کے پی حکومت کے خاتمے کے بعد PTI کنفیوژن کا شکار

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے 13 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد پارٹی قیادت اپنے اگلے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے مکمل کنفیوژن کا شکار ہے، بنیادی وجہ یہ یے کہ عمران خان اور ان کے خاندان کے فیصلہ ساز افراد قید میں ہیں، جبکہ باہر موجود قیادت کے پاس حتمی فیصلے کرنے کا اختیار نہیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ اور حالیہ لانگ مارچ کی ناکامی نے پی ٹی آئی کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مزاحمتی سیاست جاری رکھے گی، مفاہمت کا راستہ اختیار کرے گی یا کوئی تیسری حکمت عملی اپنائے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی کو درپیش اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوامی حمایت اور سیاسی طاقت کے باوجود قیادت نہ تو احتجاج سے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکی ہے اور نہ ہی مذاکرات کے ذریعے سیاسی تعطل توڑنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق بڑا مسئلہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا  عہدہ محمود اچکزئی کے پاس ہے جن کی پارلیمنٹ میں صرف ایک سیٹ ہے، اسکے باوجود خان صاحب نے فیصلہ سازی کا اختیار ان کو سونپ دیا جسکا نتیجہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ٹوٹنے اور خیبر پختون خواہ حکومت کے خاتمے کی صورت میں سامنے آیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں حکومت کا خاتمہ پی ٹی آئی کے لیے محض اقتدار سے محرومی نہیں بلکہ اس سیاسی حکمت عملی کے لیے بھی بڑا دھچکا ہے۔ خیبر پختون خواہ میں حکومت ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف گزشتہ 13 برس سے صوبے کو اپنی مضبوط سیاسی بنیاد اور وفاقی حکومت کے خلاف مزاحمت کے مرکز کے طور پر استعمال کرتی رہی۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا میں پہلی مرتبہ حکومت بنانے والی تحریک انصاف نے 2024 کے الیکشن کے بعد بھی صوبے میں اپنی حکومت برقرار رکھی تھی، لیکن ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے اسکی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور وہ سیاسی طور پر بہت زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔

پارٹی کے لیے مشکلات اس لیے بھی بڑھ گئی ہیں کہ اس کی مرکزی قیادت کے اہم رہنما جیلوں میں ہیں، کئی دیگر لیڈرز کو مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا ہے اور صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد احتجاجی سیاست کے لیے دستیاب انتظامی و سیاسی گنجائش بھی ختم ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے اس کے سیاسی سفر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ پارٹی نے احتجاجی سیاست، بڑے عوامی اجتماعات اور لانگ مارچ کے ذریعے قومی سیاست میں اپنی نمایاں شناخت بنائی اور مختلف ادوار میں وفاقی حکومتوں پر دباؤ ڈالا۔ 2018ء میں وفاقی اقتدار حاصل کرنے کے باوجود سیاسی مخالفین کے ساتھ محاذ آرائی اور عدم اعتماد کی فضا ختم نہ ہو سکی، یہاں تک کہ اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی۔ اس کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت کی تبدیلی کو سیاسی جدوجہد کا محور بنایا اور احتجاجی تحریک جاری رکھی۔

تاہم 9 مئی 2023 کو تحریک انصاف کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد پارٹی کو قانونی، تنظیمی اور سیاسی مشکلات کے ایک نئے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کے مطابق، مسلسل مزاحمت کے باوجود پارٹی اپنے سیاسی مطالبات منوانے اور اقتدار میں واپسی کے لیے کوئی مؤثر راستہ نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

حالیہ لانگ مارچ کی ناکامی نے بھی پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ یہ وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے اور پارٹی کے سیاسی مطالبات کو نمایاں کرنے میں کامیاب ہوں گی، لیکن مارچ مطلوبہ عوامی قوت اور سیاسی نتائج حاصل نہیں کر سکا۔

ایسے میں پارٹی کے اندر یہ بحث اہمیت اختیار کر رہی ہے کہ اگر مسلسل احتجاج کے باوجود سیاسی تعطل ختم نہیں ہو رہا تو کیا اسی طرز عمل کو جاری رکھنا دانش مندی ہوگی یا سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذاکرات اور پارلیمانی جدوجہد کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کی مشکلات کا ایک اہم پہلو فیصلہ سازی کا بحران ہے۔ عمران خان جیل میں ہیں اور پارٹی کے اندر ان کے خاندان کے جن افراد کو اہم فیصلوں میں اثر و رسوخ حاصل سمجھا جاتا ہے، وہ بھی قید میں ہیں۔ ایسے میں باہر موجود رہنماؤں کے لیے نہ صرف پارٹی کارکنوں کو متحرک رکھنا مشکل ہو رہا ہے بلکہ سیاسی حالات کے مطابق فوری اور حتمی فیصلے کرنا بھی آسان نہیں۔ پارٹی کی قیادت کا بڑا حصہ عمران خان کی ہدایات اور منظوری کا منتظر رہتا ہے، جس کے باعث متبادل حکمت عملی اختیار کرنے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب، اگر کوئی رہنما مذاکرات یا سیاسی مفاہمت کی بات کرتا ہے تو اس کے لیے بانی چیئرمین کے مؤقف اور پارٹی کے کارکنوں کی توقعات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یوں قیادت کو ایک طرف عمران خان سے وفاداری برقرار رکھنے اور دوسری طرف بدلتے حالات میں عملی سیاسی راستہ نکالنے کے درمیان توازن قائم کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔

پارٹی کے اندر مذاکراتی عمل اور قیادت کی ذمہ داریوں پر اختلافات بھی اس بحران کو گہرا کر رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اور دیگر رہنماؤں کے کردار، مذاکرات میں پیش رفت اور آئندہ سیاسی فیصلوں کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ محمود خان اچکزئی کا یہ مؤقف کہ انہیں جس شخصیت نے اپوزیشن لیڈر مقرر کیا، تبدیلی کا اختیار بھی اسی کے پاس ہے، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی میں اہم عہدوں اور فیصلہ سازی کے اختیارات کا معاملہ کس قدر حساس ہو چکا ہے۔ اگر بیرون جیل قیادت کو مذاکرات، احتجاج اور پارلیمانی سیاست کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں تو کسی نئی حکمت عملی پر اتفاق پیدا کرنا بھی مشکل ہوگا۔ اس صورت حال میں پارٹی کے لیے یہ طے کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ آیا وہ تمام فیصلوں کو عمران خان کی ہدایات سے مشروط رکھے گی یا موجودہ قیادت کو حالات کے مطابق سیاسی اقدامات کرنے کا اختیار دے گی۔

Back to top button