کیا واقعی حوثی القاعدہ اور داعش سے زیادہ بڑا خطرہ بن سکتے ہیں؟

یمن کی حوثی ملیشیا القاعدہ اور داعش سے نظریاتی طور پر مختلف ہونے کے باوجود خطے کے لیے زیادہ دیرپا خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ اس نے محض مسلح کارروائیوں تک محدود رہنے کے بجائے ریاستی اداروں، حکومتی ڈھانچے اور وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کیا ہے۔ عرب نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، حوثیوں کا مذہبی بنیادوں پر اقتدار کا دعویٰ، ایران کی حمایت اور یمن کی سرحدوں سے باہر اثرورسوخ بڑھانے کی صلاحیت انہیں دیگر انتہا پسند تنظیموں سے مختلف بناتی ہے۔
خیال رہے کہ حوثی تحریک کی بنیاد زیدی شیعہ روایت کی ایک مخصوص اور سخت گیر تعبیر پر ہے۔ اس کے نظریاتی پس منظر میں زیدی امامت کا تاریخی تصور شامل ہے، جس کے تحت مذہبی نسب اور مخصوص اہلیت کو حکمرانی کے حق سے جوڑا جاتا ہے۔ تجزیے کے مطابق، حوثیوں نے اس تاریخی روایت کو جدید سیاسی اور عسکری منصوبے کے ساتھ ملا کر اقتدار کے لیے اپنے دعوے کو جواز فراہم کیا۔ تاہم تمام زیدی مسلمان حوثیوں کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتے اور متعدد زیدی علما اس تحریک کے انتہا پسندانہ رجحانات کی مخالفت بھی کرتے رہے ہیں۔
جدید حوثی تحریک کی جڑیں 1990 کی دہائی میں قائم ہونے والی تنظیم ’’الشباب المؤمن‘‘ میں ملتی ہیں، جس کے نمایاں رہنماؤں میں حسین بدرالدین الحوثی اور ان کے والد بدرالدین الحوثی شامل تھے۔ وقت کے ساتھ تحریک پر ایرانی انقلاب اور لبنان کی حزب اللہ کے تنظیمی و عسکری تجربات کے اثرات بڑھے۔ یمنی ریاست کے خلاف متعدد جنگوں اور مخالف گروہوں سے تصادم کے بعد حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا۔ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ ان کا اتحاد بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور اختلافات کے بعد 2017 میں صالح مارے گئے۔
تجزیے کے مطابق، حوثیوں کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ ایک خفیہ مسلح نیٹ ورک کے بجائے ریاستی ڈھانچے میں گہری رسائی حاصل کرچکے ہیں۔ وزارتوں، سکیورٹی اداروں اور سرکاری مشینری پر کنٹرول نے انہیں زیرِ قبضہ علاقوں میں اپنی حکمرانی مستحکم کرنے کا موقع دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں شکست دینا یا ان کے اثرورسوخ کو ختم کرنا ایسے گروہوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے جو بنیادی طور پر خفیہ کارروائیوں اور مسلح حملوں پر انحصار کرتے ہیں۔
ایران کی عسکری، مالی اور ذرائع ابلاغ سے متعلق مدد نے حوثیوں کی علاقائی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ زیدی امامت اور ایران کے نظریۂ ولایتِ فقیہ میں اہم مذہبی اختلافات موجود ہیں، تاہم سیاسی سطح پر مذہبی اختیار کو عام احتساب سے بالاتر رکھنے اور رہنما سے وفاداری کو مرکزی حیثیت دینے جیسے رجحانات میں مماثلت دیکھی جاسکتی ہے۔ تجزیے کے مطابق، حوثیوں نے ایران کی مدد اور حزب اللہ کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمسایہ ممالک اور بین الاقوامی بحری راستوں کے لیے بھی خطرات پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کی ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب کو حوثیوں کی حکمتِ عملی میں خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ وہ یمن کا ہمسایہ اور وہاں کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا اہم حامی ہے۔
حوثیوں اور القاعدہ کے درمیان تعلقات بھی اس پیچیدہ صورتِ حال کی ایک مثال ہیں۔ اگرچہ دونوں کے مذہبی نظریات میں شدید اختلافات رہے ہیں اور ان کے درمیان مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں، تاہم قیدیوں کے تبادلے، عارضی مفاہمت، انٹیلی جنس رابطوں اور ہتھیاروں کی منتقلی سے متعلق اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ تجزیے میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے پینل کی 2024 کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں یمنی حکومتی فورسز کے خلاف حوثیوں اور القاعدہ فی جزیرۃ العرب کے درمیان مفاداتی تعاون کا ذکر تھا۔ تاہم ایسی اطلاعات کو مستقل اتحاد یا مکمل نظریاتی ہم آہنگی کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
القاعدہ نے سرحدوں سے ماورا جہادی تحریک کے قیام کی کوشش کی، جبکہ داعش نے عراق اور شام کے علاقوں پر قبضہ کرکے خلافت کے قیام کا اعلان کیا اور وہاں حکمرانی بھی کی، لیکن بعد میں اپنے اہم ٹھکانے کھو دیے۔ اس کے برعکس، حوثی ایک ایسے ملک میں اپنی طاقت برقرار رکھے ہوئے ہیں جہاں امامت کی تاریخی روایت موجود رہی ہے اور وہ اپنے سیاسی اقتدار کو اسی مذہبی ورثے سے جوڑتے ہیں۔ ان کا موجودہ ریاستی ڈھانچے میں اثرورسوخ اور بیرونی حمایت ان کے لیے زیادہ دیرپا سیاسی چیلنج پیدا کرسکتی ہے۔
تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ نہیں کہ حوثی لازماً القاعدہ یا داعش سے زیادہ ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کا سیاسی منصوبہ زیادہ مضبوط اور دیرپا ثابت ہوسکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایک ایسی مسلح تحریک، جو علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہو، ریاستی اداروں میں جڑیں بنا چکی ہو اور بیرونی حمایت حاصل کرتی ہو، کسی ملک کے سیاسی مستقبل اور علاقائی سلامتی کے لیے زیادہ پیچیدہ خطرہ بن سکتی ہے۔ یمن اور اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے اس چیلنج کو نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
