پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے دفاعی معاہدے سے انڈیا کو تکلیف کیوں؟

پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے مابین طے پانے والے بدر معاہدے نے بھارت کے چھکے چھڑا دئیے ہیں۔ ایک طرف پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کے لیے ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو خطے میں دفاعی شراکت داری کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کی دفاعی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ، مشترکہ تحقیق و ترقی، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دفاعی تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ تاہم دوسری جانب بھارت اس پیش رفت کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات اور ممکنہ مشترکہ اسلحہ سازی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ جس نے مودی سرکار کی نیندیں خراب کر دی ہیں۔

قطر کی وزارتِ دفاع کے مطابق، دوحہ میں طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت پر چاروں ممالک کی وزارتِ دفاع کے نمائندوں سمیت پاکستان کے ادارۂ دفاعی پیداوار اور ترکی کے صدارتی محکمہ برائے دفاعی صنعت نے دستخط کیے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط بنانے، خود انحصاری بڑھانے اور مشترکہ پیداوار و ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کو اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق، اس تعاون کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا بھی ہے۔

دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے چاروں ممالک کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق، پاکستان کی مسلح افواج میں تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار فعال اہلکار ہیں، جبکہ ترکی میں یہ تعداد تقریباً 4 لاکھ 81 ہزار اور انڈونیشیا میں 4 لاکھ سے زائد ہے۔ قطر کی فعال فوجی نفری تقریباً 26 ہزار 550 ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں پاکستان کے دفاعی اخراجات 11.9 ارب ڈالر، ترکی کے 30 ارب ڈالر اور انڈونیشیا کے 15 ارب ڈالر سے زیادہ رہے۔ قطر کے دفاعی اخراجات کے تازہ اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم 2022 میں اس کا دفاعی بجٹ 15.4 ارب ڈالر تھا۔

دفاعی پیداوار کے شعبے میں ترکی نسبتاً مضبوط مقام رکھتا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق، گزشتہ 5 برسوں میں ترکی کی دفاعی برآمدات میں 122 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد وہ دنیا کا گیارہواں بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا۔ پاکستان اور ترکی پہلے ہی دفاعی صنعت میں تعاون کر رہے ہیں۔ پاکستان بحریہ کے لیے ملجم بابر کلاس کے 4 جنگی جہازوں کی تیاری اس شراکت داری کی نمایاں مثال ہے۔ ان میں سے 2 جہاز ترکی میں جبکہ باقی 2 کراچی شپ یارڈ میں تیار کیے گئے، جس سے پاکستان کی مقامی پیداواری اور انجینیئرنگ صلاحیتوں میں اضافے کا موقع ملا۔

ترکی اور انڈونیشیا بھی مشترکہ دفاعی پیداوار کے منصوبوں پر کام کر چکے ہیں۔ کپلان ایم ٹی ٹینک ترک دفاعی کمپنی ایف این ایس ایس اور انڈونیشیا کی کمپنی پی ٹی پنڈاد نے مشترکہ طور پر تیار کیا۔ اسی طرح ترکی اور قطر کے درمیان بھی دفاعی تعاون موجود ہے، جس کے تحت قطر کو مسلح ڈرونز، بکتر بند گاڑیاں اور تیز رفتار حملہ آور بحری کشتیاں فراہم کی گئی ہیں۔ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں، تاہم کسی حتمی معاہدے کی تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔

’بدر‘ مفاہمتی یادداشت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے بعد مسلم ممالک کے دفاعی تعاون پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ تاہم انقرہ میں مقیم صحافی لیونت کمال کے مطابق، بدر مفاہمتی یادداشت کو مکہ دفاعی معاہدے جیسا سمجھنا درست نہیں اور دونوں کے درمیان تعلق یا تکمیلی کردار کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ اٹلانٹک کونسل سے وابستہ عمر صمد کے مطابق، یہ پیش رفت مسلم اکثریتی ممالک کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے، باہمی تعاون بہتر بنانے اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے نزدیک اسے کسی ’مسلم نیٹو‘ کے قیام کی ابتدا قرار دینا درست نہیں۔

بھارت میں بدر مفاہمتی یادداشت کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ بعض بھارتی مبصرین کا خیال ہے کہ اس تعاون سے پاکستان کو ترکی سمیت دیگر شراکت داروں سے فوجی معاونت اور مشترکہ اسلحہ سازی کے نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ بھارتی تجزیہ کار انکُر اگروال نے پاکستان کی حالیہ دفاعی کارکردگی اور عالمی سطح پر اس کے بیانیے کو اس پیش رفت سے جوڑا، جبکہ دیگر بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے مشترکہ دفاعی نظاموں اور ہتھیاروں کی تیاری کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی۔

تاہم بھارتی مبصرین کی آرا کے باوجود، اس مفاہمتی یادداشت کو لازماً بھارت مخالف فوجی اتحاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق، اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ چاروں ممالک کے درمیان تعاون عملی طور پر کن منصوبوں، ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں تبدیل ہوتا ہے اور اس کے خطے کے طاقت کے توازن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فی الحال بدر مفاہمتی یادداشت دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کا فریم ورک ہے، اسے باہمی جنگی دفاع کی ضمانت یا مشترکہ فوجی کارروائیوں کا معاہدہ قرار دینا قبل از وقت ہو گا۔

Back to top button