالتی کارروائی سامنے نہیں آئی، جس کے بعد بالآخر ان کے بھائی محمد عامر کو پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنا پڑی۔ سہیل آفریدی کی حراست پر پارٹی قیادت کی خاموشی کی ایک بڑی وجہ خیبرپختونخوا میں 13 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد پارٹی کے اندرونی اختلافات کو قرار دیا جا رہا ہے، دوسری جانب ناکام لانگ مارچ کے ذمہ دار آفریدی کو صوبائی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کی غیرقانونی حراست کے خلاف ان کے بھائی محمد عامر کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے آئی جی پولیس، سی سی پی او پشاور، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ سے 10 روز میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے استفسار کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ گرفتار ہیں، کسی مقدمے میں نامزد ہیں یا انہیں کسی دوسرے قانونی اختیار کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ عدالت نے سہیل آفریدی کی موجودگی اور قانونی حیثیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی۔ یعنی عدالت بھی سہیل افریدی کی بازیابی میں دلچسپی نہیں رکھتی اور شاید اسی لیے دو ہفتے بعد کی تاریخ ڈال دی ہے۔
درخواست گزار محمد عامر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سہیل آفریدی کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ انکا موقف یے کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ بھی کسی شخص کو غیرقانونی حراست میں رکھنے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔ درخواست میں ان کی بازیابی اور حراست کی قانونی حیثیت واضح کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس عدالتی کارروائی نے تحریک انصاف کی قیادت کے کردار پر بھی سوال اٹھا دیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کی حراست کے معاملے پر جماعت کی جانب سے خود مؤثر قانونی اقدام کیوں سامنے نہیں آیا اور ان کی بازیابی کے لیے ان کے اہل خانہ کو عدالت سے رجوع کیوں کرنا پڑا۔
سہیل آفریدی کی حراست کا معاملہ ایسے سیاسی پس منظر میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ اور گورنر راج کا نفاذ جماعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ صوبے میں تقریباً ایک سال تک وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے سہیل آفریدی اب اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد خود قانونی اور سیاسی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ ان کی حراست اور موجودگی کے بارے میں حکام کی جانب سے واضح معلومات سامنے نہ آنے کے باعث ان کی بازیابی کا معاملہ پارٹی کے لیے ایک اہم امتحان بن گیا ہے۔
پارٹی کے اندر اختلافات اس صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کا ایک نمایاں دھڑا سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ساتھ سمجھا جاتا ہے، جو سہیل آفریدی کے سیاسی مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا صوبے میں وزارت اعلیٰ اور پارٹی کی حکمت عملی پر اختلافات نے سہیل آفریدی کی حمایت میں قیادت کے کردار کو متاثر کیا ہے۔
سہیل آفریدی کو ناکام لانگ مارچ کے بعد بھی تنقید کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب مارچ کے ذریعے سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی تھی، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے اور اس کے بعد خیبر پختون خوا میں حکومت کے خاتمے نے جماعت کے اندر ذمہ داری کے تعین کا معاملہ اہم بنا دیا ہے۔
ایک جانب پارٹی کے اندر لانگ مارچ کے حوالے سے سہیل آفریدی کی سیاسی حکمت عملی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے تو دوسری جانب علی امین گنڈاپور حکومت کے خاتمے کے بعد سے سیاسی طور پر متحرک ہو کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہیں۔
تحریک انصاف اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جب عمران خان کی قید، مرکزی قیادت کی محدود سیاسی سرگرمیوں اور خیبرپختونخوا میں اقتدار کے خاتمے نے جماعت کی فیصلہ سازی کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں سابق وزیراعلیٰ کی حراست پر پارٹی کا ردعمل خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ معاملہ محض ایک رہنما کی بازیابی تک محدود نہیں بلکہ جماعت کی داخلی یکجہتی، قانونی حکمت عملی اور اپنے سابق حکومتی سربراہ کے تحفظ کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کیے جانے کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ متعلقہ ادارے سہیل آفریدی کی موجودگی اور حراست کی قانونی بنیاد کے بارے میں کیا جواب دیتے ہیں اور آیا عدالت ان کی بازیابی یا پیشی کے حوالے سے مزید احکامات جاری کرتی ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی قیادت کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ وہ سہیل آفریدی کے معاملے پر اپنا واضح مؤقف کب سامنے لاتی ہے۔ فی الحال دستیاب عدالتی معلومات سے ان کی حراست کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین نہیں ہوتا، جبکہ ان کے بھائی کی درخواست پر آئندہ سماعت 3 نومبر کو ہوگی۔
