دو جعلی پولیس مقابلوں پر مثبت عوامی رد عمل کیوں آیا؟

 

 

 

پاکستان میں سنگین جرائم کے ملزمان کو ماورائے عدالت جعلی پولیس مقابلوں میں مارنے پر عموماً عوام کی جانب سے مذمت کی جاتی ہے، لیکن اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی اور ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے والے ملزمان کی پولیس مقابلوں میں اموات پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ان دونوں واقعات میں ملزمان کی اموات پر مذمت کے بجائے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان پولیس مقابلوں کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں عدالتی نظام سے بروقت انصاف حاصل کرنا اس قدر مشکل ہو چکا ہے کہ اگر یہ ملزمان زندہ رہتے اور ان کے کیسز عدالتوں میں چلتے تو شاید انہیں معمولی سزائیں ملتیں اور متاثرہ خاندان انصاف کے لیے برسوں دھکے کھاتے رہتے۔

 

اسلام آباد میں 23 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کے ویزا فراڈ اور خودکشی کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم محمد نعمان کی پولیس مقابلے میں موت نے اس بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق ملزم کو تفتیش اور برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ تھانہ رمنہ کی حدود میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کر کے اسے چھڑوانے کی کوشش کی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دوران محمد نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے زخمی ہوا اور پھر ہسپتال میں دم توڑ گیا، جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ پولیس نے ملزم کے دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم سچ کیا ہے، یہ سب جانتے ہیں۔

 

لائبہ اعجاز کا معاملہ اس لیے بھی غیرمعمولی توجہ حاصل کر گیا تھا کہ وہ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی ایک ہونہار طالبہ اور سکالرشپ ہولڈر تھیں، جنہیں امریکہ میں اعلیٰ تعلیم دلوانے کا جھانسہ دے کر 95 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ ان کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے خود کو بااثر سرکاری عہدیدار ظاہر کیا اور بیرون ملک تعلیم کے لیے داخلے اور ویزے کا وعدہ کیا، لیکن بعد میں فراہم کی گئی دستاویزات جعلی نکلیں۔ لائبہ کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ اس فراڈ کے باعث خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہوا، یہاں تک کہ ان کے والد نے اپنی جمع پونجی خرچ کرنے کے علاوہ گھر بنانے کے لیے خریدا گیا پلاٹ بھی فروخت کر دیا۔ اہل خانہ کے مطابق اسی پریشانی نے لائبہ کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کیا اور انہوں نے 10 اکتوبر کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں جان دے دی۔ اس مقدمے میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی نوٹس لیا تھا، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی معاملے کی تحقیقات کر رہا تھا۔

 

دوسری جانب ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کے قتل کیس میں نامزد ٹھیکیدار توقیر نذیر کی موت نے بھی مثبت عوامی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ 19 اکتوبر کو پیش آنے والے اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک گاڑی کو وسیم کا تعاقب کرتے اور پھر اسے ٹکر مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق وسیم جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا اور گاڑی میں سوار افراد اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ گاڑی کی ٹکر سے لڑکا موقع پر دم توڑ گیا، واقعے کے بعد ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور توقیر نذیر سمیت ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ابتدائی عدالتی کارروائی کے بعد توقیر کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا، لیکن بعد میں بتایا گیا کہ وہ پولیس تحویل سے فرار ہو گیا ہے۔

 

پنجاب کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے مطابق توقیر نذیر اپنے ساتھیوں کی مدد سے فرار ہونے کے چند گھنٹوں بعد بہاولپور بائی پاس کے قریب پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ سی سی ڈی کی ایف آئی آر کے مطابق ملتان سے منتقلی کے دوران سرکاری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوا، جس کے بعد پولیس ٹیم کو رکنا پڑا۔ اسی دوران موٹر سائیکلوں پر سوار افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اور توقیر کو چھڑوا کر لے گئے۔ بعد ازاں بہاولپور میں پولیس نے مشتبہ موٹر سائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر دوبارہ فائرنگ ہوئی، جس میں توقیر اپنے ساتھی کی گولی لگنے سے مارا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس دوران اہلکار محفوظ رہے، جبکہ توقیر کے دوسرے ساتھی امجد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

 

وسیم عباس کے قتل کے واقعے نے اس لیے بھی لوگوں کو مشتعل کیا کہ وہ ایک یتیم خانے میں رہتا تھا اور الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔ اس کے رشتہ داروں نے الزام لگایا کہ اسے کام کے دوران تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور وہ جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد اہل علاقہ نے ایک ملزم کو پکڑ لیا تھا، جبکہ دوسرا فرار ہو گیا تھا۔ وسیم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس کے والد کی وفات کے بعد اسے اور اس کے چھوٹے بھائی کو یتیم خانے میں داخل کرایا گیا تھا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ یتیم خانے کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہیں کہ بچوں کو نجی ٹھیکیداروں کے پاس کس اختیار کے تحت بھیجا جاتا تھا اور آیا اس حوالے سے کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود تھا۔

 

ان واقعات میں ملزمان کی اموات پر مثبت ردعمل کا بنیادی سبب پاکستان کے فوجداری نظام انصاف سے مایوسی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم کے مقدمات میں تفتیش، گواہوں کے تحفظ، عدالتی کارروائی میں تاخیر، ضمانتوں اور سزا پر عمل درآمد کے مسائل کے باعث متاثرہ خاندان اکثر انصاف کے حصول کے لیے طویل انتظار کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر لائبہ اعجاز اور وسیم عباس کے مقدمات کے ملزمان زندہ رہتے تو مقدمات کے فیصلوں تک پہنچنے میں برسوں لگ سکتے تھے اور ممکن ہے کہ انہیں ایسی سزائیں نہ ملتیں جنہیں متاثرہ خاندان اپنے نقصان کے مطابق انصاف سمجھتے۔

گورنر راج کی راہ کس نے ہموار کی؟ گنڈاپور نے شواہد مانگ لیے

پاکستان میں جعلی پولیس مقابلوں پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور قانونی ماہرین طویل عرصے سے اعتراض کرتے رہے ہیں کہ ملزم کتنا ہی سنگین جرم کیوں نہ کرے، اسے عدالت میں پیش کرنا، شواہد کی بنیاد پر جرم ثابت کرنا اور قانون کے مطابق سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پولیس مقابلے میں ملزم کی ہلاکت نہ صرف اس کے خلاف مقدمے کے عدالتی فیصلے کا راستہ بند کر دیتی ہے بلکہ یہ سوال بھی پیدا کرتی ہے کہ آیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دعووں کی آزادانہ تحقیقات ہوئیں یا نہیں۔ لائبہ اعجاز اور وسیم عباس کے مقدمات میں عوامی ردعمل کا رخ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس نے انصاف کے نظام پر عدم اعتماد اور فوری سزا کی خواہش کے درمیان موجود کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے۔

 

 

Back to top button