پاکستان ہمیشہ زندہ باد!

تحریر:حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ

میری دلی خواہش ہے کہ حکمران جب پاکستان کا نعرہ بلندکریں تو وطنی طول و عرض سے ” ہمیشہ زندہ باد ” کا فلک شگاف جواب ملے ۔ اے اہل اقتدار ! عوام الناس کی نبض پر ہاتھ رکھو ، مرجع خلائق عوام سے تعلق بناؤ کہ خلقت خدا آپ ہی کا اثاثہ ہے ۔ سمجھانا مشکل ہے ، ” مضبوط سیاست ” عوام الناس کے دلوںپرراج کرنے سے ہے ، اقتدار سے چمٹے رہنے سے نہیں ۔ ماضی بعید کو چھوڑیں ، ماضی قریب میں مملکت خداداد کے کتنے صدور اور کتنے وزرائے اعظم ہونگے جنکے ناموں سے آج کی نسل متعارف ہوگی۔ جن لوگوں کی سیاست مضبوط رہی ، اگرچہ وہ منوں مٹی تلے دبے ہیں تو سیاسی محفلوں اور گپ شپ میں زندہ موجود ہیں۔ کمزور سیاست میں جابر حکمران ہونے کے باوجود نام و نشان سے محروم رہتے ہیں ۔ حکمرانوں سے درمندانہ التجا ،میرا وطیرہ رہا ہے کہ عوام الناس کے دل جیتیں ، مرجع خلائق بنیں ۔ مقبولیت کمزوریوں کو چھپاتی ہے ، آپ کے بہت سے گناہ بھی دُھل جاتے ہیں۔

27 اکتوبر کو جب ایوب خان نے مارشل لا لگایا تو لوگوں کی کثیر تعداد نے تالیاں بجائیں ، بھرپور استقبال کیا ۔ شروع ہی سے خوشحالی کے دروازے کھل گئے ، ملکی تاریخ کا پہلا ترقیاتی دور ، پہلی دفعہ ترقیاتی منصوبے بنے اور شروع ہوئے ۔ چند سال ایوب خان کے اقتدار کے شادیانے چارسُو بجتے رہے ۔ ایوب خان اپنے آپ کو حقی سچی مقبول رہنما سمجھ بیٹھے ، عمومی تاثر کہ ایوب خان نے اپنے آپکو منوا لیاہے ۔ ایک مقبول رہنما ہیں ، لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں ۔ چنانچہ 1964 میں انہوں نے جب صدارتی انتخابات کروائے تو اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھانے کا سوچا ، قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح ( مادرِملت ) جب مدمقابل آئیں تو مقبولیت کا عقدہ کھلا کہ جناب عوام الناس میں فارغ ہیں ۔ اگرچہ دھونس دھاندلی سے 2 جنوری 1965 کے الیکشن جیت گئے ، ( جو ایک الگ داستان ہے ) ۔ مقبولیت کا پول کھلا تو جنرل ایوب خان کو اقتدار کو طول دینے کیلئے بھارت سے جنگ لڑنی پڑی ۔ پوری قوم کو بھارت خلاف جیت سے سرشار رکھا ۔ یوں ایک ڈیڑھ سال مزید خودفریبی نے ایوب خان کو حقائق سے دور رکھا ۔ 1967 سے ایوب خان کیخلاف آوازیں اُٹھنا شروع ہوئیں اور 1968 میں انکے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن اور مغربی پاکستان میں نمایاں بھٹو صاحب ، مولانا مودودی ، عبدالولی خان جیسے قائدین نے احتجاجی مظاہروں کی قیادت سنبھال لی ۔ چند ماہ بعد ایوب خان اقتدار سے باہر ، یہ سمجھنے سے قاصر کہ میرا 10 سالہ ترقیاتی جشن کیونکر سوگ میں منتقل ہوگیا ۔ بالآخر جب اقتدار سے محروم ہوئے تو آخری دم تک اس بات سے ناواقف تھے کہ عوام الناس انکو عرصہ دراز سے رَد کر چکے تھے ۔ وفات سے چند ماہ پہلے ، جنوری 1974 میں انکے گھر ملاقات ہوئی تو باتیں اور بھی اہم کہ افسردگی کی چھاپ چہرے پر نمایاں ، شاکی تھے کہ بھرپور عوامی حمایت سے میں محروم کیسے ہوا ؟

اگرچہ ذوالفقار بھٹو صاحب کی مثال میرے آج کے موضوع میں پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتی ۔ بوجوہ ایک خاص پہلو زیربحث لانی ہے ۔ مسند اقتدار پر بیٹھے تو بھٹو صاحب کی مقبولیت ساتویں آسماں پر تھی ۔ اگرچہ انکے مقابلہ میں دائیں بازو کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کی عددی لحاظ سے حمائت بھٹو صاحب سے کہیں زیادہ تھی ۔ 1970 کے الیکشن کیمطابق 32 فیصد عوام بھٹو صاحب کے سحر میں مبتلا تھے جبکہ مخالفت میں 48 فیصد تھے ۔ مگر بھٹو مخالف عوام الناس میں قومی قیادت کا فقدان تھا ۔ زیرک ، ذی فہم بھٹو نے اسکو اپنی طاقت جانا اور کسی ڈکٹیٹر کی طرح اپنے آپکو بطور تاحیات حکمران ، خواب دیکھنا شروع کر دیئے ۔ خبط عظمت ہمیشہ سے موجود تھا ، گراوٹ کا پہلا زینہ زُعم اور بڑائی ہے ۔ اسی زعم میں انتخابات کا سوچا ، 7 مارچ 1977 کا وہ بدقسمت دن جب ایسے قومی انتخابات منعقد کرائے کہ RTS اور فارم 47 بھی شرمندہ ہو جائیں ۔ مصر کی طرز پربھٹو صاحب نے 100 فیصد نتائج حاصل کرنے کیلئے تن من دھن لگا دیا ۔ بھول گئے کہ پاکستانی عوام ،مصری نہیں ہیں ۔ ٹھیک 7 دن بعد ، 14 مارچ 1977کو بھٹو صاحب کیخلاف تاریخی تحریک شروع ہوئی ، مگر بدقسمتی سے تحریک ایک مقبول قومی قیادت سے محروم تھی چنانچہ تحریک کامیاب ہوئی تو جنرل ضیاء الحق صاحب کے کام آئی ۔ اچنبھے کی بات اسلئے نہیں کہ جنرل ضیاء الحق چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہونے کے باوجود عوام میں اسلئے مقبول تھے کہ دائیں بازو کی اکثریتی سپورٹ طشتری میں مل گئی ۔ دائیں بازو کے عوام کو بھٹو کے مقابلہ میں ایک لیڈر مل گیا ۔ ضیاء الحق کی عوامی مقبولیت اور پذیرائی ، ایک علیحدہ موضوع اور مکمل سائنس ہے ۔ کسی اور موقع پر اسکا زائچہ بنائیں گے۔

یہاں مجھے ایک ہی بات کرنی تھی کہ بھٹو صاحب کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ انکی مقبولیت کے سامنے کسی طور عوام الناس سڑکوں پر آئیں گے اور مقبول پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیں گے بلکہ ٹھکانے لگائینگے ، اس تحریک کاا عجاز کہ بالآخر بھٹو صاحب اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ بنفس نفیس اپنا مشاہدہ بتانا ہے کہ 14 مارچ 1977 سے پہلے میں قائل تھا کہ بھٹو صاحب کیخلاف شاید چند درجن لوگ بھی سڑکوں پر نہیں نکلیں گے مگر لوگ نکلے جو بالآخر بھٹو صاحب کا تختہ الٹنے میں کام آ گئے ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، جنرل مشرف صاحب کا طوطی بولتا تھا ۔ انکے دونوں بڑے سیاسی مخالف نواز شریف اور بینظیر بھٹو جلاوطنی میں تھے ۔ جبکہ تاحدِ نگاہ کسی مخالف تحریک کا نام و نشان موجود نہیں تھا ۔ نواز شریف ایک تضحیک آمیز معاہدہ کرکے سعودی عرب میں سکونت اختیار کر چکے تھے ۔ ایسا لگتا تھا کہ نواز شریف صاحب نے اپنی آخری آرامگاہ سعودی عرب کو چُن لیا ہے ۔ جبکہ بینظیر بھٹو صاحبہ گرفتار ہونے کی بجائے برطانیہ میں آزاد زندگی گزارنے کیلئے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر چکی تھیں ۔ وطنی طول و عرض میں جنرل مشرف کی مخالفت میں دور نزدیک کہیں معمولی سے کمتر آواز موجود نہیں تھی ۔ 2007 تک راوی چین لکھ رہا تھا کہ ہمارے جنرل صاحب نے بغیر کسی وجہ ، ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی اور زُعم میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری صاحب کو طلب کیا اور انھیں مستعفی ہونے کا حکم دیا ۔ باقاعدہ اہتمام کیساتھ افتخار چوہدری کو جنرل مشرف کے سامنے دوزانو بیٹھنے کی تصویر قومی میڈیا پر نشر کروائی ۔ اس ایک تصویر کو اُمت مسلمہ کی پاکستانی شاخ نے اپنے دل پر لے لیا اور ملک میں ایک طوفان برپا ہو گیا ۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری قومی ہیرو بن کر کراچی تا چترال لوگوں کے دلوں کی آواز بن کر ایک خوفناک احتجاجی تحریک کے سرخیل بنے ، اور وہ تحریک جنرل مشرف کے اقتدار کی جڑوں میں بیٹھ گئی ۔ مثالیں اور بھی مگر ان تین مثالوں میں ایک قدر مشترک ہے ، میں تینوں تحریکوں کا عینی شاہد ہوں اور ان تحریکوں میں باقاعدہ لمحہ بہ لمحہ سڑکوں پر موجود رہا ۔ ہر بار شروع میں آوازیں ، وطن عزیز میں چاروں طرف ایک ہی چرچا کہ عوام سڑکوں پر نہیں نکلتے اور پھر یکدم جب عوام نکلے تو سامنے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔

میرے محترم وزیراعظم صاحب ! عوام کی نبض پر ہاتھ رکھیں اور آنکھیں کھولیں ، عوام آپ سے روٹھے نظر آتے ہیں ۔ اپنے مستقبل کا انحصار فارم 47 یا RTSپر ہرگز نہ رکھیں ۔ میری خواہش ہے کہ جب آپ ’’پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند کریں تو کراچی تا خیبر تا چترال جواب ” ہمیشہ زندہ باد ” کے فلک شگاف نعروں میں آئے۔

Back to top button