وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کرلیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے کی سکیورٹی صورت حال، دہشت گردی کےخلاف اقدامات اور عوامی مسائل پر گفتگو کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں میں پیدا ہونے والے حالات نے صوبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرداخلہ محسن نقوی، وفاقی وزر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، امیرمقام، رانا ثناءاللہ، گورنر فیصل کریم کنڈی، چیف سیکرٹری، آئی جی اور کورکمانڈر پشاور بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیاگیا جب کہ مسلح افواج، پولیس اور عوام کی شہادتوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہاکہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،ہمارے جوانوں اور افسران کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیراعظم نے شرکاء سے کہاکہ آپ کو صوبے کی پولیس،سیف سٹیز،سی ٹی ڈی کےلیے جو کچھ چاہیے وفاق دےگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی خراب صورت حال اور مسلسل خونریزی کے باعث سخت فیصلے کرنا پڑے،صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج مجبوری کے تحت نافذ کرنا پڑا۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر صوبے میں امن، ترقی اور خوش حالی کا دور واپس لائے گی۔
وزیراعظم نے کہاکہ ہماری بہادر افواج اور سکیورٹی اداروں نے بےپناہ قربانیاں دے کر خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا اور 2018 تک صوبے میں امن قائم ہوچکا تھا۔ اس امن کے قیام میں سکیورٹی اداروں کے ساتھ ماؤں، بہنوں اور بچوں سمیت پوری قوم نے قربانیاں دیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار افراد شہید ہوئے اور ملک کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
شہباز شریف کا کہنا تھاکہ قیام امن کے بعد تحریک انصاف کے دور حکومت میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا،جس سے سابقہ قربانیوں کے ثمرات ضائع ہوئے اور صوبے کے عوام کو ایک بار پھر بدامنی کا سامنا کرنا پڑا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں نے قوم کے بچوں کے مستقبل کے لیے جانیں قربان کیں، ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں خیبرپختونخوا میں تعلیم، صحت، امن و امان اور عوامی فلاح کے شعبوں کو نظر انداز کیاگیا۔ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، سیف سٹی منصوبہ نامکمل رہا جب کہ محکمہ انسداد دہشت گردی اور پولیس کی تربیت پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
خیبر پختونخوا کا سیٹ اپ اگلے الیکشن تک چلنے کا امکان
وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت تمام صوبوں نے خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت وفاق اور صوبوں کے حصے میں سے ایک فیصد اضافی وسائل دینے کا فیصلہ ہوا، جبکہ 2010 کے بعد سے صوبے کو انسداد دہشت گردی کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ اس کے باوجود دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا افسوس ناک ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں ایک مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے،جس میں مختلف شعبوں کے قابل اور دیانت دار ماہرین شامل ہیں۔گزشتہ13 سال سے صوبے کے عوام بنیادی سہولتوں اور مسائل کے حل کے منتظر ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حالیہ اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئیں اور عوام کو ان کی دہلیز پر سہولتیں فراہم کی جائیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں مبینہ بدعنوانی کا ذکر کرتےہوئے الزام لگایا کہ صاف پانی کے منصوبوں میں 100 ارب روپے اور کوہستان میگا سکینڈل میں 37 ارب روپے کی کرپشن سامنے آئی، جب کہ پلاسَر گولڈ منصوبے میں من پسند افراد کو ٹھیکے دیے گئے۔جس جماعت نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر ووٹ حاصل کیے، اسی کے دور حکومت میں صوبے میں بدعنوانی کی مختلف کہانیاں سامنے آئیں۔
وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرےگی اور صوبے میں امن، خوشیاں اور ترقی کا دور واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
