سہیل آفریدی شاہی مہمان ہیں یا خفیہ ایجنسی کے پاس؟

 

 

 

 

خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی پراسرار گمشدگی کے 12 روز بعد بھی انکا سراغ نہیں مل سکا، تاہم آفریدی کو پشاور کے تاریخی شاہی مہمان خانے میں رکھے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ آفریدی کو ایک انٹیلیجنس ایجنسی کے دفتر میں رکھا گیا ہے۔

 

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق، سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے 13 اکتوبر کو پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی رات مسلح اور نقاب پوش افراد سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے لے گئے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکام ان کا سراغ لگائیں اور اگر وہ سرکاری تحویل میں ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ حراست کی قانونی حیثیت کا تعین ہو سکے۔ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ واقعے سے متعلق سکیورٹی انتظامات، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ریکارڈ کی جانچ کی جائے۔

 

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل بشیر وزیر نے عدالت کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق سہیل آفریدی کو دو ممکنہ مقامات میں سے کسی ایک پر رکھا گیا ہے، جن میں شاہی مہمان خانہ بھی شامل ہے۔ یہ عمارت پشاور کینٹونمنٹ میں گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے قریب واقع ہے اور برطانوی دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ رائل گیسٹ ہاؤس کے نام سے بھی معروف اس عمارت کو سرکاری مہمانوں کی رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، جبکہ اگست 2019 میں اسے قبائلی اضلاع سے منتخب ارکان صوبائی اسمبلی کی رہائش کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کے حوالے کیا گیا تھا۔

 

شاہی مہمان خانے کا نام سامنے آنے کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا سہیل آفریدی کو کسی سرکاری مہمان خانے میں رکھا گیا ہے یا کسی خفیہ ایجنسی کے دفتر میں۔ جیو نیوز نے 14 اکتوبر کو ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ سہیل آفریدی، جنید اکبر اور بعض دوسرے پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایک نامعلوم مقام پر اکٹھا رکھا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کے مطابق، سہیل آفریدی، جنید اکبر، بابر سلیم سواتی اور گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو پشاور سے تحویل میں لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، خالد خورشید کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، تاہم دیگر رہنماؤں کے مقام کے بارے میں انہیں معلومات نہیں تھیں۔

 

دوسری جانب گورنر راج کے بعد قائم ایڈوائزری کونسل کی رکن ثمر ہارون بلور نے بتایا ہے کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر حفاظتی تحویل میں ہیں، محفوظ ہیں اور اہل خانہ سے رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق حالات بہتر ہونے پر انہیں منظر عام پر لایا جائے گا، تاہم انہوں نے بھی ان کی موجودہ جگہ کی نشاندہی نہیں کی۔ قانونی ماہرین کے مطابق، حکومت کسی شخص کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر کی دفعہ 3 کے تحت مقررہ شرائط کے مطابق احتیاطی تحویل میں رکھ سکتی ہے، لیکن اس کے لیے قانونی اختیار اور طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 10 گرفتاری اور حراست سے متعلق بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے، جبکہ ہائی کورٹ کو آرٹیکل 199 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی حدود میں زیر حراست شخص کو پیش کرنے کا حکم دے تاکہ حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔

 

پشاور ہائی کورٹ نے 20 اکتوبر کو سماعت کے دوران متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا، جبکہ 21 اکتوبر کو جاری تحریری حکم کے مطابق آئی جی پولیس، سی سی پی او، چیف سیکریٹری اور ہوم سیکریٹری کو سہیل آفریدی کے مقام اور قانونی حیثیت سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت نے حکام سے یہ وضاحت بھی طلب کی کہ آیا سہیل آفریدی کو گرفتار کیا گیا ہے یا کسی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ عدالت نے ان کی حراست کو قانونی یا غیر قانونی قرار دینے کا حتمی فیصلہ نہیں دیا اور مزید سماعت 3 نومبر کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

PTIکی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے68 اراکین اسمبلی کون؟

سہیل آفریدی کے معاملے میں اب بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ انہیں شاہی مہمان خانے، کسی ایجنسی کے دفتر یا کسی دوسرے مقام پر رکھا گیا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کی تحویل کی ذمہ داری کس ادارے کے پاس ہے اور اس کی قانونی بنیاد کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے انہیں محفوظ قرار دیے جانے کے باوجود ان کے مقام کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی، جبکہ اہل خانہ نے عدالت سے ان کی بازیابی اور پیشی کی درخواست کر رکھی ہے۔ اب پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ حکام ان کی موجودگی، حراست کی وجوہات اور قانونی حیثیت کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔

Back to top button