اچکزئی پی ٹی آئی کی کمر توڑنے کے ذمہ دار کیوں قرار؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے قومی اسمبلی میں عمران خان کی جانب سے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی ناکامی اور خیبر پختون خواہ حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران اچکزئی نے غیرلچک دار رویہ اپنایا اور ایسی شرائط رکھیں جو قابل قبول نہیں تھیں، چنانچہ سیاسی دباؤ کو کامیابی میں تبدیل کرنے کا موقع ضائع ہوگیا اور تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں بھی اقتدار سے محروم ہونا پڑ گیا۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ کامیابی کے ہزار باپ ہوتے ہیں جبکہ ناکامی یتیم ہوا کرتی ہے۔ یہی صورت حال تحریک انصاف کو درپیش ہے، جہاں لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد پارٹی رہنما ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ کور کمیٹی کے بیشتر ارکان نے سہیل آفریدی کو مورد الزام ٹھہرایا، ذیادہ تر اراکین نے محمود اچکزئی کی سیاست پر سوالات اٹھائے جبکہ کچھ رہنماؤں نے بیرسٹر گوہر خان کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم صافی کے مطابق سب سے بھاری ذمہ داری محمود اچکزئی پر عائد ہوتی تھی جن کے بچگانہ رویے نے اپوزیشن کا دھڑن تختہ کر دیا۔

ان کے مطابق تحریک انصاف روایتی سیاسی جماعتوں کی طرح منظم نہیں ہوئی بلکہ اس کی سیاست بڑی حد تک عمران خان کی ذات اور ان کے اعتماد کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی میں قیادت اور اختیارات کا توازن بھی وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتا رہا۔ انتخابات کے بعد علی امین گنڈاپور کو عمران خان کا اعتماد حاصل ہوا تو وزارت اعلیٰ کے ساتھ سیاسی فیصلوں میں بھی ان کا کردار بڑھ گیا، لیکن بعدازاں بعض پارٹی رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کی جانب سے ان پر اسٹیبلشمنٹ سے مبینہ روابط اور عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر کوششیں نہ کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ نتیجتاً ان کی جگہ سہیل آفریدی کو آگے لایا گیا۔

سلیم صافی کے مطابق سہیل آفریدی نے وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد اپنی پسند کی ٹیم تشکیل دی، تاہم انہیں بھی پارٹی کے اندر مختلف حلقوں کی مخالفت کا سامنا رہا۔ ان پر تنقید کرنے والوں میں جارحانہ احتجاج کے حامی اور سیاسی مفاہمت کو ترجیح دینے والے دونوں گروہ شامل تھے۔ اس دباؤ کے دوران انہوں نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا، پہلے 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی اور بعدازاں اسے تبدیل کرکے 4 اکتوبر کردیا۔ تاریخ میں تبدیلی پر بھی پارٹی کے اندر سوالات اٹھے، جس سے قیادت کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئیں۔

مقررہ تاریخ پر مارچ شروع ہوا تو وفاقی حکومت اسلام آباد کی جانب پیش قدمی روکنے کے لیے پہلے ہی انتظامات کرچکی تھی۔ نتیجتاً مارچ اسلام آباد پہنچنے کے بجائے خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں تک محدود رہا۔ اس دوران تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی عدم موجودگی بھی نمایاں رہی۔ محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر خان اور اسد قیصر مارچ کے کنٹینر پر دکھائی نہیں دیے، حالانکہ پارٹی کے اہم عہدے دار ہونے کے ناتے ان سے احتجاجی تحریک کی رہنمائی اور سیاسی حکمت عملی میں فعال کردار کی توقع کی جارہی تھی۔

سلیم صافی بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر آفریدی کا لانگ مارچ کا فیصلہ غلط تھا تو اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے انہیں بروقت روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ اور اگر یہ فیصلہ درست تھا تو پھر وہ خود اس کا حصہ بن کر قیادت کرنے آگے کیوں نہ آئے؟ انکے بقول، احتجاجی سیاست کا محدود تجربہ رکھنے والے نوجوان وزیراعلیٰ کی رہنمائی کرنا اور مارچ کو مؤثر سیاسی دباؤ میں تبدیل کرنا سینئر قیادت کی ذمہ داری تھی۔ اس موقع پر محمود اچکزئی کو محض پارلیمانی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی سیاسی کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔

صافی کے مطابق لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت پر دباؤ بڑھا تو وزیراعظم نے محمود اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت دی۔ لیکن اچکزئی نے وزیراعظم ہاؤس یا کسی دوسری سرکاری عمارت میں ملاقات کرنے کے بجائے اصرار کیا کہ مذاکرات مری میں ان کی رہائش گاہ پر ہوں۔ صافی اس رویے کو سخت گیر اور غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ جب اچکزئی کو پارلیمنٹ ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز جیسی سرکاری عمارتوں میں بیٹھنے پر اعتراض نہیں تو مذاکرات کے لیے کسی دوسری سرکاری عمارت کا انتخاب ان کے لیے ناقابل قبول کیوں تھا؟

سلیم صافی یاد دلاتے ہیں کہ لانگ مارچ کے دوران سپیکر کے چیمبر میں حکومت اور تحریک انصاف کی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا ایک اور موقع بھی سامنے آیا، لیکن اچکزئی نے اس میں بھی شرکت سے گریز کیا۔ ان کا کہنا یے کہ تب سیاسی دانش مندی اور لچک کا مظاہرہ کیا جاتا تو عمران کے لیے ریلیف لینے کی راہ نکل سکتی تھی۔ لیکن غیرضروری شرائط پر اصرار نے تحریک انصاف کے ہاتھ سے ایک اہم موقع نکال دیا۔

سلیم صافی کے مطابق ایک اہم پہلو تحریک انصاف اور محمود اچکزئی کے درمیان سیاسی مزاج کا فرق بھی ہے۔ ان کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا اپنا سیاسی کلچر اور طریقۂ کار ہے، جبکہ تحریک انصاف کی سیاست مختلف انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ دونوں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث نہ اچکزئی پی ٹی آئی کے سیاسی مزاج سے پوری طرح مطابقت پیدا کرسکے اور نہ ہی تحریک انصاف کے بعض رہنما ان کے سیاسی فلسفے اور حکمت عملی سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ اسی لیے تحریک انصاف کے حلقوں میں یہ رائے پائی جاتے یے کہ اگر محمود خان اچکزئی کی جگہ مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن لیڈر بنایا جاتا تو وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات سے سیاسی راستہ نکالنے میں کامیاب ہوجاتے۔

Back to top button