پی ٹی آئی کی قیادت آپس میں دست و گریبان کیوں؟

خیبر پختونخوا میں اپنی 13 سالہ حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کوئی مؤثر حکمت عملی بنانے میں تو ناکام رہی ہی تھی، لیکن سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اب پارٹی کے سینئر رہنما ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہو رہے ہیں اور انکے آپسی اختلافات اب الزامات سے ایک قدم آگے بڑھ کر دھمکیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف شاید پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے اندر بے شمار دھڑے موجود ہیں اور اس کے سینئر رہنما پارٹی کو درپیش سیاسی بحران سے نکالنے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔
ناقدین کے مطابق جب پارٹی کا چیئرمین ہی زبان درازی کرے گا تو دوسرے رہنما بھی اسی نقش قدم پر چلیں گے، یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے سیاسی لائحہ عمل کے بجائے اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی رہتی ہے۔ تحریک انصاف کے اندر جاری تازہ محاذ آرائی اس وقت کھل کر سامنے آگئی جب پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ پر سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور صوبائی اسمبلی کے ارکان نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ سلمان اکرم راجہ نے اپنی پوسٹ میں کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے جنید اکبر کے بعد علی اصغر کو قائم مقام صوبائی صدر قرار دیا اور وسوسے پھیلانے والوں کو سانپ اور سنپولیے سے تشبیہ دی۔ انہوں نے اس صورت حال کو پارٹی کے اندرونی اتفاق پر غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کو شکست ہوگی۔ ان کے بیان نے پارٹی کے اندر پہلے سے موجود اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ کی ٹوئیٹ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے پارٹی گروپ میں اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ تحریک انصاف کسی کے باپ کی نہیں اور اس میں فیصلے کرنے کا اختیار صرف بانی چیئرمین عمران خان کے پاس ہے۔ ان کے مطابق بانی چیئرمین کا ہر حکم پہلے بھی من و عن تسلیم کیا گیا اور آئندہ بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔ علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو سانپ اور سنپولیے قرار دینا ان کا اختیار نہیں، جبکہ انہوں نے یہ دھمکی آمیز جملہ بھی کہا کہ اگر بات سمجھ نہیں آرہی تو سمجھانے کے طریقے ان کے پاس موجود ہیں۔ انہوں نے عہدے کے معاملے پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک عہدہ ہضم نہیں ہورہا تو اس کے لیے ہاضمے کی دوا موجود ہے۔
علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر معذرت اور اسے حذف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے الزامات عائد کیے گئے کہ پارٹی کے اندر کسی خاص رائے کے لیے ماحول بنایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سلمان اکرم راجہ کی عزت بانی چیئرمین کی وجہ سے کرتے ہیں، تاہم انہیں معلوم نہیں کہ کون انہیں یہ بے بنیاد باتیں بتا رہا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موجودہ صورت حال پارٹی رہنماؤں کی غلطیوں اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، کیونکہ عمران نے انہیں اختیارات دیے لیکن وہ نہ انہیں درست طور پر استعمال کر سکے اور نہ ہی اپنی ذمہ داریاں پوری کرسکے۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ پر یہ اعتراض بھی کیا کہ انہیں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بلایا جاتا ہے لیکن وہ شرکت نہیں کرتے، اس لیے انہیں اپنے الزامات کی وضاحت دینی چاہیے۔
گورنر راج کی راہ کس نے ہموار کی؟ گنڈاپور نے شواہد مانگ لیے
دوسری جانب خیبر پختون خوا اسمبلی کے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بھی سلمان اکرم راجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل ترین سیاسی حالات میں منتخب نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان پر الزامات لگانا افسوس ناک ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے منتخب نمائندے سیاسی دباؤ، مقدمات اور گرفتاریوں جیسے چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں، اس لیے ان کی مشکلات کو سمجھے بغیر پارٹی کے اندرونی معاملات پر ایسے بیانات دینا اختلافات کو بڑھانے کے مترادف ہے۔ ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ صوبائی معاملات اور سیاسی فیصلوں میں پارلیمانی پارٹی کی رائے، زمینی حقائق اور منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کو بنیادی اہمیت دی جائے اور تمام فیصلے باہمی مشاورت، اعتماد اور احترام کے ساتھ کیے جائیں۔
سابق صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے بھی سلمان اکرم راجہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ حساس پارٹی معاملات پر سوشل میڈیا پر اظہار خیال کرنے سے پہلے حقائق کی مکمل تصدیق ضروری ہے۔ ان کے مطابق صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نہ تو وزیراعلیٰ کی نامزدگی کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوا اور نہ ہی صوبائی صدر کی تبدیلی پر غور کرکے کوئی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں صرف یہ طے پایا تھا کہ وفاقی حکومت، اپوزیشن یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جائے تاکہ صوبے کے سیاسی مؤقف اور حقوق کا بھرپور دفاع ہوسکے۔ آفتاب عالم نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو ٹویٹ کرنے سے پہلے صوبائی پارلیمانی پارٹی سے رابطہ کرکے صورت حال معلوم کرنی چاہیے تھی۔
آفتاب عالم کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے لیے بیرسٹر گوہر کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی اور انہیں اعتماد میں لے کر ان کی مشاورت سے اجلاس طے کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے مذاکرات میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کو مناسب مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے مؤقف کی مؤثر ترجمانی نہ ہونے سے سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اجلاس کا فیصلہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نامزدگی یا صوبائی صدر کی تبدیلی سے متعلق نہیں تھا، بلکہ آئندہ مذاکرات میں صوبے کی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندرونی معاملات کو عوامی سطح پر اچھالنے کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جانا چاہیے۔
بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے پارٹی رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی علی امین گنڈاپور، شیخ وقاص اکرم، علی اصغر خان اور سلمان اکرم راجہ سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے اور پارٹی متحد ہے۔ ان کے مطابق ارکان اسمبلی نے کبھی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ آئندہ کریں گے، جبکہ بانی چیئرمین کو بھی ان پر فخر ہے۔ بیرسٹر گوہر نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ تاہم ناقدین کے مطابق قیادت کی جانب سے اتحاد کے دعووں اور بیان بازی روکنے کی ہدایت کے باوجود سینئر رہنماؤں کے درمیان الزامات، جوابی حملوں اور دھمکیوں کا تبادلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اقتدار کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کو صرف بیرونی سیاسی دباؤ ہی نہیں بلکہ اپنے اندرونی اختلافات سے بھی نمٹنے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔
