نئے صوبوں کے قیام پر سیاسی جماعتوں میں اتنی تقسیم کیوں؟

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس بات پر تو متفق دکھائی دیتی ہیں کہ صوبائی اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے چاہییں، لیکن صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر ان کے مؤقف مختلف ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نئے انتظامی یونٹس کی نمایاں حامی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے بیانات میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نئے صوبوں کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی طریقۂ کار کو ضروری قرار دیتی ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام اصولی حمایت کے باوجود موجودہ حالات کو سازگار نہیں سمجھتی۔ اس بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ نئے صوبے انتظامی مسائل کا حل ثابت ہوں گے یا بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام زیادہ مؤثر راستہ فراہم کر سکتا ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو حاصل ہونے والے اختیارات مقامی حکومتوں تک مؤثر انداز میں منتقل نہیں ہوئے۔ ناقدین کے مطابق، صوبائی حکومتوں کی جانب سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 140-اے کی روح کے منافی ہے۔ نئے صوبوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بڑے ہیں، جس سے انتظامی امور اور وسائل کی منصفانہ تقسیم مشکل ہوتی ہے۔ تاہم، مخالفین سوال اٹھاتے ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام پر بھاری اخراجات کے باوجود اگر مقامی حکومتوں کو بااختیار نہ بنایا گیا تو عام شہریوں کو کیا فائدہ ہوگا؟
سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف نمایاں طور پر سندھ کی تقسیم کے خلاف ہے۔ سندھ اسمبلی میں بھی صوبے کی تقسیم کو ناقابلِ قبول قرار دینے کی قرارداد منظور کی جا چکی ہے۔ تاہم، پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ سمیت بعض رہنما یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ملک کے کسی بھی حصے میں عوام نئے صوبے کا مطالبہ کریں تو جماعت اس کی حمایت کرے گی۔ یوں پارٹی کے قومی سطح کے بعض بیانات اور سندھ سے متعلق اس کے سیاسی مؤقف کے درمیان فرق بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نئے صوبوں کے قیام کی زیادہ واضح حامی ہے۔ اس کے رہنما فاروق ستار نے تجویز دی ہے کہ ڈویژنوں کی بنیاد پر نئے صوبے بنائے جائیں تاکہ وسائل اور فنڈز کی تقسیم زیادہ منصفانہ ہو سکے۔ ایم کیو ایم کے مؤقف کے مطابق، انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھانے سے اختیارات اور وسائل کی تقسیم بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر نئے صوبوں کے معاملے پر مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پنجاب کی مزید تقسیم کی مخالفت کر چکی ہیں، جبکہ خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ اگر صوبوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا جائے تو اس اصول کا اطلاق تمام صوبوں پر یکساں ہونا چاہیے۔ رانا ثنااللہ کے مطابق، نئے صوبوں کا معاملہ پارلیمان میں زیرِ بحث آنا چاہیے اور اس حوالے سے کوئی باقاعدہ بل پیش کیے جانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے حامی ہیں اور پیپلز پارٹی کے سندھ سے متعلق مؤقف پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزیر اویس لغاری جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کے قیام کو جماعت کے منشور کا حصہ قرار دے چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نئے صوبے لسانی یا نسلی بنیادوں کے بجائے انتظامی اصولوں کے تحت قائم کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے 2 ستمبر 2026 کو اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بحث شروع کرنے کی تجویز جماعت کے اندر پیش کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں بھی نئے صوبوں کے معاملے پر ایک متفقہ اور غیر مبہم مؤقف سامنے نہیں آیا۔
پاکستان تحریک انصاف نئے صوبوں کی ضرورت کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتی، تاہم اس کے رہنما سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی طریقۂ کار پر زور دیتے ہیں۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق، نئے صوبوں کے قیام کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور متعلقہ اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر کمیشن بنانے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی تجویز بھی دی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما جنید اکبر کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے بارے میں فیصلہ منتخب پارلیمان کو آئین کے مطابق کرنا چاہیے، جبکہ سہیل آفریدی نے عمران خان کی منظوری کے بغیر اس نوعیت کی کوشش کی حمایت نہ کرنے اور سندھ کے عوام کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے قیام کا آئینی طریقۂ کار تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی اس مجوزہ ترمیم کی بھی مخالفت کرے گی۔ تاہم، نئے صوبوں کے قیام کے اصول، ان کے لیے آئینی طریقۂ کار اور کسی مخصوص مجوزہ ترمیم کی مخالفت الگ الگ معاملات ہیں، جن پر سیاسی جماعتوں کے مؤقف کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نئے صوبوں کے قیام کے اصولی مخالف نہیں، لیکن ان کے نزدیک موجودہ حالات میں صوبوں کی تقسیم کے لیے نہ مناسب سیاسی ماحول موجود ہے اور نہ ہی ضروری تیاری کی گئی ہے۔ ان کا مؤقف اس بحث میں ایک درمیانی راستے کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں نئے صوبوں کے امکان کو رد کرنے کے بجائے ان کے قیام کے لیے موزوں حالات اور تیاری کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر، نئے صوبوں کے معاملے میں سیاسی جماعتوں کے اختلافات صرف انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ ان میں صوبائی شناخت، وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی اور مستقبل کے اقتدار کے سوالات بھی شامل ہیں۔ نئے صوبے بنانے کے لیے آئینی تقاضوں اور سیاسی اتفاقِ رائے کے ساتھ یہ طے کرنا بھی ضروری ہوگا کہ ان سے انتظامی کارکردگی اور عوامی سہولت میں حقیقی بہتری کیسے آئے گی۔ اگر مقامی حکومتوں کو مؤثر اختیارات اور وسائل فراہم نہ کیے گئے تو صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عوامی مسائل حل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
