پنجاب میں بڑھتے ہوئے پولیس مقابلے تنقید کی زد میں کیوں؟

پنجاب میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران مشتبہ ملزمان کی ہلاکتوں نے نظامِ انصاف، پولیس تفتیش اور قانون کی عمل داری سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف شواہد موجود تھے تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے قانون کے مطابق سزائیں کیوں نہ دلوائی گئیں؟ اور اگر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں قانونی یا تفتیشی خامیاں رکاوٹ بن رہی تھیں تو ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق، صرف 2025 میں جرائم سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے محکمۂ انسدادِ جرائم (سی سی ڈی) کے 670 مبینہ پولیس مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار محض پولیس کارروائیوں کی تعداد نہیں، بلکہ فوجداری نظامِ انصاف کی کارکردگی، ملزمان کے منصفانہ ٹرائل کے حق اور ریاستی اداروں کی جواب دہی سے متعلق ایک بنیادی بحث کو جنم دیتے ہیں۔مبینہ پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے تناظر میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ سنگین جرائم کے ملزمان کو پاکستان پینل کوڈ کے تحت عدالتوں سے سزائیں دلوانے کے بجائے پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے کی نوبت کیوں پیش آ رہی ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شخص پر سنگین جرم کا الزام ہو تو اس کے خلاف شواہد اکٹھے کیے جائیں، مقدمہ چلایا جائے اور جرم ثابت ہونے پر عدالت سزا سنائے۔ محض الزام یا شبہے کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے ہر واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے کا ایک اہم پہلو منصفانہ ٹرائل کے حق کا عملی نفاذ ہے۔ اگر پولیس کسی مشتبہ شخص کو گرفتار کرتی ہے تو اسے قانون کے مطابق تفتیش، عدالتی کارروائی اور دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا پولیس اور استغاثہ کے پاس ملزمان کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوتے ہیں، مقدمات عدالتوں میں مؤثر انداز میں پیش کیے جاتے ہیں اور عدالتی فیصلوں تک پہنچنے کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں یا نہیں۔ اگر ان مراحل میں کمزوریاں موجود ہیں تو ان کی نشاندہی اور اصلاح کیے بغیر انصاف کی فراہمی کا نظام مضبوط نہیں بنایا جا سکتا۔

اس معاملے میں ناقص چالان اور تفتیشی خامیاں بھی اہم سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ کسی مقدمے میں اگر شواہد درست طریقے سے جمع نہ کیے جائیں، گواہوں کے بیانات میں تضادات ہوں، جائے وقوعہ سے حاصل کردہ مواد محفوظ نہ رکھا جائے یا قانونی تقاضوں کے مطابق دستاویزات تیار نہ کی جائیں تو استغاثہ کا مقدمہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ نتیجتاً ملزمان کو شک کا فائدہ ملنے یا مقدمے سے بری ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم، کسی ملزم کی رہائی کو لازماً عدالتی ناکامی قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ عدالتوں کی ذمہ داری جرم ثابت ہونے پر سزا دینا اور بے گناہ افراد کو سزا سے محفوظ رکھنا ہے۔ اصل توجہ ان خامیوں کو دور کرنے پر ہونی چاہیے جو ناقص تفتیش یا کمزور استغاثے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔

جرائم کی تفتیش میں سائنسی شواہد کی اہمیت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس، ڈی این اے، اسلحے سے متعلق شواہد، دستیاب برقی معلومات اور دیگر متعلقہ مواد کو مستند طریقے سے جمع کرنا مقدمے کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اگر تفتیش روایتی طریقوں، غیر مصدقہ معلومات یا محض اعترافی بیانات پر انحصار کرے تو عدالت میں جرم ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ پولیس کے تفتیشی نظام کو جدید سائنسی سہولتوں، تربیت یافتہ عملے اور مؤثر نگرانی سے لیس کیا جائے تاکہ مقدمات محض دعوؤں کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھیں۔

گواہوں کا تحفظ بھی فوجداری نظامِ انصاف کی بنیادی ضرورت ہے۔ سنگین جرائم کے مقدمات میں گواہ اگر دھمکیوں، دباؤ یا انتقامی کارروائی کے خوف سے بیان دینے سے گریز کریں تو استغاثہ کے لیے جرم ثابت کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ رپورٹ میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ گواہوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا۔ اگر گواہوں کو مناسب تحفظ فراہم کیا جائے، ان کی شناخت اور سلامتی کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں اور انہیں دباؤ سے آزاد ماحول میسر ہو تو مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

پولیس پر ممکنہ دباؤ اور تفتیش کی آزادی کا معاملہ بھی اس بحث کا اہم حصہ ہے۔ کسی بھی مقدمے میں تحقیقات کا معیار اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب تفتیشی افسران کو سیاسی، انتظامی یا دیگر غیر قانونی دباؤ سے محفوظ رکھا جائے۔ اسی طرح پولیس کی کارروائیوں کی نگرانی، اختیارات کے استعمال کا ریکارڈ اور مبینہ مقابلوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ اگر کسی کارروائی میں قانون سے تجاوز کا شبہ ہو تو اس کی جانچ متعلقہ اداروں کے ذریعے شفاف انداز میں ہونی چاہیے، تاکہ نہ صرف شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہو بلکہ قانون کے مطابق کام کرنے والے اہلکاروں پر بے بنیاد الزامات کی بھی مؤثر طور پر جانچ کی جا سکے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان رواں سال فروری میں سی سی ڈی کے مبینہ پولیس مقابلوں کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر چکا ہے۔ کمیشن کے مطابق، 2025 میں ہونے والے 670 مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں مبینہ مقابلوں کے واقعات کی نوعیت، حالات اور قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے شفاف تحقیقات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ تاہم، ہر واقعے کے بارے میں حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے الگ الگ شواہد، حالات اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہے؛ محض مجموعی اعداد و شمار کسی انفرادی واقعے کو غیر قانونی ثابت نہیں کرتے۔

مجموعی طور پردیکھا جائے تو جرائم پر قابو پانا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے قانون کی پابندی بھی ناگزیر ہے۔ اگر ملزمان کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہوں تو انہیں عدالتوں سے سزائیں دلوانا ہی انصاف کے نظام کی کامیابی ہے، جبکہ مبینہ پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات سے حقائق سامنے لانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ حکومت، پولیس، استغاثہ اور عدالتی نظام کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سنگین جرائم کے مقدمات مؤثر تفتیش، سائنسی شواہد، محفوظ گواہوں اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے ذریعے اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔ قانون کی بالادستی اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب مجرم سزا سے نہ بچیں اور کسی مشتبہ شخص کو عدالتی فیصلے کے بغیر محض الزام کی بنیاد پر مجرم سمجھ کر اس کے بنیادی حقوق بھی سلب نہ کیے جائیں۔

Back to top button