خیبر پختونخوا کا سیٹ اپ اگلے الیکشن تک چلنے کا امکان

 

 

 

 

سینیئر صحافی منیب فاروق نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں وفاق کا قائم کردہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ آئندہ دو سے ڈھائی سال تک برقرار رہنے کا امکان ہے اور اگلے عام انتخابات سے پہلے ملک میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا امکان موجود نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے طاقتور فیصلہ ساز خیبر پختون خواہ کی معطل شدہ اسمبلی کو بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور قوی امکان ہے کہ موجودہ سیٹ اپ اگلے انتخابات تک چلے۔

 

ان کے مطابق اس صورتحال کا سب سے زیادہ سیاسی نقصان پی ٹی آئی کو ہو گا جسکے رہنماؤں کی گرفتاریاں، نظر بندیاں اور مقدمات دوبارہ فعال ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ منیب فاروق کے مطابق تحریک انصاف پر فوری پابندی فی الحال حکومتی ایجنڈے میں شامل نہیں، تاہم حالات کی نوعیت کے مطابق دیگر قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نئی حکومتی ترتیب کے بعد ریاست کی توجہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی مرکوز ہے، جس کے لیے ایڈوائزری کونسل اور حکومتی سطح پر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کے بقول مولانا فضل الرحمان سمیت مختلف شخصیات نے سیاسی معاملات حل کرانے کی کوششیں کیں، تاہم سہیل آفریدی کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کے حوالے سے فیصلے پہلے ہی ہو چکے تھے۔

گورنر راج کی راہ کس نے ہموار کی؟ گنڈاپور نے شواہد مانگ لیے

منیب فاروق کے مطابق علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کی سیاسی حکمت عملی میں بنیادی فرق وفاقی حکومت کے ساتھ رابطوں کا تھا۔ ان کے بقول گنڈاپور کے پاس وفاق سے معاملات آگے بڑھانے کے لیے جو روابط موجود تھے، سہیل آفریدی کو وہ سہولت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی وہ سیاسی طور پر اتنے دانا تھے کہ ایسے روابط قائم کر پاتے۔ اس کے علاوہ سہیل آفریدی اپنی جماعت اور سوشل میڈیا کے دباؤ میں بھی تھے، جس سے ان کے لیے سیاسی فیصلے کرنا مزید مشکل ہوگیا۔

 

تاہم منیب فاروق کے مطابق موجودہ حالات میں سہیل آفریدی یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ انہوں نے عمران خان کے ساتھ وفاداری نبھائی اور اس کی قیمت اپنی حکومت کھو کر ادا کی۔

انہوں نے کہا کہ آفریدی کی انتظامی کارکردگی اور گورننس پر بحث اپنی جگہ، لیکن سیاسی طور پر وہ خود کو عمران خان کے نظریے سے وابستہ رہنے والا رہنما قرار دے سکتے ہیں۔ ان کے بقول سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ وہ عمران خان کی محبت میں مارے جائیں گے، اسی سیاسی مؤقف کا اظہار ہے۔ اگر مستقبل میں عمران خان جیل سے باہر آکر دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو سہیل آفریدی اپنی مشکلات اور حکومت سے محرومی کو بانی تحریک انصاف سے وفاداری کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔

 

تحریک انصاف کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے منیب فاروق نے کہا کہ عمران خان کی جماعت اس وقت اندرونی انتشار اور بدنظمی کا شکار ہے اور اس نے اپنی سیاسی حکمت عملی کے باعث خود بھی مشکلات پیدا کی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں پارٹی کے پاس اپنے سیاسی مؤقف کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے مواقع موجود تھے، لیکن وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف آئندہ چھ ماہ، دو سال یا تین سے پانچ سال میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو ممکن ہے کہ پارٹی کو پہلے جیسی سیاسی پوزیشن حاصل نہ ہو اور اسے قیادت و حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں کرنا پڑیں۔

 

تحریک انصاف پر پابندی کے امکان بارے منیب فاروق نے کہا کہ اس معاملے پر گفتگو ضرور ہوئی ہے، تاہم فوری طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ حکومتی ایجنڈے میں شامل نہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں پی ٹی آئی پر پابندی کے معاملے پر طویل بحث کا ذکر کیا گیا تھا۔ منیب فاروق کے بقول انتخابی نشان سے محرومی، پارلیمان میں جماعت کی حیثیت اور خیبر پختونخوا میں حکومتی تبدیلی کے تناظر میں فی الحال پابندی کے بجائے دیگر اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ فی الوقت دھیمی آنچ پر رہے گا، تاہم سیاسی کشیدگی میں اضافے کی صورت میں دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے اپنی سیاسی حکمت عملی میں کیا تبدیلیاں لاتی ہے؟

Back to top button