ایران کے ساتھ بات چیت محدود پیمانے پر جاری ہے : امریکی صدر

 

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے یا ختم کرنے کے حوالے سے جلد فیصلہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت محدود پیمانے پر ہورہی ہے،ایران کے ساتھ جنگ کا جلد کوئی نہ کوئی نتیجہ سامنے آئے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا کہ لوگوں کا خیال ہے ایران سے متعلق پیش رفت مڈٹرم انتخابات کےبعد سامنےآئے گی،آنے والے دن اہم ہیں، صورت حال واضح ہوجائے گی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ ایران کےخلاف فوجی محاذ پر امریکا بہت اچھی کارکردگی دکھارہا ہے، ایران کےخلاف امریکا کو فوجی اور مالی دونوں محاذوں پر برتری حاصل ہے۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران پر ایک بار پھر حملوں کی تیاری کررہے ہیں، امریکی وسط مدتی انتخابات کےبعد ایران کے خلاف مختصر لیکن شدید فوجی کارروائی کے منصوبے پر کام جاری ہے۔

ٹرمپ کی ایران جنگ جلد ختم ہونے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گرنے کی پیشگوئی

رپورٹ کے مطابق ایران کی توانائی تنصیبات،جوہری مراکز،میزائل اور ڈرون کے ذخائر ممکنہ اہداف میں شامل ہوسکتے ہیں،امریکی فوج کے مشرقِ وسطیٰ میں تمام فوجی اثاثے نومبر کے آغاز تک تیار ہونے کا امکان ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے حملے ایران کی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں، تاہم ان حملوں سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونےکے بارےمیں شکوک بھی موجود ہیں، ایران پر اس سے پہلے ہونےوالے حملوں کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا۔

حکام کے مطابق امریکی صدر نے تاحال نئےحملوں کی حتمی منظوری نہیں دی،اس لیے فوجی کارروائی کا امکان موجود ہونےکے باوجود فیصلہ یقینی نہیں۔

 

Back to top button