مولانا گورنر راج پر اپنے ماضی کے اتحادیوں پر اتنے برہم کیوں؟

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے سابق سیاسی اتحادیوں کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی، پارلیمانی اور قانونی مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ کبھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اہم کردار ادا کرنے والے مولانا اب انہی جماعتوں کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق، اس اختلاف کے پیچھے خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کے سیاسی مفادات، مستقبل کے انتخابی امکانات اور صوبے میں اقتدار سے مسلسل دوری جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ مولانا کی مخالفت اصولی سیاسی مؤقف کا اظہار ہے یا وہ بدلتی صورت حال میں اپنی جماعت کے لیے نئے سیاسی امکانات تلاش کر رہے ہیں؟
2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہونے والی وفاقی حکومت میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر جماعتیں شریک تھیں۔ تاہم، اب خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر سابق اتحادی ایک دوسرے سے مختلف مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کے اس اقدام سے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت معطل ہوئی، لیکن جے یو آئی کو براہ راست اقتدار میں کوئی حصہ نہیں ملا۔
جے یو آئی کے ایک رہنما کے مطابق، جماعت میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ موجودہ انتظامی تبدیلی سے بنیادی فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو پہنچا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کو سیاسی ہمدردیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان کے بقول، مولانا فضل الرحمان کی خواہش تھی کہ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو کہ پی ٹی آئی حکومت کی توجہ عوامی فلاح کے بجائے عمران خان کی رہائی پر مرکوز ہے، لیکن موجودہ صورت حال میں پی ٹی آئی کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
مولانا کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار سے باہر رہنے کے بعد عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں بہتر حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل میں کامیاب نہ ہوئیں تو مولانا اس ناکامی کو مستقبل کی سیاست میں اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم، یہ مخالفین کی سیاسی تشریح ہے، جسے جے یو آئی کے مؤقف یا ثابت شدہ حکمت عملی کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
جے یو آئی کے رہنماؤں کے مطابق، مولانا فضل الرحمان کی نظر آئندہ انتخابات اور صوبے میں دوبارہ سیاسی اثرورسوخ حاصل کرنے پر ہے۔ جماعت کا ووٹ بینک موجود ہونے کے باوجود وہ طویل عرصے سے صوبائی اقتدار سے باہر ہے، جبکہ حالیہ تبدیلی سے بھی اسے حکومتی اختیارات حاصل نہیں ہوئے۔ ایک رہنما کے مطابق، مولانا مختصر مدت کے بجائے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں اور موجودہ انتظامی بندوبست میں انہیں اپنی جماعت کے لیے کوئی واضح فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔
اس اختلاف کی ایک اور وجہ مذاکرات کے معاملے پر پیدا ہونے والی ناراضی بھی بتائی جاتی ہے۔ جے یو آئی کے ایک رہنما کے مطابق، مولانا کو مذاکرات کا اختیار دیا گیا، لیکن اس کے بعد خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ اس صورت حال نے سابق اتحادیوں کے درمیان اعتماد اور سیاسی مشاورت کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں۔
دوسری جانب مولانا کے سیاسی مخالفین یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کی تنقید کی ایک وجہ صوبائی حکومت میں حصہ نہ ملنا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے نام لیے بغیر کہا تھا کہ ایک جماعت کے سربراہ حصہ نہ ملنے پر تنقید کر رہے ہیں، جسے بعض تجزیہ کاروں نے مولانا فضل الرحمان کی جانب اشارہ قرار دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نے بھی مولانا کی تنقید کو بے جا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جے یو آئی صوبے میں اپنی سیاسی پوزیشن بہتر بنانے اور حکومت میں شمولیت کے امکانات تلاش کر رہی ہے۔ تاہم، یہ مؤقف حکومتی حلقوں اور سیاسی مخالفین کی جانب سے سامنے آیا ہے۔
مجموعی طور پر، خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نے سابق اتحادیوں کے درمیان سیاسی مفادات کے اختلاف کو نمایاں کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی مخالفت کے پیچھے جے یو آئی کی اقتدار میں عدم شمولیت، مستقبل کی انتخابی حکمت عملی اور مذاکراتی عمل سے متعلق تحفظات اہم عوامل کے طور پر بیان کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ان کے مؤقف کو محض اقتدار میں حصہ نہ ملنے کا ردعمل قرار دینا بھی سیاسی مخالفین کی تشریح ہوگی۔ اصل صورت حال کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ مولانا آئندہ پارلیمانی اور سیاسی محاذ پر کس حد تک مزاحمت جاری رکھتے ہیں اور سابق اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے کیا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

One Comment