سہیل آفریدی اس وقت کہاں اور کس حال میں ہیں؟

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی مبینہ حفاظتی تحویل اور ان کے مقام کے بارے میں معلومات سامنے نہ آنے کا معاملہ پشاور ہائی کورٹ تک پہنچ گیا ہے، جہاں صوبائی حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام سے جواب طلب کیا گیا ہے۔ 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے سہیل آفریدی کی موجودگی اور قانونی حیثیت کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔ معاملے نے اس وقت مزید اہمیت اختیار کر لی جب عدالت میں سماعت کے دوران پشاور کے تاریخی شاہی مہمان خانے کا نام سامنے آیا، جہاں سہیل آفریدی کو رکھے جانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم اس اطلاع کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ سہیل آفریدی کہاں ہیں، انہیں کس قانونی اختیار کے تحت تحویل میں رکھا گیا ہے اور حکومت ان کی حراست سے متعلق آئینی تقاضے کیسے پورے کر رہی ہے؟
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق، سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے 13 اکتوبر کو پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی رات مسلح اور نقاب پوش افراد سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے لے گئے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ حکام ان کا سراغ لگائیں اور اگر وہ سرکاری تحویل میں ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ حراست کی قانونی حیثیت کا تعین ہو سکے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق سہیل آفریدی کو دو مقامات پر رکھا گیا ہے، جن میں پشاور کا شاہی مہمان خانہ بھی شامل ہے۔ یہ عمارت گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے قریب واقع ہے اور برطانوی دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ اسے رائل گیسٹ ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور 2019 میں قبائلی اضلاع سے منتخب ارکان صوبائی اسمبلی کی رہائش کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کے حوالے کیا گیا تھا۔ تاہم، سہیل آفریدی کی یہاں موجودگی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
پی ٹی آئی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کے مطابق، سہیل آفریدی، جنید اکبر، بابر سلیم سواتی اور گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو پشاور سے تحویل میں لیا گیا تھا۔ خالد خورشید کو عدالت میں پیش کرکے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، لیکن دیگر افراد کے مقام کے بارے میں انہیں معلومات نہیں تھیں۔
دوسری جانب گورنر راج کے بعد قائم ایڈوائزری کونسل کی رکن اور محکمہ اطلاعات کی ذمہ دار ثمر ہارون بلور نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر حفاظتی تحویل میں ہیں، محفوظ ہیں اور اپنے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق، حالات بہتر ہونے پر انہیں منظر عام پر لایا جائے گا اور اگر ان کے خلاف مقدمات موجود ہیں تو انہیں عدالتوں میں ان کا سامنا کرنا ہوگا۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق، سہیل آفریدی کی حراست کے لیے استعمال کیے گئے مخصوص قانونی اختیار کی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق، پاکستان میں احتیاطی حراست کے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کی دفعہ 3 استعمال کی جاتی ہے۔ اس قانون کے تحت مجاز حکام امن عامہ کے تحفظ کے لیے کسی شخص کو مخصوص قانونی شرائط کے تحت تحویل میں رکھنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس اختیار کا استعمال آئینی تقاضوں کے تابع ہے اور حراست کی وجوہات، مدت اور قانونی جواز کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 10 گرفتاری اور حراست سے متعلق بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے۔ عام گرفتاری اور احتیاطی حراست کے لیے الگ قانونی شرائط موجود ہیں، جن میں متعلقہ حالات کے مطابق گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرنا اور حراست پر قانونی نگرانی شامل ہے۔ اس لیے سہیل آفریدی کے معاملے میں حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ آیا ان کے خلاف باقاعدہ حراستی حکم موجود ہے، اسے کس مجاز اتھارٹی نے جاری کیا اور آئینی تقاضوں پر عمل کیا گیا یا نہیں۔
پشاور ہائی کورٹ نے متعلقہ حکومت اور پولیس حکام کو جواب جمع کرانے کی ہدایت دی تھی، تاہم رپورٹ کے مطابق عدالت نے حراست کو قانونی یا غیر قانونی قرار دینے کا حتمی فیصلہ نہیں دیا تھا۔ اب اس معاملے میں اہم پیش رفت حکومت کے جواب، حراست سے متعلق دستاویزات اور عدالت کے قانونی جائزے سے مشروط ہے۔
مجموعی طور پر، سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل کا معاملہ ان کے مقام کی تلاش سے آگے بڑھ کر سرکاری حراست میں شفافیت، بنیادی حقوق اور ریاستی اختیارات کے قانونی استعمال کا اہم سوال بن گیا ہے۔ شاہی مہمان خانے کا ذکر سامنے آنے کے باوجود ان کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ حکومت انہیں محفوظ قرار دے رہی ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ حکام عدالت کے سامنے حراست کی قانونی بنیاد اور مقام سے متعلق کیا تفصیلات پیش کرتے ہیں۔
