حکومت سنجیدہ ہے تو وزیراعظم خودمذاکرات کی دعوت دیں،اپوزیشن

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ حکومت اگر مذاکرات کیلیے سنجیدہ ہے تو وزیراعظم خود دعوت دیں ورنہ بات چیت کا مذاق اڑانے والوں پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔

اپوزیشن رہنماؤں محمود خان اچکزئی،بیرسٹر گوہر اور دیگر نے موجودہ صورت حال پر پریس کانفرنس کی۔ جس میں گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزائی نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر کا ریکارڈ محفوظ آئینی تقاضہ ہے اور یہ ہونا چاہیے  تاکہ پاکستان کے عوام فیصلہ کریں کہ ان کے نمائندے کیا کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تقاریر قوموں کی تاریخ محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہوتی ہیں، پارلیمنٹ میں جو باتیں ہمارا حق ہیں، ان کے لیے بھی ہمیں لڑنا پڑتا ہے، اسپیکر کا اختیار قوانین کی کتاب کے مطابق ہونا چاہیے، قومی اسمبلی میں بعض ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوتے ہیں، بعض کے نہیں ہوتے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں نے کل کی تقریر میں کوئی غلط بات نہیں کی مگر میری ساڑھے چار منٹ کی تقریر کو نو منٹ میں پیش کیا گیا جبکہ اُس تقریر میں ایک لفظ بھی ملک کے خلاف نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے، سینکڑوں گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، ایف ٹاؤر کو نذر آتش کیا گیا مگر مظاہرین پر گولیاں نہیں چلائی گئیں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مذاکرات کا مذاق اڑانے والوں پر اب کون بھروسہ کرے گا، ہم نے سیاسی مذاکرات کے لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ ہماری سنجیدگی ہی تھی جس کی وجہ سے مولانا فضل الرحمان وزیراعظم سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حکومت واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے وزیراعظم خود دعوت دیں، اب مذاق اڑانے کے انداز میں مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ  موجودہ حکومت میں کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے لیے خواجہ آصف کی سربراہی میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم غیر جمہوری نظام کے خلاف جمہوری انداز میں لڑیں گے اور پاکستان کو بچانے کے خواہش مند ہر شہری کا فرض ہے کہ جمہوریت کے لیے کھڑا ہو، پاکستان میں طاقتور پارلیمنٹ اور اداروں کو اپنے دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بھی ہوجائے ہم پاکستان کو غیر جمہوری نظام کے حوالے نہیں کریں گے کیونکہ یہ نظام ملک کو توڑنے کا راستہ ہے۔

 

Back to top button