218ارب مالیتی لاہور جم خانہ کا کرایہ صرف 417 روپےماہانہ کیوں؟

لاہور کے معروف جم خانہ کلب کو 112 سے 117 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی محض 5 ہزار روپے سالانہ کرایے پر دینے کا معاملہ پنجاب اسمبلی میں زیر بحث آ گیا ہے۔ اس اراضی کی تخمینی مارکیٹ مالیت 76 ارب سے 218 ارب روپے تک بتائی گئی ہے، جبکہ موجودہ کرایے کے حساب سے کلب تقریباً 417 روپے ماہانہ ادا کر رہا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے لیز کی شرائط، کرایے کے تعین اور سرکاری محکموں کی نگرانی پر سوالات اٹھاتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

مئی 2024 میں پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا پیش ہونے کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ لاہور جم خانہ کلب ماہانہ صرف 417 روپے کرایہ ادا کرتا ہے۔ اس کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی نے معاملے کی تصدیق کی ہدایت دی اور تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی نمبر 6 قائم کی گئی۔ تاہم ستمبر 2024 کے بعد کمیٹی کے اجلاسوں میں وقفے آنے پر اسمبلی ارکان نے تنقید کی۔ جنوری 2025 میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان بھی اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ کلب سے بقایا جات وصول کیے جائیں یا اس کی لیز مارکیٹ ریٹ کے مطابق مقرر کی جائے۔

رپورٹ کے مطابق 20 اور 21 اکتوبر 2026 کو رکن پنجاب اسمبلی سمیع اللہ خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاسوں میں سوال اٹھایا گیا کہ بورڈ آف ریونیو نے اتنی قیمتی اراضی کا سالانہ کرایہ محض 5 ہزار روپے کس بنیاد پر مقرر کیا۔ کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ یا تو کرایے کی نئی شرح مقرر کی جائے گی یا پھر سالانہ 5 ہزار روپے بھی معاف کرکے پوری اراضی کلب کے حوالے کرنے کے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ موجودہ کرایے کے حساب سے فی ایکڑ سالانہ رقم تقریباً 44 روپے بنتی ہے۔

اجلاس میں لاہور جم خانہ کلب کے چیئرمین سلمان صدیق نے بھی تسلیم کیا کہ موجودہ کرایہ ناکافی ہے۔ ان کے مطابق کلب نے رواں سال 19 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا ہے اور اگر کمیٹی کرایہ بڑھانے کا فیصلہ کرتی ہے تو کلب اضافی رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کلب کی مالی حالت 1990 کی دہائی کے مقابلے میں بہتر ہے اور اسے کم از کم ایک کروڑ روپے سالانہ کرایہ ادا کرنا چاہیے۔

کمیٹی ارکان نے اس معاملے کو سرکاری اراضی کے استعمال اور نگرانی سے متعلق اہم سوال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک جانب تجاوزات کے خلاف کارروائیوں میں عام دکانداروں اور چھوٹے تاجروں سے سرکاری زمین واگزار کرائی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایک بڑے کلب کو انتہائی کم کرایے پر وسیع اراضی حاصل ہے۔ کمیٹی نے بورڈ آف ریونیو، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں کو تمام ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس معاملے میں ایک اور اہم پہلو لاہور جم خانہ کی لیز کی تاریخ اور قانونی حیثیت ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2023 میں متعارف کرائی گئی نئی جم خانہ پالیسی کے تحت دیگر کلبوں سے مارکیٹ ریٹ کے 10 فیصد کے برابر کرایہ وصول کیا جاتا ہے، لیکن لاہور جم خانہ کو پرانی لیز کی وجہ سے اس پالیسی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ کمیٹی اس استثنا اور موجودہ معاہدے کی قانونی بنیاد کا جائزہ لے رہی ہے۔

اسی دوران باغ جناح میں واقع 6 ایکڑ پر مشتمل کرکٹ گراؤنڈ کی لیز کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جو مبینہ طور پر سالانہ صرف 900 روپے کرایے پر 2069 تک دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ لیز 1996 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار محمد عارف نکئی کی زبانی ہدایت پر طے کی گئی تھی۔ بورڈ آف ریونیو کے ممبر کالونیز نے کمیٹی کو بتایا کہ لیز کے وقت مناسب قدر کے تعین اور قانونی اصولوں کو نظرانداز کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق سابقہ لیز کی مدت ختم ہونے سے 4 سال پہلے ہی اس کی تجدید کر دی گئی تھی، جبکہ نئی لیز 2000 سے 2050 تک مؤثر تھی۔

معاہدے کے تحت جم خانہ کلب کو عوامی شعبے میں سہولیات فراہم کرنے کا پابند بھی بنایا گیا تھا، تاہم رپورٹ کے مطابق کلب کی رکنیت زیادہ تر اعلیٰ سرکاری افسران اور بیوروکریسی تک محدود رہی۔ اس پہلو پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ سرکاری اراضی پر قائم ادارے کو عوامی مفاد میں خدمات فراہم کرنے کی شرائط پر کس حد تک عمل درآمد کا پابند بنایا گیا۔

مزید تحقیقات کے لیے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی سربراہی میں حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں بورڈ آف ریونیو، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، محکمہ قانون، محکمہ زراعت اور ڈپٹی کمشنر کے نمائندے شامل ہیں۔ کمیٹی کو 10 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ کلب کے ریسٹورنٹس اور دکانوں سے متعلق ٹیکس اور آڈٹ، تعمیرات کی منظوریوں اور سرکاری گرانٹس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے کلب کے کمرشل آڈٹ کا معاملہ عدالتوں میں زیر التوا ہے۔

کمیٹی ارکان نے زیر بحث اراضی کو عوامی پارک یا دیگر فلاحی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ تاہم حتمی فیصلہ لیز کے قانونی جواز، متعلقہ ریکارڈ اور حقائق کی جانچ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ اس معاملے کا بنیادی سوال یہی ہے کہ اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کا کرایہ کئی دہائیوں تک اتنا کم کیوں برقرار رہا، اور اس کے تعین اور نگرانی کے ذمہ دار محکموں نے اس عرصے میں کیا اقدامات کیے۔

Back to top button